Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عقبہ بن نافع رحمہ اللہ علیہ اور فتح افریقہ

  علی محمد الصلابی

ثانیاً: عقبہ بن نافع رحمہ اللہ اور فتح افریقہ

عقبہ بن نافع قرشی فہری افریقہ میں سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ اور یزید کے افریقہ میں نائب تھے، انہوں نے ہی قیروان شہر آباد کیا اور اس میں لوگوں کو بسایا۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 532)

عقبہ بن نافع بڑے امانت دار، شجاع اور محتاط قسم کے مرد میدان تھے، ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے، آپ فتح مصر میں شریک ہوئے اور اس کی منصوبہ بندی کی۔

(ایضاً: جلد 3 صفحہ 533) 

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے افریقہ میں اسلامی فتوحات کی تحریک کی قیادت اس عظیم کمانڈر کے سپرد کی جس کا نام تاریخ نے فتوحات کے میدان میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ثبت کر دیا۔ عقبہ افریقہ کے غزوات میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ آغاز سے ہی شریک عمل رہے اور اس میدان میں وسیع تجربات حاصل کیے۔ جب سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ فسطاط واپس لوٹے تو انہیں برقہ پر اپنا جانشیں مقرر فرمایا اس دوران وہ لوگوں کو دعوت اسلام پیش کرتے رہے۔ عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو قیادت کی سپردگی سارے شمالی افریقہ کی فتح کے لیے اہم قدم ثابت ہوئی۔ چونکہ وہ سیدنا عمرو بن العاصؓ کے ایام میں برقہ، زویلہ اور اس کے اردگرد کے علاقوں کی فتح سے ہی ان شہروں میں مقیم رہے جس کی وجہ سے انہیں اس امر کا بخوبی ادراک ہو گیا تھا کہ اگر مسلمانوں کو افریقہ میں قدم جمانے ہیں اور وہاں کے لوگوں کو ارتداد سے باز رکھنا ہے تو اس کے لیے ایک مضبوط مرکز قائم کرنے کی ضرورت ہے جہاں سے وہ غزوات کے لیے روانہ ہوا کریں اور پھر واپس آ کر اپنے اہل و عیال میں پرامن طریقے سے رہ سکیں۔ جب سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے افریقہ میں اسلامی فتوحات کی قیادت ان کے سپرد کی تو ان کے پاس دس ہزار گھوڑ سواروں پر مشتمل فوجی دستہ بھیجا، نیز جب دائرہ اسلام میں داخل ہونے والے بربر بھی ان کے ساتھ شامل ہو گئے تو ان کی جمعیت میں خاصا اضافہ ہو گیا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 483)

وہ اپنی جمعیت کے ساتھ روانہ ہوئے اور سرت (سرت برقہ اور طرابلس کے درمیان ایک شہر۔ معجم البلدان: جلد 3 صفحہ 206) میں مغمداش کے مقام پر فروکش ہو گئے۔ یہاں آمد پر انہیں یہ خبر ملی کہ اہل ودان(جنوبی افریقہ میں ایک علاقہ، اس کے اور زویلہ کے درمیان دس دن کی مسافت ہے۔ معجم البلدان: جلد 5۔ صفحہ 365، 366) نے بسر بن ارطاۃ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کیا ہوا اپنا معاہدہ توڑ دیا ہے اور جس جزیہ کی ادائیگی پر ان کے ساتھ اتفاق کیا تھا اس کی ادائیگی سے انکار کر دیا ہے، چنانچہ انہوں نے عمر بن علی قریشی اور زہیر بن قیش بلوی کی قیادت میں ایک لشکر روانہ کیا اور خود ایک دوسرے لشکر کے ساتھ فزان ( لیبیا کے جنوب میں وسیع و عریض صوبہ جس کا دار الحکومت زویلہ تھا) کی طرف جا نکلے۔ جب وہ فزان کے قریب پہنچے تو انہیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

(فتوح مصر: صفحہ 132)

پھر انہوں نے فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کوار (مغربی سوڈان میں فزان کے جنوب کی طرف ایک صوبہ۔ معجم البلدان: جلد 4 صفحہ 486)،

خاور (خاور: فزان کے جنوب میں ایک شہر)

غدامس (غدامس: جزائری حدود کے قریب لیبیا کے جنوب میں ایک شہر)

وغیرہا کے قلعہ جات فتح کر لیے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 296)

یہ بات قابل ملاحظہ ہے کہ عقبہ بن نافع دوران سفر ساحلی علاقوں سے دور رہے اور اندرونی علاقوں کے ایک ایک شہر کو فتح کرتے چلے گئے۔ بظاہر اس کی وجہ یہ لگتی ہے کہ اس طرح وہ بربر کو اپنے ساتھ رکھنا چاہتے اور ایک ایسا داخلی محاذ کھڑا کرنا چاہتے تھے جو ساحل پر آباد بیزنطیوں کا گھیراؤ کرے اور اہل اسلام کو مستحکم کرنے اور بیزنطی وجود کو نیست و نابود کرنے کے لیے افرادی قوت مہیا کرے۔

(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 280)