فتوحات دولت اسلامیہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

فتوحات دولت اسلامیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 4

اس کی دلیل یہ ہے کہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم نہ صرف یہ کہ ان فتوحات میں شریک رہے بلکہ وہ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی ترغیب بھی دلاتے رہے جس کی حوادثات جہاد اور جنگی محاذوں پر امویوں کی کوششوں سے وضاحت ہوتی ہے؛ مثلاً رومی محاذ جہاں مجاہدین اسلام کو شجاعت و دلیری کے جوہر دکھانے کا موقع ملتا تھا وہ بیت المال پر ایک بوجھ تھا اس لیے کہ وہاں کے حملوں میں کوئی خاص پیش قدمی نہیں ہو رہی تھی،

(الفتوحات بین دوافعہاد الاسلامیۃ و دعاوی المستشرقین: صفحہ 78)

خصوصاً جب ہم قسطنطنیہ پر ان تین بڑے حملوں کا ذکر کرتے ہیں جن پر بڑے بھاری اخراجات اٹھے تھے۔

(الدولۃ الامویۃ: یوسف العیشی: صفحہ 346)

اموی عہد حکومت کے مجاہدین نے قربانی، شجاعت بہادری اور اخلاص نیت کے بڑے خوبصورت اور یادگار واقعات چھوڑے۔ ان مجاہدین کا تعلق قائدین اور امراء کے ساتھ ہو یا عام سپاہ اسلام کے ساتھ، یا ان کا شمار علماء و زاہدین کی جماعتوں کے ساتھ جنہوں نے عبادتِ جہاد کا فہم حاصل کیا اور پھر عملاً اس میں حصہ لیا۔ اخلاص و نیک نیتی اور قربانی کے یہ واقعات تمام جہادی محاذوں پر اور جہاد کے تمام مراحل میں دیکھے جا سکتے ہیں اور یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ عہد اموی میں اسلامی فتوحات کے دوران مسلمانوں کے دلوں میں اسلامی جذبہ بڑا گہرا تھا اور اس سے ان شکوک و شبہات کی نفی ہوتی ہے جسے منحرفین بنوامیہ کے ان افعال کے بارے میں پیدا کرتے ہیں جن کا شمار ان کے قابل فخر کارناموں میں ہوتا ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اموی عہد حکومت میں فتوحات پر اسلامی رنگ غالب تھا۔

اس دور کی فتوحات کی تحریک کا تاریخی اور آخری نتیجہ یہ تھا کہ عالم اسلام دور دراز علاقوں تک پھیل گیا جس دوران اس نے زمین بھی کمائی اور انسان بھی، اور ساتھ ہی ساتھ فتوحات کی اس تحریک کی پہلی لہر کی کامیابیوں کو محفوظ بنا لیا جس کی قیادت خلفائے راشدینؓ نے کی تھی۔ فتوحات کی دوسری لہر کا آغاز خود سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں ہوا، بعد ازاں یہ تسلسل کے ساتھ جاری رہیں یہاں تک کہ ولید کے عہد حکومت میں اپنی وسعتوں کی انتہاء کو پہنچ گئیں۔

(فی التاصیل الاسلامی للتاریخ: صفحہ 92، 93 )


صفحہ 4 از 4