Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

جراجمہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں

  علی محمد الصلابی

سابعاً: جراجمہ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں

سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کے عہد خلافت میں مسلمانوں اور بیزنطیوں کے درمیان ہونے والی جنگوں اور جنگی حملوں میں ایک تیسرا فریق بھی ملوث تھا جو جرجومہ شہر کی طرف منسوب ہونے کی بنا پر ’’جراجمہ‘‘ کہلاتا تھا۔

(جرجومہ نامی شہر کی طرف نسبت۔ یہ شہر انطاکیہ کے قریب واقع تھا۔ معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 123)

ان کے اصول غیر معروف ہیں۔ بلاذری اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یہ لوگ نصرانی تھے اور انطاکیہ کے جرنیل اور اس کے حکمران کے پیروکار تھے۔

(فتوح البلدان للبلاذری: صفحہ 58)

جب مسلمانوں نے بلاد شام کو فتح کیا تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ عامر بن جراح نے حبیب بن مسلمہ فہری کو ان سے جنگ کرنے کے لیے بھیجا مگر انہوں نے ان سے جنگ کرنے کی بجائے امان اور صلح کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے یہ صلح اس شرط پر کی کہ وہ مسلمانوں کی مدد دیں گے، جبل لکام میں ان کے لیے کام کریں گے، اور یہ کہ ان سے جزیہ نہیں لیا جائے گا اور اگر وہ مسلمانوں کے ساتھ مل ان کے دشمنوں سے جنگ کریں گے تو وہ جن لوگوں کو قتل کریں گے ان سے حاصل کردہ مال و اسباب ان کے حوالے کیا جائے گا۔

(ایضاً: صفحہ 58)

مگر جراجمہ کچھ ہی عرصے بعد اس معاہدے سے منحرف ہو گئے اور مسلمانوں اور بیزنطیوں کے درمیان رکاوٹ کھڑی کر دی اور اس طرح ایشیا صغریٰ میں فتوحات اسلامیہ کی پیش قدمی کو روک دیا، وہ کبھی مسلمانوں کا ساتھ دیتے اور کبھی رومیوں کا، یہ لوگ عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں ہی نہیں بلکہ عبدالملک کے عہد خلافت تک عساکر اسلامیہ کے لیے دردِ سر بنے رہے۔ بعد ازاں جب یہ لوگ بلاد شام اور ایشیا صغریٰ میں ادھر ادھر پھیل گئے تو ان کی طرف سے مسلمانوں کو لاحق خطرات میں کمی آ گئی۔

(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 116)

بہرحال ہم یہ ضرور کہنا چاہیں گے کہ قسطنطنیہ تک رسائی کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جس قدر بھی کوششیں کیں اگرچہ وہ ان کی زندگی میں ثمر آور نہ ہو سکیں مگر انہوں نے بعد میں آنے والے خلفاء کے لیے اپنے جاری کردہ مشن کو کامیاب بنانے کے لیے بڑا اہم کردار ادا کیا۔

(ایضاً: صفحہ 116)