قسطنطنیہ پر قبضہ جمانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ…

قسطنطنیہ پر قبضہ جمانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

ثانیاً: قسطنطنیہ پر قبضہ جمانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اس امر کے خواہش مند تھے کہ پیش قدمی کی باگ ڈور ہمیشہ ان کے ہاتھ میں رہے اس لیے کہ وہی بحر متوسط کے جزائر کو افرادی قوت اور سامان حرب و ضرب فراہم کرنے اور وہاں کے رہنے والوں کو مصر اور شام کے ساحل پر حملہ آور ہونے کے لیے ان کی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے، انہوں نے اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے کئی پہلوؤں پر کام کرنا شروع کیا:

۱1 مصر اور شام میں کشتی سازی کے کارخانے قائم کرنا اور ان میں کام کرنے کے لیے اس فن کے ماہر ترین لوگوں کا انتخاب کرنا، انہیں بھاری تنخواہیں ادا کرنا اور ضروری ساز و سامان فراہم کرنا تاکہ وہ انتھک محنت کر کے اس کام کو آگے بڑھا سکیں۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 245)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی عسکری حِس اور قائدانہ فکر و نظر کی وجہ سے اس بات کا پورا پورا ادراک تھا کہ رومیوں کے ساتھ مسلمانوں کے معرکوں کا انحصار بحری بیڑے پر ہے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ احساس اس وقت مزید گہرا ہو گیا جب رومیوں نے پانچ سو سے زیادہ کشتیاں اسلامی بحری بیڑے کو نیچا دکھانے کے لیے ذات الصواری کے معرکہ میں جھونک دیں۔ اگرچہ رومیوں کو اس معرکہ میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا مگر وہ جنگی تیاریوں سے باز نہ آئے اور نہ ہی مسلمانوں کی بحری قوت کا سامنا کرنے کے لیے اپنی قوتوں کو جمع کرنے سے ہاتھ کھینچا۔ ان کا خیال تھا کہ چونکہ ابھی تک مسلمانوں کی بحری قوت تیاری کے ابتدائی مراحل میں ہے، لہٰذا ان کے لیے اس کا خاتمہ کرنا ممکن ہے، لہٰذا اب وہ توقع کرنے لگے تھے کہ مسلمانوں کے ساتھ آئندہ معرکہ دار الحکومت قسطنطنیہ کی دیواروں پر ہو گا، لہٰذا وہ اس کے لیے تیاری کرنے لگے۔

(الامویون: محمد سید الوکیل: جلد 1 صفحہ 154)

کشتی سازی کے لیے مصر اور شام کے باہمی تعاون کے بڑے اچھے نتائج برآمد ہوئے، شام میں کشتیاں تیار کرنے کے لیے انتہائی موزوں صنوبر، شاہ بلوط اور عرعر کی لکڑی وافر مقدار میں پائی جاتی تھی، جبکہ مصر میں جبیز، لہخ اور دوم نامی درخت بڑی کثرت سے پائے جاتے تھے جن کی لکڑی کشتیوں کے مختلف حصوں میں استعمال ہوتی تھی۔

(تاریخ الدولۃ العربیۃ: صفحہ 312)

مصر، شام اور یمن میں لوہے کی کانیں بکثرت پائی جاتی تھیں، ان سے نکلنے والا لوہا کشتی سازی میں استعمال ہونے والی لوہے کی مختلف چیزیں بنانے میں استعمال کیا گیا، مصر میں موجود گندھک کے بڑے بڑے ذخائر تھے جسے اس صنعت کے لیے کام میں لایا گیا، الغرض مصر اور شام کے باہم تعاون نے اسلامی بحریہ کو ترقی دینے میں بڑا اہم کردار ادا کیا جس کی اہمیت اس وقت اور بڑھ گئی جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے 54 ھ (العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 246)

میں مسلمہ بن مخلد انصاری کو جزیرہ روضہ میں کشتی سازی کا کارخانہ قائم کرنے کا حکم دیا، یہ بیزنطیوں کی طرف سے مصر پر کیے گئے حملے کے بعد کی بات ہے۔

(کتاب الولاۃ و القضاۃ لکندی: صفحہ 38)

2۔ مصر اور شام میں بحری سرحدوں کو مضبوط بنانا:

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ساحلی شہروں کو محفوظ بنایا اور انہیں جہادی قوتوں سے اس طرح مضبوط مراکز میں تبدیل کر دیا کہ ان سے بحری افواج ایک جگہ سے دوسری جگہ جہاں چاہیں آزادانہ نقل و حرکت کر سکیں۔ انہوں نے ان شہروں کے لیے ایسا نظام وضع کیا جسے رباط کے نام سے جانا جاتا تھا، اس سے مقصود ایسے مقامات تھے جہاں دشمن کی سرزمین پر حملہ آور ہونے کے لیے لشکر جمع ہوا کرتے تھے انہوں نے اس نظام میں اس قدر دلچسپی لی کہ اس کا جہاد کے ساتھ بڑا گہرا ربط و ضبط پیدا ہو گیا اور وہ جہاد ہی کا ایک حصہ قرار پایا اور اسلام کے لیے تڑپ رکھنے والے اور اس کی نصرت و معاونت کے لیے بے قراری کے ساتھ عمل کرنے والے مجاہدین اس کی طرف کھنچے چلے آتے۔

(الامویوں و البیزنطیون: صفحہ 68) 

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے دیگر اعمال کی طرح نظام رباط کو بھی بتدریج آگے بڑھایا اور پھر رباط کو ایسے قلعوں میں تبدیل کر دیا جن میں لشکری بیزنطی بحری بیڑوں سے ان کے حملوں کی زد میں آنے والے علاقوں کا دفاع کرنے کے لیے جمع ہوتے۔ یہ رباط ساحلی علاقوں کے باشندوں کے لیے اس وقت پناہ گاہوں کا بھی کام دیتے جب انہیں بیزنطی کشتیوں سے اپنے علاقے کے پانیوں میں کوئی خطرہ محسوس ہوتا۔ یہ رباطی قلعے لشکریوں کے لیے کمروں اور رہائش گاہوں کے ساتھ ساتھ اسلحہ اور سامان خورد و نوش کے سٹورز پر مشتمل ہوتے اور جن پر نگرانی کے لیے بلند و بالا مینار بھی قائم کیے گئے تھے۔ پھر ان میں مزید وسعت آئی اور ان کی اہمیت اس قدر بڑھ گئی کہ وہ دشمن پر حملہ کرنے کے مراکز میں تبدیل ہو گئے۔

(ایضاً: صفحہ 69)

ساحلی علاقوں میں لوگوں کو زمینوں کے عطیات دینے کی پالیسی کو جو کہ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بحری جنگی تیاریوں سے قبل تشکیل دی تھی، اسے بحری دفاعی سیاست کے آخری قدم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جس کی وجہ سے بحری اڈوں کی تکمیل ہوئی اور پھر ان میں بحری بیڑے تیار کیے جانے لگے۔ ساحلی شہروں کی آبادی اور ترقی کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 42ھ میں بعلبک، حمص اور انطاکیہ سے لوگ گروہ در گروہ اردن کے ساحلی شہروں صور اور عکا وغیرہ میں منتقل ہو گئے، اسی طرح سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان دونوں شہروں کے قلعوں کی بھی اصلاح کی اور خاص طور پر عکا کے قلعہ پر خصوصی توجہ دی جہاں سے نکل کر انہوں نے قبرص پر پہلا بحری حملہ کیا تھا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے تمام ساحلی شہروں کو خصوصی توجہ دی اور حالات و ضروریات کے مطابق ان کے لیے ضروری ترقیاتی اقدامات لیے۔

(ایضاً: صفحہ 70)

3۔ بحر متوسط کے مشرق میں واقع جزائر پر قبضہ:

صفحہ 1 از 2