قسطنطنیہ پر قبضہ جمانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ…

قسطنطنیہ پر قبضہ جمانے کے لیے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکمت عملی

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

اس کا آغاز جزیرہ قبرص پر قبضہ سے ہوا، پھر انہوں نے ایک دوسرے اہم جزیرہ پر قبضہ کر لیا جو کہ رودس کے نام سے معروف ہے، سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس جزیرہ پر قبضہ کرنے کے بعد اس میں قلعہ تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس کے دفاع کے لیے وہاں مسلمانوں کی ایک جماعت کو متعین کر دیا اور اسے رباط قرار دے کر انہیں شام کے دفاع کی ذمہ داری بھی تفویض کر دی۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے چاہا کہ رودس میں مسلمانوں کو دینی ماحول میں رنگ دیا جائے اور اس کے باسیوں میں اسلام کا پرچم بلند کیا جائے، چنانچہ انہوں نے اس مقصد کے لیے وہاں کے لوگوں کو قرآنی تعلیمات سے آشنا کروانے کے لیے مجاہد بن جبر رحمہ اللہ نامی عالم و فقیہ کو بھیجا جو لوگوں کو قرآن پڑھاتے تھے۔

(الامویون و البیزنطیون: صفحہ 81)

سیدنا امیر معاویہؓ کا پروگرام یہ تھا کہ بیزنطی بحری کشتیوں کا راستہ روکنے اور انہیں بلاد اسلامیہ تک رسائی سے روکنے کے لیے بحر ایجہ اور اس کی گزر گاہوں کو بند کر دیا جائے اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ان پر بحری جنگی حملوں کو مسلسل جاری رکھا جائے، انہوں نے اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بڑی اہمیت کے حامل جزیرہ کریت پر قبضہ جمانے سے قبل رودس کو فتح کرنے اور بیزنطی جنگی کشتیوں کو کھلے سمندر میں آنے سے باز رکھنے کے لیے ایک لشکر روانہ کیا مگر اس کے کمانڈر جنادہ بن امیہ ازدی اس پر فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے اور انہیں صرف اس پر حملہ آور ہونے، کچھ بیزنطیوں کو گرفتار کرنے اور علاقہ میں موجود کچھ جنگی کشتیوں کو قبضہ میں لینے پر ہی گزارا کرنا پڑا، البتہ اس سے معاویہ رضی اللہ عنہ بحر ابیض متوسط کی طرف مسلمانوں کی توجہ مبذول کرانے اور انہیں ان جزائر کی اہمیت سے آگاہ کرنے میں کامیاب رہے ان کے بحری بیڑے نے اس کے چند جزائر پر قبضہ جما لیا اور دیگر جزائر کے لیے خطرے کا الارم بجا دیا اور اپنے بعد آنے والے اموی خلفاء کے لیے راستہ ہموار کر دیا۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے لیے ایک ایسی بحری قوت کا بندوبست کر دیا تھا جو بحر ابیض متوسط پر بیزنطیوں کی قدیم اجارہ داری کو چیلنج کرنے کی پوزیشن میں تھی، پھر وہ اسے تاریخ کے اس اہم عمل و کردار کے لیے تیار کرنے لگے کہ بیزنطیوں کے دار الحکومت پر ضرب کاری لگاتے ہوئے اس پر قبضہ جما لیا جائے مگر انہیں اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے بیزنطیوں پر بحری برتری حاصل کرنے تک کے عرصہ کا انتظار کرنا پڑا۔

(الامویوں و البیزنطیون: صفحہ 82)

4۔ ان بحری جنگی تیاریوں سے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے شام کے شمال میں اسلامی اور بیزنطی حکومتوں کے درمیان سرحدی علاقوں کو مضبوط بنانا ازحد ضروری تھا اور یہ اس لیے کہ مسلمان خلفائے راشدینؓ کے عہد مسعود میں اپنی ابتدائی فتوحات کے دوران شمالی شام کے اطراف تک پہنچ گئے تھے مگر ان کی بیزنطی ایشیا صغریٰ تک طوروس کے پہاڑی سلسلہ نے روک دیا تھا۔ بیزنطیوں نے مسلمانوں سے پسپائی اختیار کرتے وقت حلب اور انطاکیہ کے شمال میں واقع علاقہ جات کو مسلمانوں کی طرف سے ان سے استفادہ کو روکنے کے لیے انہیں تباہ کر دیا اس طرح انہوں نے اسکندرونہ اور طورسوس کے درمیان واقع زیادہ قلعوں کو بھی ناقابل استعمال بنا دیا تھا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 194۔ العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 247)

دریں حالات سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان علاقوں کو نئے سرے سے تعمیر کرنے اور انہیں مضبوط بنانے میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا اور سب سے پہلے انطاکیہ کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا جسے ہمیشہ بیزنطیوں کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا، انہوں نے اس کی تعمیر و ترقی کے لیے وہی پالیسی اختیار کی جو انہوں نے شام کے ساحلی شہروں کے لیے اختیار کر رکھی تھی، چنانچہ انہوں نے لوگوں کو انطاکیہ میں آباد کرنے کے لیے انہیں رہائشی زمین دی، ان کے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے اس کے لیے مخصوص رباط کو مضبوط بنایا اور بیزنطیوں کی اراضی پر حملوں کے دوران اسکندرونہ اور طورسوس کے درمیان واقع شہروں کو بالتدریج تعمیر اور آباد کرنے لگے، انہوں نے اسلامی بیزنطی سرحدی علاقوں میں واقع اہم پناہ گاہوں پر اپنا قبضہ مستحکم کرنے کے لیے سمیاط اور ملطیہ پر قبضہ کر لیا، علاوہ ازیں مرعش اور حدث جیسے مزید قلعے تعمیر کیے اور پھر بڑی اہمیت کے حامل زبطرہ قلعہ پر بھی قبضہ کر لیا اور اسے نئے سرے سے مستحکم بنایا، (الامویون و البیزنطیون: صفحہ 110 نقلا عن العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 247)

سیدنا امیر معاویہؓ نے جہادی تحریک کو جاری رکھنے اور مسلم سپاہ کی عملی تربیت کے لیے سرحدی علاقوں کو میدان جنگ بنائے رکھنے اور اسے دشوار گزار پہاڑی راستوں پر چلنے کا عادی بنانے کے لیے مسلسل جنگ کی طرح ڈالی۔ یہ وہ فوجی نشاطات تھیں جنہیں موسم سرما اور موسم گرما کے غزوات کے نام سے یاد کیا جاتا تھا

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 284)

اور جن کا تذکرہ طبری اور دیگر مؤرخین بار بار کرتے نظر آتے ہیں۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 225)

یہ غازیان اسلامی دشمن کی سرزمین میں گھس کر اس کے حفاظتی انتظامات کو درہم برہم کر دیتے، مال غنیمت حاصل کرتے اور پھر واپس لوٹ آتے، ان کے ان پے درپے حملوں سے دشمن حکومت پر شدید دباؤ پڑتا، اس کے اعصاب کمزور پڑتے اور ان کی طاقت میں ضعف آتا،

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 248)

اس قسم کے مسلسل اور لگاتار حملوں نے ان عظیم اور مشہور مسلمان کمانڈروں کو جنم دیا جنہوں نے فن حرب و ضرب میں بڑا نام کمایا جن میں عبداللہ بن کرز بجلی، یزید بن شجرہ رہاوی، مالک بن ہبیرہ سکونی، جنادہ بن امیہ ازدی، سفیان بن عوف، فضالہ بن عبید (تاریخ طبری نقلا عن العالم الاسلامی: صفحہ 248)

اور مالک بن عبداللہ خثعمی روی اللہ عنھم قابل ذکر ہیں۔

(الامویون و البیزنطیون نقلا عن العالم الاسلام: صفحہ 248)

ان عظیم مسلمان جنگی کمانڈرز نے اعلائے کلمۃاللہ کے لیے بیزنطیوں کے خلاف جہاد میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں اور سرفروشی کی سنہری مثالیں قائم کیں۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 248)


صفحہ 2 از 2