Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قسطنطنیہ کا پہلا محاصرہ

  علی محمد الصلابی

ثالثاً: قسطنطنیہ کا پہلا محاصرہ

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے (47، 48ھ) کے دوران قسطنطنیہ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے بیزنطی سرزمین پر غارت گری کے لیے کئی لشکر بھیجے،

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 145۔ خلافۃ معاویۃ از عقیلی: صفحہ 108)

مالک بن ہبیرہؓ نے موسم سرما بیزنطی علاقے میں گزارا اور 49ھ بمطابق 669ء کو قسطنطنیہ شہر کا پہلا اسلامی محاصرہ دیکھنے میں آیا، سلطنت بیزنطیہ کے دو کمانڈروں سیلیوس اور میزیریوس کی اپنے حکمرانوں کے خلاف سرکشی نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو فضالہ بن عبید لیثیؓ اور سفیان بن عوف عامری کی قیادت میں بری اور بحری لشکر قسطنطنیہ بھیجنے پر اکسایا جہاں یزید بن شجرہ زہاوی (تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 148)

ان کی مدد کے لیے پہلے سے تیار بیٹھا تھا، اسلامی بحری بیڑے نے خلقیدونیہ پہنچ کر اس میں داخل ہونے کے لیے اس کا محاصرہ کر لیا مگر موسم سرما کی شدت اور اکثر فوجیوں کے چیچک میں مبتلا ہونے کی وجہ سے شہر کا محاصرہ کرنے والے لشکر کے لیے حالات انتہائی مشکل بنا دئیے گئے جس کی وجہ سے بری فوج کے کمانڈر فضالہ بن عبید لیثیؓ نے سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے مزید دستے بھجوانے کی درخواست کی تو اس کے جواب میں انہوں نے جو لشکر ادھر روانہ کیا اس میں کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے جن میں عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن زبیر، عبداللہ بن عمرو بن العاص اور ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہم قابل ذکر ہیں

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 148)

اس لشکر کا جنرل کمانڈر یزید بن معاویہ بن ابوسفیان تھا، جب یزید اپنے لشکر کے ہمراہ خلقیدونیہ پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود ڈیرہ ڈالے لشکر کے ساتھ شامل ہو گیا اور پھر ان دونوں نے مل کر قسطنطنیہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی اور پھر اس کی دیواروں کے پیچھے مورچہ زن ہو کر اس کا محاصرہ کر لیا جو چھ ماہ تک جاری رہا، اس دوران فریقین میں گاہے بگاہے جھڑپیں ہوتی رہیں، اس محاصرے کے دوران یزید نے بڑی جوانمردی اور حوصلہ مندی کا مظاہر کیا اور شجاعت و سیاست کی ایسی نادر مثالیں قائم کیں جس کی وجہ سے بعض مؤرخین اسے ’’فتی العرب‘‘ (الامویون و البیزنطیون: صفحہ 164۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 109) (عرب نوجوان) کے لقب سے ملقب کرنے لگے، اس دوران اگر مسلم سپاہ کو شدید قسم کی موسمی مشکل حالات کا سامنا نہ کرنا پڑتا تو اس کی کامیابی یقینی تھی، مثلاً شدید سردی اور موسلا دھار بارشوں کی وجہ سے غذائی اشیاء کی شدید قلت پیدا ہو گئی اور مجاہدین متعدد بیماریوں میں مبتلا ہو گئے، علاوہ ازیں انہیں شہر کی مضبوط حفاظتی دیواروں کا بھی سامنا تھا، ان مایوس کن حالات میں انہوں نے شہر کا محاصرہ ختم کر کے فی الحال واپس شام لوٹ جانے میں ہی عافیت سمجھی۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 6۔صفحہ 480۔ خلافۃ معاویۃ: صفحہ 110)

غزوہ قسطنطنیہ کا شمار دلائل نبوت میں ہوتا ہے۔ اس لیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دیتے ہوئے اور فضیلت بیان کرتے ہوئے فرمایا تھا: ’’میری امت کا پہلا لشکر جو شہر قیصر سے جنگ کرے گا اس کی مغفرت فرما دی گئی ہے۔‘'

(صحیح بخاری مع فتح الباری: جلد 6 صفحہ 120)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے مغفرت کی اس بشارت کی جستجو میں متعدد کبار صحابہ رضی اللہ عنہم اس غزو میں شریک ہوئے۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ فی تاریخ الطبری: صفحہ 320)