دونوں حکومتوں میں پرامن باہمی تعلقات - دفاعِ اہلِ سنت |…

دونوں حکومتوں میں پرامن باہمی تعلقات

  آیت اللہ العظمی نعمت اللہ صالحی نجف آبادی

صفحہ 2 از 2

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نصاریٰ کے ساتھ بڑی رواداری کا مظاہر کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ بروکلمان اس کی گواہی دیتے ہوئے کہتا ہے: ’’اور وہ مسیحیت کے ساتھ بہت زیادہ مل جل گئے۔‘‘ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے دربار میں سرجون بن منصور نصرانی نے مشیر مالیات کی حیثیت سے کام کیا۔ نصاریٰ کو خلیفۃ المسلمین سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رواداری کا اعتراف تھا، وہ لوگ ان کے لیے مخلص بھی رہے اور انہیں ہمیشہ قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا۔ اس امر کا نصرانی روایات میں بھی تذکرہ کیا گیا ہے حتیٰ کہ ہسپانوی تاریخی کتب میں بھی اس کا چرچا ہے۔

(تاریخ الشعوب الاسلامیۃ: نقلًا عن العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ: صفحہ 140)

3۔ دولت بیزنطیہ کا اسلامی رواداری سے متاثر ہونا

مؤلف العدوی رقمطراز ہیں کہ نصاریٰ کے ساتھ امویوں کی دینی رواداری کے اثرات دولت بیزنطیہ پر بھی مرتب ہوئے، یہ امر معروف ہے کہ یہ حکومت دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے ساتھ ساتھ اپنی رعایا پر بھی مظالم ڈھاتی اور ان کے ساتھ سنگدلانہ رویہ اختیار کرتی تھی، مگر اسلامی حکومت کے ظہور اور بڑی تعداد میں نصاریٰ کے اس کی ماتحتی میں آ جانے کی وجہ سے بیزنطی حکومت نے اپنے انداز حکومت اور سیاست کو نئے خطوط پر مرتب کرنا شروع کر دیا۔

(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 142)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ مختلف مذاہب کے پیروکار عیسائیوں کی مجالس میں شریک ہوئے اور ان کے دینی جدل و جدال اور مختلف مناقشات سماعت کرتے۔

(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 142)

یوں اموی اسلامی حکومت نے مذہبی رواداری کی ایک اعلیٰ مثال قائم کر دی جو کہ رسالت اسلامیہ کی عظمت و رفعت، غیر مسلم رعایا کے ساتھ اس کی رواداری اور اس دینی تعصب اور تشدد سے بعد کی دلیل ہے جس کا ناروا الزام اکثر مستشرقین اس پر لگایا کرتے ہیں۔

(ایضاً: صفحہ 142)

4۔ سفیروں کے آداب

وفود اور سفراء کی آمدورفت اور تبادلہ کا نظام عہد اموی کے ساتھ ہی خاص نہیں تھا بلکہ یہ سلسلہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفاء راشدین کے عہد سے جاری تھا۔ سفیر کا انتخاب کرتے وقت اس کی شخصیت، شرافت و شہرت اور اس کی عقل و فکر کو پیش نظر رکھا جاتا تھا۔ دولت اسلامیہ کا سفیر اس انداز سے گفتگو کرتا جس سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت اور آپ کی نبوت و رسالت کی غرض و غایت پر روشنی پڑتی اور وہ سرکاری طور پر اپنی ریاست کا نام لیتا۔

(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ فی العصر الاموی: صفحہ 147)

وفود اور سفراء کو یہ اہمیت صرف دولت اسلامیہ امویہ میں ہی حاصل نہیں تھی بلکہ رومی بھی اپنے سفیروں کو بڑی اہمیت دیا کرتے تھے، رومی اپنے سفیروں کا انتخاب ذہین و فطین اور ایسے دین دار لوگوں سے کرتے جو اپنے دینی امور سے بخوبی آگاہ ہوتے، اپنی مادری زبان کے ساتھ ساتھ عربی زبان میں بھی فصاحت کے ساتھ گفتگو کر سکتے۔

(الامویوں و البیزنطیون: صفحہ 212، 215)

مناقشہ کرنے اور اپنا مؤقف پیش کرنے کی صلاحیت سے بدرجہ اتم متصف ہوتے، خلفاء اور بادشاہ غیر ملکی سفیروں اور وفود کو بڑی پذیرائی بخشتے، ان کا خلفاء کے محلات میں استقبال کرتے اور ان کی آراء کو بڑی توجہ سے سنتے، جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ قصر الخضراء نامی اپنے محل کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے بیزنطیوں کے قاصد سے اس بارے سوال کیا تو اس نے اس کے بارے میں تبصرہ کرتے کہا: اس کا بالائی حصہ تو چڑیوں کے لیے ہے جبکہ نچلا حصہ چوہوں کے لیے۔ اس پر انہوں نے اس کی رائے کو درست تسلیم کرتے ہوئے محل کو دوبارہ پتھروں سے تعمیر کرنے کا حکم دے دیا۔

(ایضاً: صفحہ 220)

رہے بیزنطی تو وہ عرب سفیروں کا کنیسہ آیا صوفیا، پانی کے پلوں اور قسطنطنیہ کے اردگرد کمانڈروں کی رہائش گاہوں میں استقبال کرتے۔

(ایضاً: صفحہ 220)

جب غیر ملکی سفراء واپس جانے لگتے تو ان کے اور انہیں بھیجنے والوں کے احترام میں انہیں قیمتی تحائف پیش کیے جاتے۔

(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ: صفحہ 148)

بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس سے دونوں حکومتوں کے پیش نظر باہمی احترام کا اور صلح کے استحکام کے لیے نیک نیتی کا اظہار تھا۔ اس کے ساتھ طرفین ایک دوسرے کے سامنے اپنی قوت اور خوشحالی کا اظہار بھی کرنا چاہتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 148)

طرفین کے خلفاء اور بادشاہ اپنے اپنے سفیروں کی کڑی نگرانی کرتے اور ان کے جملہ تصرفات و حرکات کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لیتے رہتے، رومیوں کے ساتھ صلح کا معاہدہ کرنے کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس شخص کو اپنا سفیر بنا کر قسطنطنیہ بھیجا اسے سختی کے ساتھ ہدایت کی گئی تھی کہ وہ بیزنطیوں کے ساتھ صلح کی شرائط میں کوئی نرمی نہیں کرے گا مگر سفیر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وصیت پر عمل کرنے سے قاصر رہا اور اس نے صلح کا معاہدہ کرنے میں اس قدر کمزوری دکھائی کہ وہ بیزنطیوں کے حق میں چلا گیا۔

(العلاقات العربیۃ: البیزنطیۃ: صفحہ 149)

پھر جب یہ سفیر واپس آیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے اس کے منصب سے معزول کر دیا۔

(ایضاً: صفحہ 149)


صفحہ 2 از 2