دونوں حکومتوں میں پرامن باہمی تعلقات
آیت اللہ العظمی نعمت اللہ صالحی نجف آبادیسادساً: دونوں حکومتوں میں پرامن باہمی تعلقات
اگرچہ خلافت راشدہ اور اموی دور حکومت میں مسلسل حرکت جہاد کی وجہ سے دولت اسلامیہ اور دولت بیزنطیہ کے درمیان تعلقات پر فوجی اور عسکری رنگ غالب رہا مگر اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ فریقین میں پرامن تعلقات کا یکسر فقدان تھا۔ باہمی مذاکرات اور تبادلہ خیالات کی صورت میں دونوں حکومتوں میں پرامن تعلقات کی بھی عکاسی ہوتی ہے، ان تعلقات نے اموی دور حکومت میں مختلف شکلیں اختیار کر لی تھیں، مثلاً باہم خط و کتابت، تجربات کا تبادلہ، ثقافتی میدانوں میں بحث و مباحثہ قیدیوں اور سفیروں کا تبادلہ وغیرہ۔
(العلاقات العربیۃ البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 122، 123)
1۔ مراسلت
ایام فتنہ کے دوران سیدنا معاویہ رضیذ اللہ عنہ نے قیصر روم کے ساتھ خط و کتابت کی جس کی وجہ سے وہ اس شرط پر صلح کا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہو گئے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ قیصر روم کو کچھ مال ادا کریں گے اور طرفین ایک دوسرے سے کچھ لوگوں کو اپنے اپنے ہاں گروی رکھیں گے۔ پھر جب رومیوں نے عہد شکنی کی تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور مسلمانوں نے انہیں قتل نہ کیا اور انہیں واپس جانے کی اجازت دے دی۔
(العلاقات العربیۃ البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 123)
الغرض ان جیسے مواقع پر اصولی طور پر دولت اسلامیہ کو طاقت کے اسباب اختیار کرنے میں سستی و کاہلی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے تھا، تاکہ دشمن ان کی کمزوری سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکتا۔ اسلامی ریاست کو اس قدر طاقت ور ہونا چاہیے کہ دشمن اس سے خوف محسوس کریں اور ان کے بارے میں اپنے مذموم عزائم کو کامیاب نہ کر سکیں اور اگر وہ کسی وقت کمزوری سے دو چار ہو جائے یا اسے مال خرچ کر کے کسی ضرر رساں صورت حال کو ختم کرنے کی ضرورت پڑے تو ایسا ضروریات کے زمرے میں آئے گا اور یہ حکم عام نہیں ہو گا۔ جو چیز ضرورت کے تحت مباح ہوتی ہے اسے بقدر ضرورت ہی اختیار کیا جا سکتا ہے جیسا کہ فقہائے کرام نے قرار دیا ہے۔
(فتوح البلدان للبلاذر: صفحہ 163۔ العلاقات الخارجیۃ للدولۃ الاسلامیۃ: صفحہ 239)
مال و زر کے بدلہ میں دشمن کے ساتھ دائمی صلح کرنا قطعاً غیر مناسب ہے۔ ایسی صلح مسلمانوں کی کمزوری کے عرصہ کے لیے یا ضرورت کی حالت میں ہونی چاہیے اور اس دوران کمزوری کی حالت کو ختم کرنے اور امت اسلامیہ کی قوت کے لیے اسے ضروری صلاحیتیں فراہم کرنے کے لیے بڑی سنجیدگی اور عزم کے ساتھ بھرپور کوششیں کرنی چاہئیں، پھر جب اس قسم کے حالات ختم ہو جائیں تو پھر مسلمانوں کے لیے ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا معاہدہ کرنے سے باز رہیں جس میں ان کی ذلت پنہاں ہو یا وہ ان کے لیے خرابی و فساد کا باعث بن سکتا ہو۔
(الاشباہ و النظائر: ابن نجیم: صفحہ 86)
خلاصہ کلام یہ کہ دولت اسلامیہ کے لیے بقدر ضرورت کوئی اضطراری معاہدہ کرنا جائز ہے، مگر ضرورت کے اختتام کے ساتھ ہی ایسا معاہدہ ختم ہو جانا چاہیے۔
(العلاقات الخارجیۃ للدولۃ الاسلامیۃ: صفحہ 240)
طرفین میں خط و کتابت صرف عسکری حوالے سے ہی نہیں رہتی تھی بلکہ بعض مراسلات علمی اور امور عامہ کے پہلوؤں کا بھی احاطہ کرتے تھے۔ ایک دفعہ قیصر روم نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: مجھے اس سے پہلے، دوسرے، تیسرے اور چوتھے اور پانچویں حکم کے بارے میں بتائیں جو اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب ہیں۔ وہ چار چیزیں کون سی ہیں جن میں روح تو موجود ہے مگر وہ رحم مادر میں نہیں رہیں؟ وہ کون سی قبر ہے جو صاحب قبر کو لے کر چلتی رہی؟ زمین میں وہ کون سی جگہ ہے جس تک سورج کی ایک ہی بار رسائی ہوئی؟ اس نے اس قسم کے اور بھی کئی سوالات کیے۔ اس کے جواب میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے لکھا: اللہ تعالیٰ کا سب سے محبوب کلمہ ’’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ‘‘ ہے اللہ تعالیٰ کے بغیر کوئی عمل قبول نہیں کرتا اور یہی حکم نجات دہندہ ہے، دوسرا کلمہ ’’ سبحان اللّٰہ‘‘ ہے جو کہ مخلوق کی عبادت ہے۔
دوسرا ’’الحمد للّٰہ‘‘ ہے جو کہ کلمہ شکر ہے، تیسرا ’’اللّٰہ اکبر‘‘ ہے جس سے نماز، رکوع اور سجدہ کا آغاز ہوتا ہے اور پانچواں کلمہ ہے: "لا حول و لا قوۃ الا باللّٰہ‘‘ وہ چار چیزیں جن میں روح تو ہے مگر وہ رحم مادر میں نہیں رہیں وہ ہیں: آدم، حواء، موسی علیہم السلام کا عصا اور اسماعیل علیہ السلام کی جگہ ذبح ہونے والا مینڈھا، وہ جگہ جس تک سورج کی رسائی صرف ایک بار ہوئی سمندر ہے جب وہ موسیٰ علیہ السلام اور بنو اسرائیل کے لیے پھٹ گیا تھا اور جو قبر صاحب قبر کو لے کر چلتی رہی وہ اس مچھلی کا پیٹ ہے جس میں یونس علیہ السلام موجود رہے۔
(عیون الاخبار: جلد 1 صفحہ 198، 199۔ الحدود العربیۃ۔ البیزنطیۃ: جلد 2 صفحہ 387۔ العلاقات العربیۃ، البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 162)
2۔ تجربات کا تبادلہ
عربی اور رومی دونوں ہی زندگی کے مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھانے کے لیے کوشاں رہے، وہ نقل و اقتباس پر اعتماد کرتے اور ایجادات و اختراعات پر بھی، البتہ اس میدان میں مسلمانوں نے جو کچھ رومیوں سے اخذ کیا وہ محض اقتباس نہیں تھا بلکہ انہوں نے اس میں بہت ساری تبدیلیاں کیں، کبھی اس میں اضافہ کیا گیا اور کبھی اس کی کانٹ چھانٹ کی گئی یہاں تک کہ وہ دین اسلام سے ہم آہنگ ہو گیا، اس کی معاشرتی ترقی کے مظاہر ہیں جن سے متاثر ہو کر امویوں نے مساجد میں دلچسپی لیتے ہوئے ان کی توسیع و تزیین کی۔
(التاریخ الاسلامی آفاقہ السیاسیۃ و أبعادہ الحضاریۃ: صفحہ 132)
سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے ان متعدد رومیوں کی خدمات حاصل کیں جو بلاد شام میں انتظامی امور میں کاتب کی ذمہ داریاں ادا کیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے انہوں نے سرجون بن منصور رومی کو اپنا کاتب اور ابن اثال نصرانی کو اپنا طبیب متعین کیا۔
(العلاقات العربیۃ البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 132)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نصاریٰ کے ساتھ بڑی رواداری کا مظاہر کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ بروکلمان اس کی گواہی دیتے ہوئے کہتا ہے: ’’اور وہ مسیحیت کے ساتھ بہت زیادہ مل جل گئے۔‘‘ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں سرجون بن منصور نصرانی نے مشیر مالیات کی حیثیت سے کام کیا۔ نصاریٰ کو خلیفۃ المسلمین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رواداری کا اعتراف تھا، وہ لوگ ان کے لیے مخلص بھی رہے اور انہیں ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا۔ اس امر کا نصرانی روایات میں بھی تذکرہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ ہسپانوی تاریخی کتب میں بھی اس کا چرچا ہے۔
(تاریخ الشعوب الاسلامیۃ: نقلًا عن العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ: صفحہ 140)
3۔ دولت بیزنطیہ کا اسلامی رواداری سے متاثر ہونا
مؤلف العدوی رقمطراز ہیں کہ نصاریٰ کے ساتھ امویوں کی دینی رواداری کے اثرات دولت بیزنطیہ پر بھی مرتب ہوئے، یہ امر معروف ہے کہ یہ حکومت دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا پر بھی مظالم ڈھاتی اور ان کے ساتھ سنگدلانہ رویہ اختیار کرتی تھی، مگر اسلامی حکومت کے ظہور اور بڑی تعداد میں نصاریٰ کے اس کی ماتحتی میں آ جانے کی وجہ سے بیزنطی حکومت نے اپنے انداز حکومت اور سیاست کو نئے خطوط پر مرتب کرنا شروع کر دیا۔
(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 142)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مختلف مذاہب کے پیروکار عیسائیوں کی مجالس میں شریک ہوئے اور ان کے دینی جدل و جدال اور مختلف مناقشات سماعت کرتے۔
(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 142)
یوں اموی اسلامی حکومت نے مذہبی رواداری کی ایک اعلیٰ مثال قائم کر دی جو کہ رسالت اسلامیہ کی عظمت و رفعت، غیر مسلم رعایا کے ساتھ اس کی رواداری اور اس دینی تعصب اور تشدد سے بعد کی دلیل ہے جس کا ناروا الزام اکثر مستشرقین اس پر لگایا کرتے ہیں۔
(ایضاً: صفحہ 142)
4۔ سفیروں کے آداب
وفود اور سفراء کی آمدورفت اور تبادلہ کا نظام عہد اموی کے ساتھ ہی خاص نہیں تھا بلکہ یہ سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے عہد سے جاری تھا۔ سفیر کا انتخاب کرتے وقت اس کی شخصیت، شرافت و شہرت اور اس کی عقل و فکر کو پیش نظر رکھا جاتا تھا۔ دولت اسلامیہ کا سفیر اس انداز سے گفتگو کرتا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور آپ کی نبوت و رسالت کی غرض و غایت پر روشنی پڑتی اور وہ سرکاری طور پر اپنی ریاست کا نام لیتا۔
(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 147)
وفود اور سفراء کو یہ اہمیت صرف دولت اسلامیہ امویہ میں ہی حاصل نہیں تھی بلکہ رومی بھی اپنے سفیروں کو بڑی اہمیت دیا کرتے تھے، رومی اپنے سفیروں کا انتخاب ذہین و فطین اور ایسے دین دار لوگوں سے کرتے جو اپنے دینی امور سے بخوبی آگاہ ہوتے، اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں بھی فصاحت کے ساتھ گفتگو کر سکتے۔
(الامویوں و البیزنطیون: صفحہ 212، 215)
مناقشہ کرنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت سے بدرجہ اتم متصف ہوتے، خلفاء اور بادشاہ غیر ملکی سفیروں اور وفود کو بڑی پذیرائی بخشتے، ان کا خلفاء کے محلات میں استقبال کرتے اور ان کی آراء کو بڑی توجہ سے سنتے، جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قصر الخضراء نامی اپنے محل کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے بیزنطیوں کے قاصد سے اس بارے سوال کیا تو اس نے اس کے بارے میں تبصرہ کرتے کہا: اس کا بالائی حصہ تو چڑیوں کے لیے ہے جبکہ نچلا حصہ چوہوں کے لیے۔ اس پر انہوں نے اس کی رائے کو درست تسلیم کرتے ہوئے محل کو دوبارہ پتھروں سے تعمیر کرنے کا حکم دے دیا۔
(ایضاً: صفحہ 220)
رہے بیزنطی تو وہ عرب سفیروں کا کنیسہ آیا صوفیا، پانی کے پلوں اور قسطنطنیہ کے اردگرد کمانڈروں کی رہائش گاہوں میں استقبال کرتے۔
(ایضاً: صفحہ 220)
جب غیر ملکی سفراء واپس جانے لگتے تو ان کے اور انہیں بھیجنے والوں کے احترام میں انہیں قیمتی تحائف پیش کیے جاتے۔
(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ: صفحہ 148)
بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس سے دونوں حکومتوں کے پیش نظر باہمی احترام کا اور صلح کے استحکام کے لیے نیک نیتی کا اظہار تھا۔ اس کے ساتھ طرفین ایک دوسرے کے سامنے اپنی قوت اور خوشحالی کا اظہار بھی کرنا چاہتے تھے۔
(ایضاً: صفحہ 148)
طرفین کے خلفاء اور بادشاہ اپنے اپنے سفیروں کی کڑی نگرانی کرتے اور ان کے جملہ تصرفات و حرکات کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیتے رہتے، رومیوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرنے کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس شخص کو اپنا سفیر بنا کر قسطنطنیہ بھیجا اسے سختی کے ساتھ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ بیزنطیوں کے ساتھ صلح کی شرائط میں کوئی نرمی نہیں کرے گا مگر سفیر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصیت پر عمل کرنے سے قاصر رہا اور اس نے صلح کا معاہدہ کرنے میں اس قدر کمزوری دکھائی کہ وہ بیزنطیوں کے حق میں چلا گیا۔
(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ: صفحہ 149)
پھر جب یہ سفیر واپس آیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے منصب سے معزول کر دیا۔
(ایضاً: صفحہ 149)