قسطنطنیہ کے محاصرہ کے دوران حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات
علی محمد الصلابیرابعاً: قسطنطنیہ کے محاصرہ کے دوران حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی وفات
حضرت ابو ایوب خالد بن زید بن کلیب انصاری رضی اللہ عنہ جنگ بدر، عقبہ اور تمام غزوات میں شریک ہوئے۔ حضرت ابو ایوبؓ خوارج کے ساتھ جنگ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر رہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر قیام فرمایا اور پھر ایک ماہ تک ان کے پاس ہی مقیم رہے، پھر جب آپﷺ نے مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد اس کے آس پاس اپنی رہائش گاہ تعمیر کر لی تو اس میں منتقل ہو گئے۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 251)
جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بصرہ کے والی تھے تو حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ ان کے پاس گئے تو انہوں نے آپ کا بہت زیادہ اکرام کیا اور فرمایا: میں تمہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مہمان نوازی کا صلہ دوں گا، اس وقت ان کے پاس تقریباً چالیس ہزار درہم موجود تھے انہوں نے وہ ساری رقم ان کی خدمت میں پیش کر دی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 404)
دوسری روایت میں ہے: جب ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے واپس جانے کا ارادہ ظاہر کیا تو ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے لیے گھر کی تمام اشیاء سے دست بردار ہو گئے۔ مزید برآں انہوں نے ان کی خدمت میں کئی تحائف، بہت سارے خدمت گزار، چالیس غلام اور چالیس ہزار دینار پیش کیے، ان کی یہ عزت اس لیے کی گئی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے گھر مہمان کے طور پر ٹھہرایا تھا، اور جو اُن کے لیے بڑے شرف کا باعث تھا۔
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 252)
جب ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی بیوی نے ان سے کہا: کیا آپ نے وہ کچھ نہیں سنا جو لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں کہہ رہے ہیں؟ ان کا اشارہ واقعہ افک کی طرف تھا۔ تو انہوں نے اس سے دریافت کیا: ام ایوب! کیا تم ایسا کر سکتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: ہرگز نہیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا: اللہ کی قسم! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تم سے بہت بہتر ہیں۔ اس پر اللہ نے یہ آیت اتاری:
(سیرۃ ابن ہشام: جلد 2 صفحہ 302۔ البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 252)
لَوۡلَاۤ اِذۡ سَمِعۡتُمُوۡهُ ظَنَّ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ وَالۡمُؤۡمِنٰتُ بِاَنۡفُسِهِمۡ خَيۡرًا ۞ (سورۃ النور آیت 12)
ترجمہ: جس وقت تم لوگوں نے یہ بات سنی تھی تو ایسا کیوں نہ ہوا کہ مومن مرد بھی اور مومن عورتیں بھی اپنے بارے میں نیک گمان رکھتے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ تشریف آوری کے بعد سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ اور مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کے درمیان مواخات قائم کی۔ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی وفات سرزمین روم میں قسطنطنیہ کی دیوار کے قریب ہوئی۔ اس وقت آپ یزید بن معاویہ کے لشکر میں شامل تھے اور اسی نے ہی سیدنا ابو ایوبؓ کی نماز جنازہ پڑھائی تھی۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 405)
ایک دوسری روایت میں آتا ہے: دوران جنگ سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو انہوں نے فرمایا: جب میری موت واقع ہو جائے تو میری میت کو اٹھا لینا اور جب دشمن تمہارے سامنے آئے تو مجھے اپنے قدموں میں پھینک دینا۔ خبردار! میں تمہیں وہ حدیث سناتا ہوں جو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ’’جو آدمی اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا وہ جنت میں داخل ہو گیا۔‘‘
(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 252)
حضرت ابو ایوب رضی اللہ عنہ کو قسطنطنیہ کی دیواروں کے پاس دفن کیا گیا۔ جن لوگوں نے ابو ایوبؓ کو دفن کیا ان سے رومی کہنے لگے: اے عرب گروہ! آج رات تمہارے لیے کوئی خاص بات تھی۔ انہوں نے جواب دیا: ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کبار صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے ایک شخص کی موت واقع ہو گئی تھی۔(سیر اعلام النبلاء: جلد 2 صفحہ 412۔ اس کی سند قوی ہے۔)
قسطنطنیہ کی فتح اور دولت عثمانیہ کی آمد کے بعد ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو خلافت عثمانیہ میں بڑا عظیم مقام و مرتبہ حاصل ہو گیا۔ عثمانی سلاطین میں سے جب بھی کوئی تخت نشین ہوتا تو وہ مسجد ابو ایوب رضی اللہ عنہ میں ایک دینی اجتماع کا انعقاد کرتے اور حکومت حاصل کرنے کی علامت کے طور پر گلے میں تلوار حمائل کرتے۔ ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کو سب ترکوں میں ولی اللہ کا رتبہ حاصل تھا، ایمان سے لبریز دل ان کی طرف لپکے چلے آتے اور وہ انہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے میزبان کی حیثیت سے دیکھتے جس نے انتہائی مشکل حالات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر ممکن تعاون کیا، انہیں مجاہدین میں بھی بڑی قدر و منزلت حاصل تھی وہ ان کی طرف سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ضیافت اور جہاد فی سبیل اللہ کو ان کی عظیم ترین منقبت اور عظیم الشان کارنامہ خیال کرتے تھے۔
(الصحابی الجلیل ابو ایوب الانصاری: حسین المصری: صفحہ 12)
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ انہیں دشمن کی زمین کے آخری حصہ میں دفن کیا جائے۔ وہ چاہتے تھے کہ زندہ یا مردہ ہر حالت میں دشمن کی زمین کے اندر تک جائیں۔ گویا کہ انہوں نے جو کچھ زندگی میں حاصل کیا ان کے لیے وہ کافی نہیں تھا، لہٰذا انہوں نے اپنی موت کے بعد اس میں مزید اضافے کی تمنا کی اور یہ وہ چیز ہے جس کے علاوہ ایک حقیقی مجاہد کا اور کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔
(ایضاً: صفحہ 68)
ہم اپنی زندگی میں اس عجیب و غریب چیز کا مشاہدہ کرتے ہیں کہ بعض مسلمانوں کی خواہش ہوتی ہے کہ اگر اس کی بیرون ملک موت واقع ہو جائے تو اسے واپس لا کر اس کے ملک میں دفن کیا جائے، حالانکہ ساری زمین اللہ تعالیٰ کی ہے اور سارے شہر بھی اسی ذات اقدس کے ہیں۔
جب ابو ایوب رضی اللہ عنہ غزوہ قسطنطنیہ کے لیے روانہ ہوئے اس وقت وہ بہت زیادہ بوڑھے ہو چکے تھے، وہ کہا کرتے تھے کہ اللہ فرماتا ہے:
اِنْفِرُوۡا خِفَافًا وَّثِقَالًا ۞ (سورۃ التوبة آیت 41)
ترجمہ: (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو، چاہے تم ہلکے ہو یا بوجھل۔
(سکب العبرات للموت و القبر و السکرات: جلد 1 صفحہ 175)
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ لوگوں کو کتاب اللہ اور مفاہیم اسلام کا صحیح فہم دیا کرتے تھے۔ ابو عمران تجیبی کہتے ہیں: ہم قسطنطنیہ کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے تو اس جماعت کے قائد عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید تھے۔ رومیوں نے اپنی پیٹھیں قسطنطنیہ کی دیوار کے ساتھ لگا رکھی تھیں۔ ایک آدمی نے دشمن پر حملہ کیا تو لوگ کہنے لگے: رک جا، رک جا، لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ۔ یہ شخص اپنے آپ کو تباہی سے دوچار کر رہا ہے۔ اس پر ابو ایوب رضی اللہ عنہ کہنے لگے: یہ آیت ہم انصار کے بارے میں نازل ہوئی تھی، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نصرت فرمائی اور اسلام کو غلبہ عطا فرمایا تو ہم نے کہا: آؤ اب ہم اپنے مالوں کی نگرانی کرتے اور ان کی اصلاح کرتے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی:
وَاَنۡفِقُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا تُلۡقُوۡا بِاَيۡدِيۡكُمۡ اِلَى التَّهۡلُكَة ِ۞ (سورۃ البقرة آیت 195)
ترجمہ: اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو، اور اپنے آپ کو خود اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ ڈالو۔
اپنے ہاتھوں کو ہلاکت میں ڈالنا یہ ہے کہ ہم اپنے اموال میں ہی مگن رہیں اور جہاد ترک کر دیں۔ ابو عمران فرماتے ہیں: سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ ہمیشہ جہاد کرتے رہے یہاں تک کہ قسطنطنیہ میں مدفون ہوئے۔
(سنن ابی ایوب: رقم: 2512۔ سنن ترمذی: رقم: 2972)
یہ حدیث بتاتی ہے کہ جہاد فی سبیل اللہ کو ترک کر کے اموال میں مصروف ہو جانا کس قدر خطرناک ہے اور یہ کہ حقیقی ہلاکت آخرت کی ہلاکت ہے اور جس کا سبب واجبات اسلام کی ادائیگی میں کاہلی و سستی دکھانا ہے۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 5 صفحہ 13)