Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قسطنطنیہ کا دوسرا محاصرہ

  علی محمد الصلابی

خامساً:  قسطنطنیہ کا دوسرا محاصرہ

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسلسل فوجی حملوں اور رودس و ارواد نامی جزائر پر قبضہ جما کر دولت بیزنطیہ پر دباؤ برقرار رکھا، قسطنطنیہ سے قریب ہونے کی وجہ سے جزیرہ ارواد بڑی اہمیت کا حامل تھا، شہر کے دوسرے حصار یا (54، 60ھ) 

(تاریخ طبری: جلد 2 صفحہ 210، 240)

کی سات سالہ جنگ کے دوران اسلامی بحری بیڑے نے اس جزیرے کو اپنی جنگی کارروائیوں کے لیے اڈے کے طور پر استعمال کیا۔ بحری کشتیاں اس جزیرہ سے قسطنطنیہ کا محاصرہ کرنے کے لیے مسلمان سپاہ کو خشکی پر منتقل کرتیں، شہر کا بری اور بحری محاصرہ ماہ اپریل سے ماہ ستمبر تک جاری رہا، اس دوران صبح سے لے کر شام تک فریقین ایک دوسرے پر حملے کرتے رہتے۔ یہ صورت حال سات سال تک برقرار رہی یہاں تک کہ اس نے بیزنطیوں کو زچ کر دیا۔ ان کے لیے بڑی خوفناک صورت حال پیدا کر دی

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 351، 352)

اور انہیں زبردست نقصانات برداشت کرنے پڑے۔ مگر اس سب کچھ کے باوجود مسلم افواج نہ تو شہر میں داخل ہو سکیں اور نہ ہی اس کی دیواروں کا دفاع کرنے والوں پر غلبہ حاصل کر سکیں۔ اس کے متعدد اسباب تھے جن میں مندرجہ ذیل قابل ذکر ہیں۔

(الامویون و البیزنطیون: صفحہ 176)

1۔ بیزنطیوں نے ان معرکوں میں ایک ایسی آگ استعمال کی جسے انہوں نے بحری یا افریقی آگ سے موسوم کیا اور جو تیل اور گندھک کے کیمیائی مرکب سے عبارت تھی، اس مرکب کو کشتیوں پر پھینکا جاتا تو ان میں آگ بھڑک اٹھتی۔ حیران کن بات یہ تھی کہ جب یہ آگ پانی کو چھوتی تو مزید بھڑک اٹھتی۔ یہ تباہ کن کیمیائی مرکب جس نے مسلمانوں کی متعدد کشتیوں اور ان کے لشکروں کو تباہی سے دوچار کر دیا تھا کالینکوس نامی شامی الاصل ایک انجینئر کی اختراع تھا۔ یہ آدمی پہلے مسلمانوں کی خدمات سرانجام دیا کرتا تھا بعد ازاں قسطنطنیہ بھاگ گیا اور اپنی صلاحیت اور تجربے کو بیزنطیوں کی خدمت کے لیے وقف کر دیا۔

(الامویون و البیزنطیون: صفحہ 176 ۔ العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 252)

یہ جدید ہتھیار ان عوامل میں سے اہم ترین تھا جنہوں نے بیزنطیوں کی بھرپور مدد کی اور وہ دار الحکومت کا دفاع کرنے کے قابل ہوئے اور مسلمانوں کے خلاف ڈٹے رہے۔ یہ ہتھیار ایسا مخفی راز تھا جس سے اس صنعت کے چند ماہرین ہی آگاہ تھے، وہ لوگ اس اسلحہ کے ساتھ اپنے حلفاء کی مدد تو کرتے تھے مگر اس کی ٹیکنالوجی سے کسی کو آگاہ نہیں کرتے 

تھے، تقریباً چار صدیاں بیت گئیں مگر اس کے ایجاد کنندہ کے علاوہ کوئی بھی اس کی حقیقت سے آگاہ نہ ہو سکا۔ آخر سن دس میلادی میں ماہرین اس آگ کے راز سے آگاہ ہوئے تو انہوں نے اس کے عناصر ترکیبی سے پردہ اٹھایا اور لوگوں کو ان وسائل سے آگاہ کیا جن کے استعمال سے اسے بجھایا جا سکتا ہے۔ اس اسلحہ نے مزید ترقی کی تو اس نے دھماکہ خیز اشیاء کی شکل اختیار کر لی جسے منجنیقوں کی مدد سے دشمن پر پھینکا جاتا جس سے ایک شعلہ بلند ہوتا اور ساتھ ہی دھویں کا بادل اٹھتا اور خوفناک آواز سنائی دیتی، اس اختراع نے مسلم سائنسدانوں کی توجہ حاصل کی تو اس بارے میں سوچ و بچار اور تحقیق کرنے لگے اور آخرکار وہ سن گیارہ میلادی کے آغاز میں اس کی ٹیکنالوجی سے آگاہ ہو گئے اور پھر انہوں نے اس میں متعدد تبدیلیاں کر کے اسے پہلے سے زیادہ تباہ کن اور افریقی آگ سے زیادہ بھڑک دار بنا دیا۔ مسلمانوں نے اس تباہ کن ہتھیار کو سرزمین شام میں صلیبیوں کے ساتھ اپنی جنگوں میں استعمال کیا جس سے ان پر ضرب کاری لگی اور وہ مرعوبیت اور گھبراہٹ کا شکار ہو گئے، اس وقت سے یہ آتشیں ہتھیار اسلامی آتشیں ہتھیار کے نام سے معروف ہو گیا۔

(الامویون: محمد سید الوکیل: جلد 1 صفحہ 65)

ڈاکٹر ابراہیم العدوی رقمطراز ہیں: مسلمانوں کے پاس موجود اس جدید ہتھیار کی شناخت سے ان کے دشمن بے بس ہو گئے اور یہ اسلامی آتشیں ہتھیار چودھویں صدی تک ان کے استعمال میں رہا۔ اسے ترقی دینے کے لیے اس میں بہت ساری تبدیلیاں کی گئیں اور جس کا نتیجہ بارود کی صورت میں سامنے آیا۔ اس بنا پر اسلامی آتشیں ہتھیاروں کو جنگ کے مختلف طریقوں میں اس خطرناک انقلاب کی بنیاد تسلیم کیا جاتا ہے جس سے نئی دنیا آشنا ہوئی اور اس سے مسلمانوں نے ثابت کر دیا کہ وہ دشمن کے کسی بھی ہتھیار کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے نہیں رہتے اور یہ کہ وہ اس چیز کے استعمال پر قادر ہیں جس میں ان کی منفعت پنہاں ہو۔

(الامویون و البیزنطیون: صفحہ 178)

ہم اللہ رب کائنات سے دعا کرتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کو امریکی اور مغربی فوجی برتری کا توڑ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!

2۔ لوہے کی بھاری بھر کم زنجیر جو کہ قسطنطنیہ کی بندرگاہ اور ایشیائی ساحل کے درمیان حائل تھی جسے حالت جنگ یا محاصرے کی وارننگ کے دنوں میں بند کر دیا جاتا تھا۔

(من دولۃ عمر الی دولۃ عبدالملک: صفحہ 167 )

۔ بھاری بھر کم اندرونی اور بیرونی دیواریں، جن پر نگرانی کے لیے بڑے بڑے ٹاورز بنائے گئے تھے، جن سے دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور اس کی طرف سے کسی فوری کاروائی کو روکنے میں بڑی مدد ملتی۔

4۔ سمندری پانیوں پر ایک دوسرے سے جڑے شہروں کے محاصرہ کے بارے میں اموی حکومت کی ناتجربہ کاری، جن میں سے قسطنطنیہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے لیے جدید ترین ہتھیاروں کی ضرورت تھی جو کہ اس وقت تک اموی حکمرانوں کے پاس موجود نہیں تھا۔

( ایضاً: صفحہ 168)

5۔ دولت امویہ اور دولت اسلامیہ کی حکمت عملی، متعدد عوامل نے قسطنطنیہ کو سقوط سے محفوظ رکھنے کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ مثلاً شہر کی طبیعی محفوظیت، افریقی آتش، موسمی شدت، بحر اسود سے اٹھنے والی شدید ترین سمندری لہریں، مسلمان سپاہ نے اگرچہ بڑے صبر و استقلال اور شجاعت و دلیری کا مظاہر کیا مگر وہ مندرجہ بالا عوامل کی وجہ سے شہر پر قبضہ کرنے میں ناکام رہیں، اور آخر کار دونوں حکومتیں شہر کا محاصرہ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کرنے پر آمادہ ہو گئیں، یہ مذاکرات فریقین میں صلح کے معاہدہ پر منتج ہوئے اور اس کی رو سے اسلامی لشکر اور اسلامی بحری بیڑہ شام واپس لوٹ گیا۔ شہر کے محاصرہ کے دوران میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ یہ محاصرہ اپنا ہدف حاصل کیے بغیر طویل سے طویل تر ہوتا چلا جا رہا ہے، پھر جب ان کی عمر کافی زیادہ ہو گئی اور انہوں نے اپنی موت کو قریب آتے دیکھا تو انہوں نے بہتر سمجھا کہ شہر کے اردگرد خیمہ زن ان کے لشکر کو واپس لوٹ جانا چاہیے تاکہ ان کی وفات کے بعد ان کے بیٹے یزید کو جن مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے وہ ان کے ساتھ آسانی سے نمٹ سکے۔ مسلم سپاہ کی طرف سے دارالحکومت کے طویل محاصرہ کی وجہ سے دولت بیزنطیہ کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا، لہٰذا وہ بھی اس صورت حال کو ختم کرنے کی شدت سے خواہش مند تھی، چنانچہ اس نے بڑے ذہین و فطین اور معروف سفارت کار یوحنا کو دمشق بھیجا، اس بیزنطی سفیر نے اموی خاندان کے سرکردہ لوگوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں جن کے دوران اس نے دولت اسلامیہ کے لیے بڑے احترام کا اظہار کیا جس کی وجہ سے وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے اپنے لیے عزت و احترام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا جس سے طرفین میں صلح کے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہو گئے۔ اس معاہدہ کے بعد دار الحکومت کے سامنے پڑاؤ ڈالنے والی قوات اسلامیہ نے شام واپسی کا راستہ اختیار کیا۔

(الامویون و البیزنطیون: صفحہ 175۔ العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 235)