مرتکب کبیرہ کے متعلق بحث - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

مرتکب کبیرہ کے متعلق بحث

  امام ابنِ تیمیہؒ

صفحہ 3 از 3
اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ:﴿وَلَا یَرْضَی لِعِبَادِہٖ الْکُفْرَ﴾ (الزمر: ۷) ’’اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘ سے مراد یہ ہے کہ غیر کافر پر نہیں بلکہ کافر پر غیر راضی ہے۔ یا یہ کہ اس کا غیر اسلام دین محبوب نہیں ۔ دوسری ان سے نزاع کرنے والے معتزلہ وغیرہ کا قول ہے کہ ارشاد باری تعالیٰ:﴿اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰی مِنَ الْقَوْلِ﴾ (النساء: ۱۰۸)’’جب وہ رات کو اس بات کا مشورہ کرتے ہیں جسے وہ پسند نہیں کرتا۔‘‘منافقوں کے بارے میں ہے اور یہ قول ان منافقوں پر حرام تھا۔ جو ان سے صادر ہوا۔ جس کی رب تعالیٰ نے خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس قول سے راضی نہیں۔ جس سے معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ صادر ہونے والے معاصی پر راضی نہیں ۔ اس طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿اِِنْ تَکْفُرُوْا فَاِِنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ عَنْکُمْ وَلَا یَرْضَی لِعِبَادِہٖ الْکُفْرَ﴾ (الزمر: ۷)’’اگر تم نا شکری کر و تو یقیناً اللہ تم سے بے نیاز ہے اور وہ اپنے بندوں کے لیے ناشکری پسند نہیں کرتا۔‘‘رب تعالیٰ نے اس ارشاد میں اس بات کی خبر دی ہے کہ رب تعالیٰ کفر کے وقوع کی تقدیر پر راضی نہیں اور یہ نہ کہا جائے کہ وہ ہر موجود پر ہی راضی ہوتا ہے۔اور تمھارا یہ قول کہ ’’وہ ان کے دین پر راضی نہیں ۔‘‘ تو کتاب اللہ میں رضا نفس فعل کے ساتھ معلق ہے۔ ناکہ کسی محذوف شے کے ساتھ اور تمھارے نزدیک اس قول کا مطلب یہ ہے کہ ’’وہ اس دین والے کو اس دین پر اجر دینے کا ارادہ نہیں رکھتا اور یہ بات معلوم ہے کہ ابلیس اور شیاطین اس اعتبار سے رب کے دین پر راضی نہیں ۔ حالانکہ ابلیس کفر پر راضی اور اسے اختیار کیے ہوئے ہے اور وہ لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے ایسی باتیں پسند کرتا ہے جو رب تعالیٰ کو مبغوض ہیں اور ایسی باتوں کو ناپسند کرتا ہے جو رب تعالیٰ کو محبوب ہیں ۔ابلیس کے بارے میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿اَفَتَتَّخِذوْنَہٗ وَ ذُرِّیَّتَہٗٓ اَوْلِیَآئَ مِنْ دُوْنِیْ وَ ہُمْ لَکُمْ عَدُوٌّ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًاo﴾(الکہف: ۵۰) ’’تو کیا تم اسے اور اس کی اولاد کو مجھے چھوڑ کر دوست بناتے ہو، حالانکہ وہ تمھارے دشمن ہیں ، وہ (شیطان) ظالموں کے لیے بطور بدل برا ہے۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
﴿اَلَمْ اَعْہَدْ اِِلَیْکُمْ یَابَنِیْ آدَمَ اَنْ لَا تَعْبُدُوا الشَّیْطَانَ اِِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌo وَاَنْ اعْبُدُوْنِی ہٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌo﴾ (یٰسٓ: ۶۰۔۶۱)’’کیا میں نے تمھیں تاکیدنہ کی تھی اے اولاد آدم! کہ شیطان کی عبادت نہ کرنا، یقیناً وہ تمھارا کھلا دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری عبادت کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔‘‘ان کا کہنا ہے کہ امت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رب تعالیٰ کو ایمان اور عمل صالح محبوب ہے اور وہ متقین، محسنین، توابین، متطہرین اور مقسطین سے محبت کرتا ہے اور معاصی سے نہ محبت کرتا ہے اور نہ ان سے راضی ہی ہے۔ پس ہمارا امت کے اجماع سے استدلال کرنا یہ تمھارے اس قول سے استدلال کرنے سے زیادہ قوی ہے کہ ’’جو اللہ نے چاہا وہ ہوا اور جو نہ چاہا وہ نہ ہوا۔‘‘ کیونکہ پوری امت اس بات پر متفق ہے کہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نماز، صدقہ اور اعمالِ صالحہ پر راضی ہے اور یہ انھیں محبوب ہیں ۔ جبکہ اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم فواحش اور ظلم سے نہ تو راضی ہیں اور نہ یہ انھیں پسند ہیں ۔پس تم لوگوں نے اپنے اس قول میں ’’کفر و عصیان اور فسق و فجور میں سے جو بھی واقع ہوا، وہ اللہ اور اس کے رسول کو محبوب اور پسند ہے۔‘‘ کتاب و سنت اور اجماع امت کی مخالفت کی ہے۔ تمھارا قول ہے کہ رب تعالیٰ نے ایمان والوں کو ایمان کی نعمت کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اس کی یہ نعمت کفار اور مومنین سب کے حق میں یکساں ہے۔ بلاشبہ یہ عقل و شرع دونوں کے خلاف ہے۔ کیونکہ رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَلٰکِنَّ اللّٰہَ حَبَّبَ اِِلَیْکُمُ الْاِِیْمَانَ وَزَیَّنَہٗ فِیْ قُلُوْبِکُمْ وَکَرَّہَ اِِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْیَانَ اُوْلٰٓئِکَ ہُمْ الرَّاشِدُوْنَo﴾ (الحجرات: ۷)’’اور لیکن اللہ نے تمھارے لیے ایمان کو محبوب بنا دیا اور اسے تمھارے دلوں میں مزین کر دیا اور اس نے کفر اور گناہ اور نافرمانی کو تمھارے لیے ناپسندیدہ بنا دیا، یہی لوگ ہدایت والے ہیں ۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿یَمُنُّونَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَیَّ اِِسْلَامَکُمْ بَلْ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ہَدَاکُمْ لِلْاِِیْمَانِ اِِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَo﴾ (الحجرات: ۱۷)’’وہ تجھ پر احسان رکھتے ہیں کہ وہ اسلام لے آئے، کہہ دے مجھ پر اپنے اسلام کا احسان نہ رکھو، بلکہ اللہ تم پر احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمھیں ایمان کے لیے ہدایت دی، اگر تم سچے ہو۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ مَا زَکَا مِنْکُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا﴾ (النور: ۲۱)’’اور اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی بھی کبھی پاک نہ ہوتا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿وَ کَذٰلِکَ فَتَنَّا بَعْضَہُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْٓا اَہٰٓؤُلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنْ بَیْنِنَا﴾(الانعام ۵۳)
’’اور اسی طرح ہم نے ان میں سے بعض کی بعض کے ساتھ آزمائش کی ہے، تاکہ وہ کہیں کیا یہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے ہمارے درمیان میں سے احسان فرمایا ہے؟‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یَحُوْلُ بَیْنَ الْمَرْئِ وَ قَلْبِہٖ﴾ (الانفال: ۲۴)’’اور جان لو کہ بے شک اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ بن جاتا ہے۔‘‘سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں :﴿رَبَّنَا وَ اجْعَلْنَا مُسْلِمِیْنِ لَکَ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِنَآ اُمَّۃً مُّسْلِمَۃً لَّکَ﴾ (البقرۃ: ۱۲۸)’’اے ہمارے رب! اور ہمیں اپنے لیے فرماں بردار بنا اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک امت اپنے لیے فرماں بردار بنا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَ اجْنُبْنِیْ وَ بَنِیَّ اَنْ نَّعْبُدَ الْاَصْنَامَo رَبِّ اِنَّہُنَّ اَضْلَلْنَ کَثِیْرًا مِّنَ النَّاسِ﴾ (ابراہیم: ۳۵۔۳۶)’’اور مجھے اور میرے بیٹوں کو بچا کہ ہم بتوں کی عبادت کریں ۔ اے میرے رب! بے شک انھوں نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر دیا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿لِمَنْ شَآئَ مِنْکُمْ اَنْ یَّسْتَقِیْمَo وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِِلَّا اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَo﴾ ہے چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقیناً ان سے ضائع ہو جاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی، پھر اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں جو کسی صورت ان کا انکار کرنے والے نہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔‘‘ان آیات میں رب تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ اس ہدایت کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے خاص کرتا ہے اور بتلایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں رب تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا۔ پس معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ اس ہدایت سے ہدایت پانے والے کو ہی خاص کرتا ہے ناکہ اسے جسے یہ ہدایت نہیں ملی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت یافتہ لوگ اس بات کے ساتھ خاص ہیں کہ رب تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی ہے ناکہ وہ لوگ خاص ہیں جو ہدایت پر چلنے والے نہیں اور ہدایت جب بیان اور دعوت کے معنی میں ہو تو اس میں مومن اور کافردونوں برابر ہوتے ہیں ، جیسے رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنَاہُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَی عَلَی الْہُدَی﴾ (فصلت: ۱۷)اور ثمودکو ہم نے سیدھا راستہ دکھایا مگر انھوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنے کو پسند کیا۔‘‘اور جب یہ اس معنی میں ہو کہ اسے ہدایت یافتہ بنا دیا تو یہ صرف مومن کے ساتھ خاص ہوتی ہے اور یہی معنی اس ارشاد باری میں مطلوب ہے:﴿اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمo﴾ (الفاتحۃ: ۶) ’’ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَo﴾ (البقرۃ: ۲) ’’بچنے والوں کے لیے سرا سر ہدایت ہے۔‘‘اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی تو ہدایت کہ جب وہ ذلالت و ارشاد کے معنی میں ہو تو بالقوۃ ہوتی ہے تب یہ مومن و کافر میں مشترک ہوتی ہے اور کبھی یہ بالفعل ہوتی ہے، تب یہ صرف مومن کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔ جیسا کہ تم کہتے ہو: ’’میں نے اسے سکھایا تو وہ سیکھ گیا اور میں نے اسے سکھایا تو وہ نہ سیکھا۔‘‘ی یہ بالفعل ہوتی ہے، تب یہ صرف مومن کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔ جیسا کہ تم کہتے ہو: ’’میں نے اسے سکھایا تو وہ سیکھ گیا اور میں نے اسے سکھایا تو وہ نہ سیکھا۔‘‘ اسی طرح تمھارا یہ کہنا ہے: ’’میں نے اسے ہدایت دی تو اس نے ہدایت لے لی اور میں نے اسے ہدایت دی تو اس نے ہدایت نہیں لی۔‘‘ پس پہلی قسم کی ہدایت مومنوں کے ساتھ خاص ہے اور دوسری قسم کی ہدایت مشترک ہے۔ ’’اس کے لیے جو تم میں سے چاہے کہ سیدھا چلے ۔ اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے ، جو سب جہانوں کا رب ہے۔‘‘{التکویر: ۲۸۔۲۹}اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلًاo﴾ (المزمل: ۱۹)’’تو جو چاہے اپنے رب کی طرف راستہ بنا لے۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ اِِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًاo﴾ (الدہر: ۳۰)’’اور تم نہیں چاہتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقیناً اللہ ہمیشہ سے سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔‘‘رب تعالیٰ نے ہمیں نماز میں یہ دعا مانگنے کا حکم دیا ہے:
﴿اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمo صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ وَ لَا الضَّآلِّیْنo﴾ (الفاتحۃ: ۶۔۷)’’ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔ ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر نہ غصہ کیا گیا اور نہ وہ گمراہ ہیں ۔‘‘ان انعام یافتہ لوگوں کا ذکر اس آیت میں ہے:﴿فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًاo﴾ (النساء: ۶۹)’’تو یہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا، نبیوں اور صدیقوں اور شہداء اور صالحین میں سے اور یہ لوگ اچھے ساتھی ہیں ۔‘‘مطلق انعام میں تو صرف مومنین داخل ہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مومنوں کی طاعت گزاری ہی وہ شے ہے جس کا رب تعالیٰ نے ان پر انعام کیا ہے۔ ایمان والوں اور کفر والوں پر انعام برابر ہوتا تو دونوں کے دونوں صراطِ مستقیم پر ہوتے۔اور غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ یہ صفت ہے ناکہ استثنا، کیونکہ یہاں ’’غیر‘‘ مجرور ہے۔ جیسا کہ عربوں کا قول ہے: اِنِّیْ لَاَمُرُّ بِالصَّادِقِ غَیْرَ الْکَاذِبِ‘‘(میں ایک سچے کے پاس سے گزرتا ہوں جو جھوٹا نہیں ہے)۔پس مَغْضُوْبِ عَلَیْہِمْ اور ضالین یہ منعم علیہم (انعام یافتہ لوگوں ) میں شامل و داخل نہیں ہیں کہ استثنا میں مغایرت ہوتی ہے۔اور ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿مَنْ یَّہْدِ اللّٰہُ فَہُوَ الْمُہْتَدِ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَلَہٗ وَ لِیًّا مُّرْشِدًاo﴾ (الکہف: ۱۷)’’جسے اللہ ہدایت دے سو وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے گمراہ کر دے، پھر تو اس کے لیے ہرگز کوئی رہنمائی کرنے والا دوست نہ پائے گا۔‘‘یہ آیت اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت یافتہ وہی ہے جسے اللہ ہدایت دے اور اگر رب تعالیٰ کافر کو بھی ایک مومن کی طرح ہدایت سے نواز دیتا تو وہ کافر بھی ہدایت یافتہ ہوتا۔سیدنا ابراہیم علیہ السلام فرماتے ہیں :﴿رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلٰوۃِ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّنَا وَ تَقَبَّلْ دُعَآئِo رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَ لِوَالِدَیَّ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابُo﴾ (ابراہیم: ۴۰۔۴۱)’’اے میرے رب! مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد میں سے بھی، اے ہمارے رب! اور میری دعا قبول کر۔ اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور ایمان والوں کو، جس دن حساب قائم ہو گا۔‘‘پس معلوم ہو گیا کہ سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو نماز قائم کرنے والا بنانے والی ذات اللہ رب العزت کی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَ جَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّہْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا﴾ (السجدۃ: ۲۴)’’اور ہم نے ان میں سے پیشوا بنائے، جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے، جب انھوں نے صبر کیا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَ جَعَلْنٰہُمْ اَئِمَّۃً یَّدْعُوْنَ اِلَی النَّارِ﴾ (القصص: ۴۱)’’اور ہم نے انھیں ایسے پیشوا بنایا جو آگ کی طرف بلاتے تھے۔‘‘سو یہ اللہ ہی ہے جس نے انھیں ائمہ ہدایت تو انھیں ائمہ ضلالت بنایا۔اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَبِمَا رَحْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ لِنْتَ لَہُمْ﴾ (آل عمران: ۱۵۹)’’پس اللہ کی طرف سے بڑی رحمت ہی کی وجہ سے تو ان کے لیے نرم ہوگیا ہے۔‘‘معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نرمی یہ رب تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے تھی۔اہل جنت کہیں گے:﴿الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ ہَدٰینَا لِہٰذَا وَ مَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْ لَآ اَنْ ہَدٰینَا اللّٰہُ لَقَدْ جَآئَ تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ﴾ (الاعراف: ۴۳)’’سب تعریف اللہ کی ہے جس نے ہمیں اس کی ہدایت دی اور ہم کبھی نہ تھے کہ ہدایت پاتے، اگر یہ نہ ہوتا کہ اللہ نے ہمیں ہدایت دی، بلاشبہ یقیناً ہمارے رب کے رسول حق لے کر آئے۔‘‘حضرات انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَ مِنْ اٰبَآئِہِمْ وَ ذُرِّیّٰتِہِمْ وَ اِخْوَانِہِمْ وَ اجْتَبَبْنٰہُمْ وَ ہَدَیْنٰہُمْ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍo ذٰلِکَ ہُدَی اللّٰہِ یَہْدِیْ بِہٖ مَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَ لَوْ اَشْرَکُوْا لَحَبِطَ عَنْہُمْ مَّا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَo اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ وَ الْحُکْمَ وَ النُّبَوَّۃَ فَاِنْ یَّکْفُرْبِہَا ہٰٓؤُلَآئِ فَقَدْ وَکَّلْنَا بِہَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِہَا بِکٰفِرِیْنَo اُولٰٓئِکَ الَّذِیْنَ ہَدَی اللّٰہُ فَبِہُدٰیہُمُ اقْتَدِہْ﴾ (الانعام: ۸۷۔۹۰)’’اور ان کے باپ دادا اور ان کی اولاد وں اور ان کے بھائیوں میں سے بعض کو بھی اور ہم نے انھیں چنا اور انھیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت دی۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے، وہ اس پر اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے چلاتا ہے اور اگر یہ لوگ شریک بناتے تو یقیناً ان سے ضائع ہو جاتا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی، پھر اگر یہ لوگ ان باتوں کا انکار کریں تو ہم نے ان کے لیے ایسے لوگ مقرر کیے ہیں جو کسی صورت ان کا انکار کرنے والے نہیں ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی، سو تو ان کی ہدایت کی پیروی کر۔‘‘ان آیات میں رب تعالیٰ نے اس بات کی خبر دی ہے کہ وہ اس ہدایت کے ساتھ اپنے بندوں میں سے جسے چاہے خاص کرتا ہے اور بتلایا کہ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں رب تعالیٰ نے ہدایت سے سرفراز فرمایا۔ پس معلوم ہوا کہ رب تعالیٰ اس ہدایت سے ہدایت پانے والے کو ہی خاص کرتا ہے ناکہ اسے جسے یہ ہدایت نہیں ملی اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہدایت یافتہ لوگ اس بات کے ساتھ خاص ہیں کہ رب تعالیٰ نے انھیں ہدایت دی ہے ناکہ وہ لوگ خاص ہیں جو ہدایت پر چلنے والے نہیں اور ہدایت جب بیان اور دعوت کے معنی میں ہو تو اس میں مومن اور کافردونوں برابر ہوتے ہیں ، جیسے رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَہَدَیْنَاہُمْ فَاسْتَحَبُّوا الْعَمَی عَلَی الْہُدَی﴾ (فصلت: ۱۷)اور ثمودکو ہم نے سیدھا راستہ دکھایا مگر انھوں نے ہدایت کے مقابلہ میں اندھا رہنے کو پسند کیا۔‘‘اور جب یہ اس معنی میں ہو کہ اسے ہدایت یافتہ بنا دیا تو یہ صرف مومن کے ساتھ خاص ہوتی ہے اور یہی معنی اس ارشاد باری میں مطلوب ہے:﴿اِہْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمo﴾ (الفاتحۃ: ۶) ’’ہمیں سیدھے راستے پر چلا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَo﴾ (البقرۃ: ۲) ’’بچنے والوں کے لیے سرا سر ہدایت ہے۔‘‘اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی تو ہدایت کہ جب وہ ذلالت و ارشاد کے معنی میں ہو تو بالقوۃ ہوتی ہے تب یہ مومن و کافر میں مشترک ہوتی ہے اور کبھی یہ بالفعل ہوتی ہے، تب یہ صرف مومن کے ساتھ خاص ہوتی ہے۔ جیسا کہ تم کہتے ہو: ’’میں نے اسے سکھایا تو وہ سیکھ گیا اور میں نے اسے سکھایا تو وہ نہ سیکھا۔‘‘ اسی طرح تمھارا یہ کہنا ہے: ’’میں نے اسے ہدایت دی تو اس نے ہدایت لے لی اور میں نے اسے ہدایت دی تو اس نے ہدایت نہیں لی۔‘‘ پس پہلی قسم کی ہدایت مومنوں کے ساتھ خاص ہے اور دوسری قسم کی ہدایت مشترک ہے۔


صفحہ 3 از 3