Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ارض روم کا غازی ابو مسلم خولانی رحمۃاللہ علیہ

  علی محمد الصلابی

ثامناً: ارض روم کا غازی ابو مسلم خولانی رحمۃاللہ علیہ 

ابو مسلم خولانیؒ کا شمار اس دور کے ان عظیم لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے مسلم معاشرے اور فتوحات اسلامیہ کی تحریک میں بڑا مثبت اور اہم کردار ادا کیا۔

ان کے بارے میں امام ذہبیؒ رقمطراز ہیں: سید التابعین، زاہد عصر ابو مسلم خولانیؒ کا نام صحیح قول کی رو سے عبداللہ بن ثوب ہے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 7، 8)

جب وہ مدینہ منورہ آئے تو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم داعیٔ اجل کو لبیک کہہ گئے تھے اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو خلیفہ منتخب کر لیا گیا تھا،

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 8)

انہوں نے یمن میں نبوت کا دعویٰ کرنے والے اسود عنسی کا راستہ روکنے کے لیے بڑا اہم کردار ادا کیا، اس فتنہ کے دوران ابو مسلمؒ اسلام پر ثابت قدم رہے۔ نبوت کے جھوٹے دعوے دار اسود عنسی نے انہیں دہکتی ہوئی آگ میں پھینک دیا مگر آپ کو اس سے کوئی گزند نہ پہنچی۔ اسود سے کہا گیا: اگر تو نے اسے یہاں سے نہ نکالا تو یہ تیرے پیروکاروں کو برباد کر دے گا۔ اس پر اس نے انہیں وہاں سے نکل جانے کا حکم دیا تو آپ مدینہ منورہ چلے آئے۔ اپنی سواری بٹھائی اور مسجد نبوی میں داخل ہو کر نماز ادا کرنے لگے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں دیکھا تو ان سے پوچھا: آپ کہا سے آئے؟ انہوں نے جواب دیا: یمن سے۔ انہوں نے پھر دریافت کیا: اس آدمی کا کیا بنا جسے کذاب نے نذر آتش کر دیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا: وہ عبداللہ بن ثوب تھا۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم وہی ہو؟ انہوں نے اس کا جواب اثبات میں دیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں گلے لگا کر رونے لگ گئے۔ پھر ان کے ساتھ گئے اور انہیں اپنے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے درمیان بٹھا دیا اور فرمانے لگے: میں اس اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس نے مجھے موت نہ دی یہاں تک کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت میں وہ آدمی دکھا دیا جس کے ساتھ اس نے وہی سلوک کیا جو سلوک اس نے ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ کیا تھا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 9)

عہد معاویہ میں دنیا میں موجود اس تابعی کبیر کا تعلق اہل شام کے ساتھ تھا جن سے بہت ساری مخلوق متاثر ہوئی۔ خولانی رحمہ اللہ بہت بڑے عبادت گزار تھے۔ ابو عاتکہ کہتے ہیں: ابو مسلمؒ نے مسجد میں ایک کوڑا لٹکا رکھا تھا۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 9)

ابو مسلم خولانیؒ فرمایا کرتے تھے: میں اس کوڑے کا حیوانات سے زیادہ حق دار ہوں، جب آپ عبادت کرتے کرتے تھک جاتے تو اپنی پنڈلیوں پر ایک یا دو کوڑے برسا دیتے۔ شرحبیل سے مروی ہے کہ دو آدمی ابو مسلمؒ سے ملاقات کرنے کے لیے آئے مگر وہ اس وقت گھر میں نہیں تھے، وہ مسجد میں آئے تو انہیں نماز پڑھتے پایا جس پر وہ ان کا انتظار کرنے لگے۔ ان میں سے ایک نے شمار کیا کہ انہوں نے تین سو رکعت نماز ادا کی ہے۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 10)

ابو مسلمؒ جب بھی باران رحمت کے لیے دعا کرتے بارش برسنے لگتی۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 11)

آپ بڑے مستجاب الدعوات تھے۔ محمد بن زیاد ابو مسلمؒ سے روایت کرتے ہیں کہ کسی عورت نے ان کی بیوی کو خراب کرنا چاہا تو آپؒ نے اس کے لیے بددعا کی جس سے وہ اندھی ہو گئی۔ وہ ابو مسلمؒ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور توبہ کرنے لگی۔ آپ نے عرض کیا: یا اللہ! اگر یہ صدق دل سے توبہ کر رہی ہے تو اس کی بینائی واپس لوٹا دے۔ اس پر اس کی بینائی بحال ہو گئی۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 11)

ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ ارض روم میں جہاد میں شریک رہے، مروی ہے کہ جب وہ کسی دریا پر آتے تو فرماتے: اللہ کا نام لے کر دریا سے پار گزر جاؤ۔ پھر آپ اپنے ساتھیوں کے سامنے دریا سے پار گزر جاتے اور پھر وہ بھی گہرا دریا عبور کر جاتے پھر جب وہ دریا عبور کر جاتے تو فرماتے: اگر کسی کی کوئی چیز گم ہو گئی ہو تو اس کا ضامن میں ہوں۔ ایک دفعہ ان میں سے ایک آدمی نے اپنی کوئی چیز گم کر دی۔ جب آپ دریا سے پار گزر گئے تو وہ کہنے لگا: میری فلاں چیز گم ہو گئی ہے۔ انہوں نے فرمایا: میرے پیچھے پیچھے آئیں۔ وہ آپ کے پیچھے چلا تو دیکھا کہ وہ دریا میں ایک لکڑی کے ساتھ لٹکی ہوئی ہے، آپ نے فرمایا: اسے پکڑ لو۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 4 صفحہ 11)

حکمران ابو مسلمؒ کے ساتھ برکت حاصل کیا کرتے اور مقدمات پر انہیں امیر بنایا کرتے تھے۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 13)

آپ رحمہ اللہ نے ارض روم میں وفات پائی۔ آپ بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے ساتھ موسم سرما کی جنگوں میں شریک ہوا کرتے تھے، اسی دوران ان کی موت واقع ہو گئی۔ جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کی موت کا علم ہوا تو فرمانے لگے: اصل مصیبت تو ابو مسلم خولانی رحمہ اللہ اور کریب بن سیف انصاری رحمہ اللہ کی وفات سے ٹوٹی۔

(ایضاً: جلد 4 صفحہ 14)

ابو مسلمؒ کا شمار دانا لوگوں میں ہوتا تھا، ان سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر پر راضی رہنے کے بارے میں ان کا یہ قول مروی ہے: اگر میرے ہاں ایسا بیٹا پیدا ہو جسے اللہ تعالیٰ بڑی اچھی طرح نشوونما دے یہاں تک کہ جب وہ بھرپور جوانی کو پہنچ جائے اور وہ میرے لیے سب سے بڑھ کر خوش کن ہو تو اللہ تعالیٰ اسے مجھ سے واپس لے لے تو مجھے دنیا و مافیہا سے زیادہ پسند ہے۔

(صفۃ الصفوۃ: جلد 4 صفحہ 213)۔ حلیۃ الاولیاء: جلد 2 صفحہ 127)

یہ ابومسلم عبداللہ بن ثوب خولانی رحمہ اللہ کے کمال توحید کی دلیل ہے اور وہ یوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے تکلیف دہ فیصلوں پر صبر کے مرحلے سے گزر کر قضا و قدر پر راضی رہنے کے مرحلہ تک جا پہنچے اور انہوں نے خوبصورت اور کڑیل جوانی کے حامل لخت جگر کی موت کو اپنے لیے دنیا اور دنیا کی تمام نعمتوں سے پسندیدہ قرار دے دیا۔

(التاریخ الاسلامی:  جلد 19 صفحہ 356)