Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں شمالی افریقہ کی فتوحات

  علی محمد الصلابی

اولاً: معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کا حملہ

معاویہ بن حدیج کندی رضی اللہ عنہ شرف صحابیت سے مشرف ہیں، آپ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت کم روایات نقل کی ہیں۔ ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث مروی ہے: ’’اگر کسی چیز میں شفا ہے تو وہ شہد پینے، سینگی لگوانے یا ڈم دینے میں ہے، مگر میں ڈم لگوانا پسند نہیں کرتا۔‘‘

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 37۔ اس کی سند حسن ہے)

ان کا شمار اشراف کندہ میں ہوتا ہے۔ آپ کی بادشاہت کو تسلیم کیا جاتا تھا

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 40)

اور آپ بہترین امراء میں سے تھے۔ عبدالرحمٰن بن شماسہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے دریافت فرمایا: تم کن لوگوں میں سے ہو؟ میں نے کہا: اہل مصر سے۔ انہوں نے دریافت کیا: تم نے ابن حدیج کو کیسا پایا؟ میں نے جواب دیا: وہ بہت اچھے امیر ہیں، جس کے پاس گھوڑا نہ ہو اسے گھوڑا، جس کے پاس اونٹ نہ ہو اسے اونٹ اور جس کے پاس غلام نہ ہو اسے غلام دیتے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے: ’’یا اللہ میری امت میں سے جو کوئی کسی چیز کا امیر بنا اور اس نے ان کے ساتھ نرمی کی تو تو اس کے ساتھ نرمی فرما، اور جس نے ان پر مشقت ڈالی تو اس پر مشقت ڈال۔‘‘

(مسلم: 1828)

جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی حکومت مستحکم ہو گئی تو انہوں نے شمالی افریقہ کے محاذ کو سب سے زیادہ اہمیت دی، اس لیے کہ اگر ایک طرف اس کی سرحدیں مغربی مصر سے ملتی تھیں تو دوسری طرف یہ علاقہ دولت بیزنطیہ کے اثر و نفوذ کے تابع تھا جو کہ مسلمانوں کی دشمن ریاست تھی اور جس کے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ناک میں دم کرنے کا ہمیشہ عزم مصمم کیے رکھا۔ عین اس وقت جب انہوں نے مشرق کی طرف سے دولت بیزنطیہ پر مسلسل دباؤ جاری رکھا اور اس کے دارالحکومت قسطنطنیہ تک پہنچنے کے لیے بحر متوسط میں اس کے جزائر میں پیش قدمی جاری رکھی تو انہوں نے شمالی افریقہ کے ساحلوں کے جنوب کی طرف سے بھی اسے نیچا دکھانے کا فیصلہ کر لیا، چنانچہ انہوں نے 41ھ میں معاویہ بن حدیجؓ کو افریقہ روانہ کیا۔ پھر 45ھ میں دس ہزار جنگجوؤں کا کمانڈر بنا کر انہیں دوبارہ ادھر بھیجا گیا یہاں تک کہ وہ افریقہ میں داخل ہو گئے۔ اس سفر کے دوران عبداللہ بن عمر بن الخطاب، عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہم، عبدالملک بن مروان اور یحییٰ بن الحکم بن العاص اور دیگر اشراف قریش بھی ان کے ساتھ تھے، شاہ روم نے ان کے مقابلہ کے لیے نقفورا نامی بطریق کو تیس ہزار جنگجوؤں کے ساتھ بھیجا، وہ ساحل پر اترا تو سیدنا معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف بھاری دستے کے ساتھ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کو بھیجا، وہ یہاں سے روانہ ہو کر ایک بلند چوٹی پر فروکش ہوئے جہاں لسے وہ اپنے اور سوسہ (سوسہ، نواحی افریقہ میں چھوٹا سا شہر، اس کے اور قیروان کے درمیان چھتیس میل کی مسافت ہے اور اسے سمندر نے شمال، جنوب اور مشرق کی طرف سے گھیر رکھا ہے، ملاحظہ ہو: معجم البلدان: جلد 3 صفحہ 286)

شہر کے درمیان میل تک کا سمندری علاقہ صاف دیکھ سکتے تھے۔ جب اس کی خبر نقفورا کو ملی تو وہ جنگ کیے بغیر واپس پلٹ گیا اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ کے پاس واپس لوٹ آئے۔ ابن حدیجؓ اس وقت جبل قرن پر موجود تھے۔ بعد ازاں ابن حدیج نے عبدالملک بن مروان کو ایک ہزار گھوڑا سوار سپاہ میں جلولاء (یہ شہر افریقہ میں واقع ہے اور اس کے اور قیروان کے درمیان چوبیس میل کی مسافت ہے۔ معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 156)

نامی شہر کی طرف روانہ کیا، انہوں نے جاتے ہی اس شہر کا محاصرہ کر لیا اور بہت سارے شہریوں کو قتل کرنے کے بعد اسے بزور بازو فتح کر لیا، خود معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ نے دو سو کشتیوں کے ساتھ صقلیہ کی طرف سمندر میں ایک دشمن لشکر سے جنگ کی جس میں انہوں نے کئی لوگوں کو قیدی بنایا، مال غنیمت حاصل کیا اور وہاں ایک ماہ قیام کرنے اور بہت سارا مال غنیمت حاصل کرنے کے بعد واپس افریقہ لوٹ آئے۔

(البیان المغرب لابن عذاری:  جلد 1 صفحہ 16، 17۔ الشرف و القسامی بحرکۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 209۔ حرکۃ الفتح الاسلامی فی القرن الاول: شکری فیصل: صفحہ 161)

ان فتوحات کے بعد معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ مصر واپس لوٹ آئے مگر وہاں کسی کو کمانڈر یا عامل مقرر نہ کیا، اس جنگ کے دوران ابن حدیج کے تصرف اور ان کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ اس علاقہ کے بربر رومیوں کے خلاف مسلمانوں کے حلیف بن گئے تھے جس کی وجہ سے مسلمان اس طرف کے رومی خطرات سے محفوظ ہو گئے تھے۔

(تاریخ المغرب و حضارتہ: حسین لونس: جلد 1 صفحہ 85)

جب معاویہ بن حدیجؓ مغربی طرابلس سے واپس لوٹے تو انہوں نے رویفع بن ثابت انصاریؓ کو اس کا والی مقرر کیا، یہ 46ھ کا واقعہ ہے، وہاں سے انہوں نے تیونس کے ساتھ جنگ کی اور 47ھ میں اس میں داخل ہو گئے اور جزیرہ جربہ کو فتح کر لیا جس میں بربر رہائش پذیر تھے، 

(صفحات من تاریخ لیبیا و الشمال الافریقی: صلابی: صفحہ 332)

مراجع بتاتے ہیں کہ انہوں نے اس جنگ میں بہت سارے لوگوں کو قیدی بنا لیا تو رویفع بن ثابت انصاریؓ کھڑے ہو کر مسلمانوں کو لونڈیوں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے بارے میں اسلامی احکام سے آگاہ کرنے کے لیے فرمانے لگے: خبردار! میں تمہیں وہی بات بتاؤں گا جو میں نے جنگ حنین کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے دوسرے کی کھیتی کو پانی پلانا جائز نہیں ہے (یعنی حاملہ عورتوں کے ساتھ مجامعت کرنا.)

اور جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ کسی قیدی عورت سے مجامعت کرے حتی کہ اس کا اسبرائے رحم ہو جائے (یعنی حیض کے ساتھ یا ایک ماہ گزرنے کے ساتھ)

اور جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لیے مال غنیمت فروخت کرنا جائز نہیں ہے جب تک کہ اسے تقسیم نہ کر دیا جائے، ابن ثابت انصاریؓ مغربی طرابلس کے والی کے طور پر کام کرتے رہے، پھر مسلمہ بن مخلد نے مصر اور برقہ کی ولایت بھی ان کے سپرد کر دی اس پر امارت کے دوران ہی 56ھ میں ان کا وہیں انتقال ہوا۔ برقہ میں مدینۃ البیضاء کے مقام پر جبل اخضر میں ان کی قبر جانی پہچانی ہے۔ آپ اس علاقہ میں فوت ہونے والے آخری صحابی ہیں۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے آٹھ احادیث روایت کی ہیں۔ آپ فقیہ صحابی تھے اور آپ کا شمار مفتی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں ہوتا ہے۔ آپ بڑے فصیح اللسان خطیب تھے۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 486۔ صفحات من تاریخ لیبیا و الشمال الافریقی: صفحہ 333)