Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

علم کلام اور علماء کی بیزاری

  امام ابنِ تیمیہؒ

[علم کلام اور علماء کی بیزاری:]بیشک امام رازی نے جو بتلایا وہ حق ہے اور وہ اپنی بات میں سچے ہیں کہ انھیں متکلمین و کلامیہ کے طرق سے بحث و تحقیق کر کے سوائے قیل و قال اور کچھ نہیں ملا۔ نہ تو ان میں بیمار کی شفا تھی اور نہ پیاسے کی سیرابی۔ امام رازی کی سب کتابوں کو نگاہِ تدبر سے دیکھ جائیے آپ کو اصول دین کا کوئی ایک مسئلہ بھی حق کے موافق نظر نہ آئے گا کہ جس پر معقول اور منقول دونوں دلالت کرتے ہوں ۔ موصوف ایک مسئلہ کے تحت متعدد اقوال ذکر کرتے چلے جاتے ہیں ، لیکن حق قول نہ وہ جانتے تھے اور نہ اسے ذکر ہی کیا۔ یہی حال دوسرے متکلمین و فلاسفہ کا بھی ہے۔ یہ کوئی امام رازی کی ہی خصوصیت نہیں اور نہ فلسفہ و کلام اس خوبی کا مالک ہے کہ وہ حق کی راہ دکھائے۔[1][1] نص اپنی کتابوں میں کثرت کے ساتھ ذکر کی ہے۔ جیسے ’’مجموع فتاوی الریاض‘‘ (۴؍۷۱)، ’’الفرقان بین الحق و الباطل‘‘ (ص ۹۷)، ’’معارج الوصول‘‘ (ص ۱۸۵)۔بے شک حق ایک ہی ہے جو رسولوں کی لائی شریعت سے باہر نہیں نکلتا اور وہ اس صریح عقل و فطرت کے بھی عین موافق ہے جس پر رب تعالیٰ نے سب انسانوں کو پیدا کیا ہے۔ لیکن یہ متکلمین و فلاسفہ اس حق سے ناآشنا ہیں بلکہ یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے اس دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور خود گروہوں میں بٹ گئے۔ ان لوگوں نے کتاب میں بھی اختلاف کیا، ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْ الْکِتٰبِ لَفِیْ شِقَاقٍ بَعِیْدٍo﴾ (البقرۃ: ۱۷۶)

’’اور جن لوگوں نے اس کتاب میں اختلاف کیا ہے یقیناً وہ بہت دور کی مخالفت میں (پڑے) ہیں ۔‘‘امام رازی رحمہ اللہ نے اپنی قید کے دوران زنادقہ اور جہمیہ کے ان اقوال کا ردّ لکھا جن میں وہ متشابہات القرآن میں شک کرتے ہیں اور ان کی بے جا تاویل کرتے ہیں ۔ چنانچہ امام موصوف نے اپنی اس کتاب کے خطبہ میں لکھا ہے: سب تعریفیں اس اللہ کی ہیں جس نے رسولوں کے درمیانی زمانوں میں ان اہل علم کو باقی رکھا جنھوں نے بھٹکے ہوؤں کو ہدایت کی طرف بلایا، پھر ان کی ایذا رسانیوں پر صبر بھی کیا، وہ اللہ کی کتاب سے مردوں کو زندہ کرتے ہیں اور اللہ کے نور سے بے راہوں اور اندھوں کو روشنی دکھاتے ہیں ۔ چنانچہ ان خدا رسیدہ علماء نے کتنے ہی ابلیس کے ماروں کو حیاتِ نو بخشی اور کتنے ہی حیراں و سرگرداں گم گشتہ لوگوں کو راہ سجھائی، سو ان علماء نے لوگوں کا کتنا بھلا کیا اور لوگوں نے ان کے ساتھ کیا ہی برا کیا۔یہ علماء کتاب اللہ سے غلو کرنے والوں کی تحریف اہل باطل کے غلط دعووں اور ان جاہلوں کی تاویلات کو دور کرتے ہیں جو بدعتوں کے علم بردار اور فتنوں کو بے لگام چھوڑ دینے والے ہیں ۔ یہ کتاب اللہ سے اختلاف بھی رکھتے ہیں اور اس کے مخالف بھی ہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ کتاب اللہ کو چھوڑ دینے پر متفق بھی ہیں ۔ یہ لوگ بغیر علم کے اللہ پر جھوٹ بھی بولتے ہیں اور اللہ اور اس کی کتاب کے بارے کلام بھی کرتے ہیں ۔‘‘ متشابہ کلام کے ساتھ گفتگو ان کا وتیرہ ہے، اور نادان لوگوں کو اپنی تلبیسات میں پھنسا کر انھیں دھوکا دیتے ہیں ۔امام رازی رحمہ اللہ نے جو کچھ لکھا ہے وہ بالکل بجا لکھا ہے۔ کتب کلام میں کتاب اللہ سے اختلاف کرنے والے جن لوگوں کے مقالات مذکور ہیں ، یا تو وہ محض نقل ہیں ، یا پھر نقل، بحث اور جدال کا ذکر ہے۔ یہ سب اختلاف کرنے والے ایک بات کی موافقت تو دوسری کا ردّ کرتے ہیں پھر جو بات ان کی رائے کے موافق ہو اسے اس محکم کا درجہ دے دیتے ہیں جس کی اتباع واجب ہوتی ہے اور جو بات ان کی رائے کے مخالف ہو وہ ان کے نزدیک اس متشابہ کے حکم میں جس کی تاویل یا تفویض واجب ہو۔علم کلام پر جس نے بھی لکھا اور ان میں ان نصوص کو ذکر کیا جو ان کا مستدل اور مخالف پر حجت کے دلائل ہیں آپ ان کتابوں میں ان متکلمین و فلاسفہ کا یہ طرز دیکھ سکتے ہیں ، آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنی رائے کے مخالف نصوص کی ایسی تاویلات کریں گے کہ اگر وہ تاویلیں کوئی اور کرے تو یہ اس پر قیامت ڈھا دیں ۔ یہ لوگ آیات قرآنیہ کی وہ تاویل کرتے ہیں جن کی بابت یہ یقیناً معلوم ہے کہ جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تاویل مراد نہ لی تھی اور نہ آیاتِ قرآنیہ کے الفاظ ہی اس تاویل پر دلالت کرتے ہیں ۔ وہ تاویل حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ سے مروی معروف تاویل و تفسیر اور خود دوسری نصوص کے بھی خلاف ہوتی ہے۔ اگر اس بارے میں جو کچھ میں جانتا ہوں ، اس سب کو ذکر کروں تو بے شمار لوگوں کے نام گنوا دوں اور اس میں کسی مشہور معتزلی اور رافضی کو مستثنیٰ نہ کروں اور نہ سنت کی طرف منسوب کی کرامی، اشعری اور سالمی کو ہی معاف رکھو۔
یہی حال مذاہب اربعہ کے ان علماء کا بھی ہے جنھوں نے ان متکلمین و فلاسفہ کے طریق پر لکھا ہے۔ یہ سب میں نے ان کی کتابوں میں خود دیکھا ہے۔ مسائل صفات، قرآن، مسائل تقدیر، اسما و احکام اور ایمان و اسلام کے مسائل اور وعدہ و وعید وغیرہ کے مسائل کی تحقیق میں یہ طرز و اسلوب موجود ہے جو دیکھا جا سکتا ہے۔ہم نے اپنی اس کتاب کے علاوہ دیگر کتب میں متعدد مقامات پر اس پر مفصل کلام کیا ہے جیسے ’’درء تعارض العقل و النقل‘‘ وغیرہ۔ اس بارے جامع ترین کتاب جس میں اصولِ دین میں اختلاف کرنے والوں کے مقالات مذکور ہیں ، وہ ابو الحسن اشعری کی کتاب ہے جس میں ان لوگوں کے وہ مقالات اور ان کی وہ تفصیلات مذکور ہیں جو کسی دوسری کتاب میں نہیں ملتی۔ موصوف نے اس کتاب میں اہل حدیث و سنت کے مذہب و کلام سے جو سمجھا ہے وہ رقم کیا ہے۔ اگرچہ موصوف خود ان لوگوں کے زیادہ قریب نہیں لیکن اس کے باوجود اصولِ دین کے مسائل جیسے قرآن، رؤیت باری تعالی، صفات اور تقدیر وغیرہ کے بارے میں جو کچھ کتاب و سنت میں آتا ہے اور اس بارے جو کچھ حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ کے اقوال ہیں وہ اس کتاب میں نہیں ملتے۔ حالانکہ موصوف نے متکلمین کا جتنا کلام بھی وہ جانتے تھے اس سب کا استقصاء کر ڈالا ہے۔یاد رہے کہ کتاب و سنت میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ لے کر آئے ہیں اور حضرات صحابہ و تابعین کے اقوال و آثار کہ ان سب کی معرفت ایک جدا علم ہے جس کو ان متکلمین اور اصولِ دین میں اختلاف کرنے والوں میں سے کوئی نہیں جانتا۔ یہی وجہ ہے کہ امت کے ائمہ و اسلاف اہل کلام کی مذمت پر متفق تھے کہ ان لوگوں کا کلام باطل کی تصدیق، حق کی تکذیب اور کتاب و سنت کی تکذیب پر مشتمل ہے۔ ان کے کلام کے مبنی بر کذب و افتراء اور خطا ضلال ہونے کی وجہ سے اہل حق نے ان کی مذمت کی۔ ان اسلاف نے کسی کے حق کلام کی کبھی مذمت نہیں کی۔ کیونکہ حق بات ہوتی ہی وہ ہے جسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہوں ۔ بھلا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی تعلیمات کو جاننے والے اسلاف ایسے کلام کی مذمت کیونکر کر سکتے ہیں ۔غرض متکلمین کے کلام میں ایک دوسرے کی نقیض اور خود اپنے اقوال کا فساد پایا جاتا ہے۔ ان کے کلام میں باطل ضرور ہوتا ہے۔ پھر ہر فرقہ دوسرے فرقہ کے اقوال کو باطل قرار دینے کا قصد کرتا ہے اور ایک سادہ لوح قاری ان کے اقوال سے اس سے زیادہ کچھ حاصل نہیں کر پاتا کہ دلائل کا ایک انبار ہے جس میں کتاب اللہ سے اختلاف کرنے والے فرقوں کے اقوال کا ردّ ہے ....
موصوف اشعری اس باب میں قابل ستائش ہیں کہ انھوں نے معتزلہ کی رسوائیوں اور ان کے کلام کے تناقض و فساد اس طرح آشکارا کیا ہے کہ کسی دوسرے نے نہیں کیا۔ کیونکہ پہلے خود معتزلی تھے اور موصوف نے چالیس برس تک ابو علی الجبائی سے علم کلام پڑھا تھا۔ موصوف بڑے ذہین تھے اسی لیے اعتزال سے رجوع کر لیا پھر ان کے ردّ میں ایک مفصل کتاب لکھی اور صفاتِ باری تعالیٰ کے اثبات میں ابن کلاب کے طریق کی تائید کی۔ کیونکہ ابن کلاب کا طریق معتزلہ سے زیادہ کتاب و سنت کے قریب ہے۔ کیونکہ معتزلہ کسی اور طریق کو جانتے ہی نہ تھے۔ لہٰذا وہ کتاب و سنت، صحابہ و تابعین کے اقوال اور ائمہ کی تفسیر قرآن کو جانتے ہی نہ تھے۔ بلاشبہ خالص سنت کا علم تو اسی طریق سے ملتا ہے۔اسی لیے موصوف اشعری معتزلہ کے مفصل ملاقات ذکر کرتے ہیں ، ہر ایک کا قول بیان کرتے ہیں اور ان کے چھوٹے بڑے ہر اختلاف کو عیاں کرتے ہیں جیسا کہ ابن ابی زید[1][1] ابو زید عبداللہ بن ابی زید عبدالرحمان النفزاوی، القیروانی، اپنے زمانہ میں مالکیہ کے امام اور ’’مالک اصغر‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ ذہبی کہتے ہیں : اصول میں اسلاف کے طرز پر تھے۔ کلام سے ناواقف اور تاویل نہ کرنے کے قائل تھے۔ ’’الرسالۃ فی اعتقاد اہل السنۃ‘‘ مشہور تصنیف ہے جو طبع ہو چکی ہے اور اس کی متعدد شروحات بھی آ چکی ہیں سن ولادت ۳۱۰ ہجری اور سن وفات ۳۸۶ ہجری ہے۔ (دیکھیں : شذرات الذہب: ۳؍۱۳۱، الدیباج المذہب لابن فردون، ص: ۱۳۶، الاعلام: ۴؍۲۳۰) نے اصحابِ مالک کے مقالات کو ذکر کیا ہے اور جیسے کہ امام قدوری رحمہ اللہ [2] [2] ابو الحسین احمد بن محمد بن جعفر القدوری، عراق میں حنفیت کی ریاست و سیادت ان پر ختم تھی۔ فقہ حنفی میں ’’المختصر‘‘ لکھی جس نے ’’مختصر قدوری‘‘ کے نام سے دائمی شہرت پائی۔ یہ کتاب طبع ہو چکی ہے۔ بغداد میں ۳۶۲ ہجری میں پیدا ہوئے اور ۴۲۸ ہجری میں بغداد ہی میں وفات پائی۔ (دیکھیں : وفیات الاعیان: ۱؍۶۰۔۶۱، الجواہر المضیۃ: ۱؍۹۳۔۹۴، النجوم الزاہرۃ: ۵؍۲۴۔۲۵، الاعلام: ۱؍۲۰۶) نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے اصحاب کے اختلافات کو مفصل ذکر کیا ہے۔ موصوف اشعری اس کتاب میں خوارج و روافض کے مقالات کو بھی ذکر کرتے ہیں ۔ البتہ یہ مقالات خود اربابِ مقالات سے یا ان کی کتابوں کے واقف کاروں سے نقل نہیں کیے۔ لیکن اس کے باوجود بھی بے حد مفصل ہیں ۔ موصوف ابن کلاب کا مقالہ بھی ان کی کتابوں کی خوب چھان بین کے بعد ذکر کرتے ہیں اور قرآن کے بارے لوگوں کے اختلاف کو متعدد کتب سے نقل کرتے ہیں ۔پھر جب اہل حدیث و سنت کا مقالہ آتا ہے تو اسے مجمل ذکر کرتے ہیں اور اس کا بھی اکثر حصہ انھوں نے زکریا بن یحییٰ الساجی[3][3] ابویحییٰ زکریا بن یحییٰ بن عبدالرحمان بن محمد بن عدی الضبی البصری الساجی۔ فقہائے شافعیہ میں سے ہیں ۔ آپ کا شمار ثقہ اور حافظ رواۃِ حدیث میں ہوتا ہے۔ سن ولادت ۲۲۰ ہجری اور سن وفات ۳۰۷ ہجری ہے۔ ’’کتاب الختلاف الفقہاء‘‘ آپ کی مشہور کتاب ہے۔ (دیکھیں : طبقات الشافعیۃ: ۳؍۲۹۹۔۳۰۱، الاعلام: ۳؍۸۱) سے لیا ہے۔ جبکہ بعض کو بغداد کے ان حنبلی علماء سے لیا ہے جنھوں نے ساجی سے اخذ کیا ہے۔ بھلا اب تفصیلی علم اور اجمالی علم میں بھی کوئی نسبت ہے؟ ایک اعتبار سیموصوف اس بات کے مشابہ ہیں کہ جیسے ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو تفصیلاً جبکہ تورات اور انجیل کے علم کو اجمالاً جانتے ہیں اور وہ بھی دوسروں کی منقولہ باتوں سے اور موصوف ایسے ہی ہیں جیسے ایک حنفی یا شافعی، یا مالکی یا حنبلی اور اپنے اصول و فروع کو اور اپنے مذہب کے اختلاف اور اس کے دلائل کو بہ نسبت دوسرے مذہب کے اختلاف و دلائل اور اصول و فروع کے، زیادہ تفصیل کے ساتھ جانتا ہے اور دوسرے مذہب کا علم اسے صرف اجمالی ہی ہوتا ہے۔موصوف اشعری کی اہل سنت و حدیث کے مذہب سے معرفت بھی ایسی ہی ہے جبکہ وہ متکلمین کو اور اختلاف پر لکھنے والوں کو سب سے زیادہ جاننے والے ہیں اور وہ اپنے اصحاب جیسے قاضی ابوبکر، ابن فورک اور ابو اسحاق وغیرہ سے زیادہ اس کو جانتے ہیں ۔ جبکہ یہ مذکورہ علماء اس اختلاف کو ابو المعالی اور ان جیسے علماء اور شہرستانی سے زیادہ جاننے والے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شہرستانی اہل سنت و حدیث کے مذہب کی بابت جو ذکر کرتے ہیں وہ موصوف اشعری کی ذکر کردہ معلومات سے ناقص ہے۔ کیونکہ اشعری نقل و توجیہ دونوں کے اعتبار سے ان سب سے بڑے عالم ہیں ۔موصوف اس فقیہ کی طرح ہیں جو دوسرے فقہائے حدیث سے بڑا عالم ہوتا ہے حالانکہ وہ خود علمائے حدیث میں سے نہیں ہوتا۔ یا اس محدث کی طرح ہیں جو دوسرے محدثین سے زیادہ فقیہ ہوتا ہے لیکن خود ائمہ فقہ میں سے نہیں ہوتا اور اس مقری کی طرح ہیں جو نحو و اعراب کو دوسروں سے زیادہ جانتا ہے لیکن خود ائمہ نحاۃ میں سے نہیں ہوتا یا اسے نحوی جیسے ہیں جو قرآن کو دوسرے نحویوں سے زیادہ جانتا ہے لیکن وہ خود ائمہ قراء میں سے نہیں ہوتا۔ اس کی نظائر بے شمار ہیں ۔بہرحال اس مقام پر ہمارا مقصود یہ بیان کرنا ہے کہ رب تعالیٰ نے اپنی کتاب میں اختلاف کرنے والوں کی مذمت بیان کی ہے اور یہ قولی اختلاف کا بیان ہے۔ رہا عملی اختلاف تو وہ ہاتھ، تلوار، لاٹھی اور کوڑے وغیرہ کے ساتھ اختلاف ہے۔اب خوارج، روافض اور معتزلہ ان دونوں قسم کے اختلافات کے ارتکاب میں داخل ہیں اور صرف دنیا کی جاہ و حشمت کے لیے لڑنے والے ملوک و سلاطین صرف دوسری قسم کے اختلاف میں داخل ہیں اور وہ لوگ جو علم میں کلام کرتے ہیں اور اپنے بدعتی اقوال کی دعوت نہیں دیتے اور اپنے مخالفین سے ہاتھ اور زبان سے لڑتے بھی نہیں ۔ یہی لوگ اہل علم ہیں ، ان کی خطا معاف ہو گی اور یہ مذموم اختلاف کرنے والوں میں سے بھی نہیں ۔ البتہ بعض امور میں ان کے جیوں میں خواہش یا عدوان یا کوتاہی داخل ہو چکی ہوتی ہے۔ بے شک یہ ان کا گناہ ہے اور بندہ ہر امر میں صراطِ مستقیم کو لازم پکڑنے پر مامور ہے اور اس بات کی ہر نماز میں دعا مانگنے کو رب تعالیٰ نے ہمارے لیے مشروع قرار دیا ہے۔ بلاشبہ یہ سب سے افضل، سب سے زیادہ فرض اور ہر خیر کو سب سے زیادہ جامع دعا ہے کہ صراطِ مستقیم کی دعا مانگنے کا ہر بندہ محتاج ہے اسی لیے رب تعالیٰ نے ہر نماز میں یہ دعا مانگنا بندوں پر واجب کی ہے۔کیونکہ اگرچہ بندے کو اجمالی ہدایت ملی ہوتی ہے جیسے اس بات کا اقرار کہ اسلام حق ہے اور رسول حق ہے لیکن پھر وہ بھی اپنے ہر قول و فعل اور اعتقاد میں تفصیلی ہدایت کا محتاج ہے جو اس کی نفی و اثبات، بغض و محبت امر و نہی اور مدحت و مذمت سب کو شامل ہے۔ بندہ ان سب امور میں اس بات کا محتاج ہے کہ رب تعالیٰ اسے صراطِ مستقیم کی ہدایت دے۔ کیونکہ یہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کا راستہ ہے جن پر رب تعالیٰ نے انعام کیا ہے اور یہ بہت ہی اچھے رفیق ہیں ۔کیونکہ بہت سے لوگوں ہیں جنھوں نے کلام کی مذمت کو مجمل سنا ہے، یا انھوں نے کسی جماعت کی مذمت کو مجمل سنا ہے یا انھوں نے کسی جماعت کی مذمت کو مجمل سنا ہے جبکہ وہ فقہاء، محدثین اور صوفیاء وغیرہ سے اس کی تفصیل کو نہیں جانتا اور جو کلام کے علم میں اوسط درجے کا ہے وہ ان کی ان غایات سے لاعلم ہے جو ان کے تفرقہ و اختلاف کا سبب ہیں ۔ تم اسے ایک قول کی اور اس کے قائل کی مذمت کرتے بھی دیکھو گے جبکہ اسی کی دوسری عبارت کو قبول کرتے بھی دیکھو گے۔ وہ تفسیر، فقہ اور شروحِ حدیث کی کتابیں بھی پڑھتا ہے جن کی یہ مذمت کر رہا ہوتا ہے یا ان کتابوں میں یہ مذموم مقالات بھی ہوتے ہیں ۔ چنانچہ انھی باتوں کو وہ ایک ایسے شخص سے قبول کر رہا ہوتا ہے جن کے ساتھ وہ حسن ظن رکھتا ہوتا ہے کیونکہ ان لوگوں نے ان باتوں کو ایک اور عبارت سے، یا کسی آیت یا حدیث کی تفسیر کے ضمن میں ذکر کر دیا ہوتا ہے۔غرض ایسا بہت ہے۔ سلامت وہی ہے جسے اللہ سلامت رکھے۔ یہاں تک کہ ان میں سے بہت سے لوگ چند ائمہ کی تعظیم کرتے ہیں ، اور چند اقوال کی مذمت کرتے ہیں اور ان اقوال کے قائلین پر لعنت کرتے ہیں یا ان کی تکفیر کر رہے ہوتے ہیں ۔ حالانکہ ان میں سے بعض اقوال کے قائل وہ ائمہ بھی ہوتے ہیں جن کی یہ تعظیم کر رہا ہوتا ہے اور اگر اسے یہ معلوم ہو جائے کہ وہ ائمہ ان اقوال کے قائل ہیں تو وہ یہ لعنت بازی بند کر دیں ۔ جبکہ ان میں سے متعدد اقوال نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بھی ہوتے ہیں جن کو یہ جانتا نہیں ہوتا۔پھر اگر متکلمین سے یہ اقوال قبول کرنے والا مقلد ہو تو وہ اس کی پیروی کرتا ہے جس کی اس کے جی میں زیادہ قدر ہوتی ہے۔ پھر اگر اس کا یہ گمان ہو کہ ان متکلمین نے وہ باتیں بھی ثابت کی ہیں جن کو یہ ائمہ ثابت نہیں کر سکے تو یہ ان کی تقلید کرنے لگے۔ اگرچہ وہ یہ گمان بھی کرے کہ یہ ائمہ زیادہ جلیل القدر اور حق کو زیادہ جاننے والے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیادہ اتباع کرنے والے ہیں ۔اگر اسے اس قول کی بابت متکلمین کی حجت معلوم ہو جائے اور جن ائمہ کی یہ تعظیم کرتا ہے ان کی بابت اسے یہ بات پہنچے کہ ان کا قول اس کے خلاف ہے، یا ایک حدیث اس کے خلاف ہے تووہ حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ اگر کسی ایک جانب کو ترجیح بھی دیتا ہے تو ناگواری سے دیتا ہے اور خود اس کے پاس اس ترجیح کی کوئی بنیاد نہیں ہوتی۔ بس اس کے جی میں جس کے بارے میں یہ بات آ جائے کہ یہی قول صحیح ہے، اسی کو اپنا لیتا ہے اور اس پر پکا ہو جاتا ہے۔ چاہے بعض متکلمین اس قول کے خلاف بھی ہوں ۔آدمی کا ان لوگوں کے اختلافات کو اور ان کے ایک دوسرے کو ردّ کرنے کو جاننا نافع ترین امور میں سے ہے چاہے وہ ایک دوسرے کے مقالہ کے فساد کے دلائل کو نہ بھی جانتے ہوں ۔ کیونکہ ان میں سے کوئی تو ایسا ضرور ہوتا ہے جس کے مقالہ کو چند ایک جماعتوں نے فضیلت دی ہوتی ہے۔ پس جب وہ ایک دوسری جماعت کو دیکھتا ہے کہ وہ اس مقالہ کا ردّ کر رہی ہے تو وہ اس مقالہ کے فساد کو جان لیتا ہے اور یہ امر اس مقالہ میں موجود منکر اور باطل کے حق میں نہیں بن کر ثابت ہوتا ہے۔اسی طرح جب وہ ان فرقوں کو ایک دوسرے کا ردّ کرتے ہوئے دیکھتا ہے تو دونوں کے باطل عقائد کو بھی جان لیتا ہے یوں وہ ان جماعتوں کے باطل سے بچ جاتا ہے۔ پھر جس کے سامنے رب تعالیٰ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات کو عیاں کر دیتا ہے۔ پھر یا تو وہ ان دونوں جماعتوں کے اقوال کے بالمقابل تیسرا قول کرتا ہے، یا پھر کسی کا ایک تو کسی کا دوسرا قول کرتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ یہی وہ قول ہے جس پر حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ تھے اور جس پر کتاب و سنت کی دلالت ہے۔ تو بلاشبہ رب تعالیٰ نے اس پر اپنا انعام پورا فرما دیا۔ کیونکہ رب تعالیٰ نے ایسے شخص کو صراطِ مستقیم کی ہدایت دے دی ہے اور اسے اہل زیغ و ضلال کی راہ سے دور رکھا ہے۔اگر کسی پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی تعلیمات عیاں نہیں ہوتیں ، تب بھی اس کا ان فرقوں کی گمراہی میں ان کی موافقت سے رکنا، یہ اس کے حق میں نعمت ہے اور اس نے کتاب و سنت کے اجمالی علم کی پناہ پکڑ لی ہے اور وہ اس مسئلہ میں کلام سے رک گیا ہے۔آدمی جن باتوں کو نہیں جانتا، ان میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ آدمی لوگوں کی کہی ہر بات کی بابت حق بات کو نہیں جانتا ہوتا۔ تو لوگوں کو دیکھے گا کہ وہ مسائل احکام میں تفسیر اور شرحِ حدیث میں متعدد اقوال کر رہے ہوتے ہیں بلکہ وہ طب اور عربیت وغیرہ میں بھی مختلف اقوال کے مالک ہوتے ہیں ۔ پھر بے شمار لوگ اختلاف کو تو ذکر کرتے ہیں مگر وہ حق بات کو نہیں جانتے ہوتے۔پھر اہل فلسفہ میں اس قدر اختلاف اور تفرقہ ہے کہ حد و شمار میں نہیں آتا۔ کیونکہ متاخرین جیسے ابن سینا اور فارابی اور ان کے طرز پر چلنے والوں کے پاس جو فلسفہ ہے وہ ارسطو اور اس کے پیروکاروں کا فلسفہ ہے اور یہ ارسطو ہی تو ہے جو منطق، طبیعیات اور ما بعد الطبیعیات کے علوم کا بانی ہے اور اسی فلسفہ کو لے کر غزالی، شہرستانی اور رازی وغیرہ چلے تھے جو فلاسفہ کے ہی مقالات تھے اور وہی ابن سینا کا کلام ہے۔پھر فلاسفہ کی ان کے علاوہ بھی بے شمار قسمیں ہیں ۔ اسی لیے قاضی ابوبکر نے ’’دقائق الکلام‘‘ میں اور ان سے پہلے ابو الحسن اشعری نے ’’مقالات غیر الاسلامیین‘‘ میں ، جو ایک بڑی کتاب ہے اور ’’مقالات الاسلامیین‘‘ سے بھی بڑی کتاب ہے، فلاسفہ کے متعدد اقوال ذکر کیے ہیں جن کو ابن سینا کے خوشہ چین ذکر تک نہیں کرتے۔ اسی طرح اشعری کے علاوہ جیسے ابو عیسی وراق، نوبختی، ابو علی، ابو ہاشم اور بے شمار متکلمین و فلاسفہ ہیں ۔غرض متکلمین کی کتابوں میں ایک دوسرے کا ردّ ہے اور جسے باطل مقالہ کے ردّ کی احتیاج نہیں اسے ان باتوں کے جاننے کی بھی احتیاج نہیں ۔ کیونکہ ایک تو یہ باتیں اس کے دل پر گزری ہی نہیں ، دوسرے وہاں کوئی ان باتوں کا مخاطب بھی نہیں اور کوئی اس کتاب کا مطالعہ کرنے والا بھی نہیں جس میں یہ سب باتیں اور اختلافات مذکور ہیں ۔ پھر جسے دوسروں کے دلائل کے ردّ کا فہم نہیں ، وہ ان سے منتفع بھی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ بسا اوقات جسے شبہ اور اعتراض کا تو علم ہو جائے لیکن اس کے فاسد ہونے کو نہ جانتا ہو، وہ نقصان اٹھاتا ہے۔