بیزنطی حکومت کے خلاف تحریک جہاد
علی محمد الصلابیسیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے میں ان کے لیے سب سے بڑا خطرہ بیزنطی حکومت تھی، اگرچہ دولت بیزنطیہ مشرق میں شام اور مصر جیسے اہم ترین صوبوں سے محروم ہو چکی تھی مگر اس کا جسم ابھی تک صحیح و سالم تھا، اس کا دار الحکومت باقی تھا، اس میں مقابلے کی بے پناہ طاقت موجود تھی اور ابھی تک وہ مسلمانوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے باز نہیں آئی تھی، المختصر مسلمانوں کی اصل دشمن یہی حکومت تھی جو ایک بہت بڑے خطرے کی صورت میں ان کے سامنے کھڑی تھی۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس خطرے سے بخوبی آگاہ بھی تھے اور وہ اس کا مقابلہ کرنے کی پوری پوری قدرت بھی رکھتے تھے۔ وہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں فتوحات کے آغاز سے ہی شام میں موجود تھے اور وہ تقریباً بیس سال تک اس کے والی رہے تھے۔ شام میں عرصہ دراز تک قیام کی وجہ سے انہیں بیزنطیوں کے احوال و ظروف، ان کی سیاست اور ان کے اہداف کا وسیع تجربہ حاصل ہو گیا تھا جس نے انہیں ان کے ساتھ معاملہ کرنے کی کیفیت سے آگاہ ہونے میں بڑی مدد دی۔ یہی وہ وجوہات تھیں جن کی ہم دیکھتے ہیں کہ انہوں نے دولت بیزنطیہ کے ساتھ اپنی حدود اور تعلقات کو بڑی اہمیت دی اور اس کے لیے ایسا واضح سیاسی منصوبہ وضع کیا جس پر وہ خود اور ان کے بعد ان کے اموی خلفاء اپنی حکومت کے اختتام تک گامزن رہے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے بنیادی مقاصد میں اہم ترین مقصد ان کے دار الحکومت قسطنطنیہ پر غلبہ حاصل کرنا تھا۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 241)