Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

منافقین اور کفاربمقابلہ مؤمنین

  امام ابنِ تیمیہؒ

[منافقین اور کفاربمقابلہ مؤمنین ]:منافقوں کے بارے میں رب تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿وَاِِذَا رَاَیْتَہُمْ تُعْجِبُکَ اَجْسَامُہُمْ وَاِِنْ یَقُوْلُوْا تَسْمَعْ لِقَوْلِہِمْ کَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌکَاَنَّہُمْ خُشُبٌ مُّسَنَّدَۃٌ یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ قَاتَلَہُمْ اللّٰہُ اَنَّی یُؤْفَکُوْنَo﴾(المنافقون: ۴)’’اور جب تو انھیں دیکھے تجھے ان کے جسم اچھے لگیں گے اور اگر وہ بات کریں تو تو ان کی بات پر کان لگائے گا، گو یا وہ ٹیک لگائی ہوئی لکڑیاں ہیں ، ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں ۔ یہی اصل دشمن ہیں ، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کر ے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں ۔‘‘اس آیت میں رب تعالیٰ نے یہ بتلایا ہے کہ منافقوں کے اجسام اور ظاہری صورتیں ہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ’’ابن اُبی ڈیل ڈول والا، فصیح و بلیغ اور صاحب زبان تھا۔‘‘ مفسرین کا قول ہے کہ رب تعالیٰ نے منافقوں کا یہ وصف بیان کیا ہے کہ وہ خوبصورت اور خوش گفتار تھے، پھر یہ بیان فرمایا کہ استغفار اور عدمِ فہم میں وہ دیوار میں گاڑے ہوئے کھونٹوں کی طرح تھے، مراد یہ ہے کہ وہ بے ثمر درخت تھے بلکہ دیوار کے سہارے ٹکی کھونٹیاں تھے۔ پھر رب تعالیٰ نے ان کا یہ عیب بھی بیان فرمایا کہ وہ بزدل تھے۔ چنانچہ فرمایا:﴿یَحْسَبُوْنَ کُلَّ صَیْحَۃٍ عَلَیْہِمْ ہُمُ الْعَدُوُّ فَاحْذَرْہُمْ قَاتَلَہُمْ اللّٰہُ اَنَّی یُؤْفَکُوْنَo﴾ (المنافقون: ۴)’’ہر بلند آواز کو اپنے خلاف گمان کرتے ہیں ۔ یہی اصل دشمن ہیں ، پس ان سے ہوشیار رہ۔ اللہ انھیں ہلاک کر ے، کہاں بہکائے جا رہے ہیں ۔‘‘یعنی ذرا سی بھی آواز سنتے تو یہ گمان کرتے تھے کہ ان پرعذاب آنے والا ہے کیونکہ ان کے دل مرعوب تھے اور رب تعالیٰ نے ان کے جیوں کے بھید آشکارا فرما دئیے۔اگر کوئی خوبروشخص عند اللہ مبغوض اعمال کا عادی ہو تو رب تعالیٰ بھی اس سے بغض رکھتے ہیں اور اس کے جمال کی وجہ سے اسے محبوب نہیں رکھتے۔ کیونکہ رب تعالیٰ اس کی صورت کو نہیں دیکھتے بلکہ اس کے دل اور اس کے عمل کو دیکھتے ہیں ۔سیدنا یوسف الصدیق علیہ السلام اگرچہ دیگر انبیاء کرام علیہم السلام سے زیادہ خوبصورت تھے اور ایک صحیح حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ ’’انھیں حسن کا نصف عطا کیا گیا تھا۔‘‘[1][1] صحیح مسلم: ۱؍۱۴۵۔۱۴۷، مسند احمد: ۳؍۲۸۶ طبعۃ الحلبی، المستدرک للحاکم: ۲؍۵۷۰۔ امام حاکم فرماتے ہیں : یہ حدیث صحیح اور مسلم کی شرط پر ہے، البتہ حضرات شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ ’’السلسلۃ الصحیحۃ‘‘ (۳؍۴۷۰) میں علامہ البانی رحمہ اللہ اس حدیث پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ حدیث صحیح اور مسلم کی شرط پر ہے۔ لیکن صرف اسی بنا پر وہ دوسرے پیغمبروں جیسے حضرت ابراہیم، حضرت اسماعیل، حضرت اسحاق، حضرت یعقوب، حضرت موسی، حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد علیہم السلام سے افضل نہ تھے۔اگرچہ سیدنا یوسف علیہ السلام ان پیغمبروں سے زیادہ خوبصورت تھے لیکن ان مذکورہ پیغمبروں کا ایمان اور اعمال سیدنا یوسف علیہ السلام کے ایمان اور اعمال سے افضل تھے۔ ان پیغمبروں کو صرف ایمان اور دعوت الی اللہ کی وجہ سے ستایا گیا تھا؛انکے دشمن دراصل اللہ اور اس کے رسول کے دشمن تھے، ان پیغمبروں کا صبر رب تعالیٰ کی توحید، عبادت اور طاعت پر تھا۔ قرآن کریم میں مذکورہ جملہ انبیائے کرام علیہم السلام کے قصوں سے یہی حقیقت آشکارا ہوتی ہے۔جبکہ سیدنا یوسف علیہ السلام کو ان کے بھائیوں نے اس بنا پر اذیت دی تھی کہ والد صاحب کو زیادہ پیارے اور ان کے زیادہ قریب تھے اور انھیں اپنے اس بھائی سے بے حد حسد تھا جو خالص ایک نفسانی جذبہ ہے۔ اور یہ ستانا دین کے لیے نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سیدنا یوسف علیہ السلام کا ان عورتوں پر صبر کرنا جنھوں نے آپ کو پھسلانا چاہا تھا اور ان لوگوں پر صبر کرنا جنھوں نے آپ کو حبس بے جا میں رکھا تھا کہ آپ کا یہ صبر بھائیوں کی ایذا رسانی پر صبر سے زیادہ افضل تھا۔ کیونکہ آپ کا یہ صبر اپنے اختیار سے اور رب تعالیٰ کے قویٰ کی وجہ سے تھا تاکہ آپ سے کسی فعل حرام کا ارتکاب سرزد نہ ہو۔ جبکہ بھائیوں کی ایذا رسانی پر صبر غیر اختیار تھا اور وہ مصیبت پر صبر کرنے کی جنس میں سے ہے۔ جبکہ یہ صبر ایک مومن کے ان لوگوں پر صبر کرنے کی جنس میں سے ہے جو اسے برائی کرنے کو کہیں اور یہ اللہ کے لیے ایسا کرنے سے انکار کر دے اور یہ اللہ کی طاعت پر جما رہے اور اپنی خواہش اور شہوت کو دبائے رکھے ۔ بلاشبہ یہ صبر افضل ہے۔جبکہ سیدنا ابراہیم، سیدنا موسی و عیسی اور ہمارے پیغمبر علیہم السلام کا صبر، یہ کفار کی ایذا و عداوت پر اور اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے پر صبر کرنا تھا۔ جو صبر کی دیگر تمام انواع و اقسام سے افضل ہے۔ جیسا کہ ایمان اور توحید یہ صرف ترکِ زنا سے افضل ہے، اور جیسا کہ یہ جملہ طاعات افضل ہیں ۔ لہٰذا ایمان و طاعت پر اور ان کی وجہ سے ایذا و عداوت پر صبر کرنا افضل ہے۔پھر یہ دشمنانِ ایمان مومنوں کو مار ڈالنا چاہتے تھے، اور اس غرض کے لیے انھوں نے ہر طریقہ اختیار کیا، انھیں مومنوں سے سرے سے محبت تھی ہی نہیں ۔ بخلاف سیدنا یوسف علیہ السلام کے کہ انھیں قید و بند کا ابتلا پیش آیا تھا (ناکہ قتل و ہلاکت کا) اور آپ کی محبت میں گرفتار عورت آپ کو اس سے زیادہ سزا دینے پر ہرگز تیار نہ تھی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ اَحْسَنَ الْقَصَصِ﴾ (یوسف: ۳)’’ہم تجھے سب سے اچھا بیان سناتے ہیں ۔‘‘لفظ ’’قصص‘‘ چاہے یہ ’’قص یقص‘‘ سے مصدر ہو اور چاہے مصدر بمعنی ’’مفعول‘‘ یعنی قصص بمعنی مقصوص ہو کہ یہ بات صرف قصۂ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہی مخصوص نہیں ۔ بلکہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کا قصہ اس سے زیادہ عظیم اور عمدہ ہے۔ اسی لیے رب تعالیٰ نے قصہ موسیٰ علیہ السلام کو قرآنِ کریم میں مکرر اور مبسوط و مفصل ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿فَلَمَّا جَآئَ ہٗ وَ قَصَّ عَلَیْہِ الْقَصَصَ﴾ (القصص: ۲۵)’’تو جب وہ اس کے پاس آیا اور اس کے سامنے حال بیان کیا۔‘‘اسی لیے فرمایا:﴿بِمَآ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ ہٰذَا الْقُرْاٰن﴾ (یوسف: ۳)’’اس واسطے سے کہ ہم نے تیری طرف یہ قرآن وحی کیا ہے۔‘‘پھر احسن القصص کے کلمات کو ’’کسر‘‘ کے ساتھ بھی قراء ت کیا گیا ہے۔ تب پھر یہ امر صرف قصۂ یوسف علیہ السلام کے ساتھ ہی خاص نہ ہو گا۔ بلکہ رب تعالیٰ کا بیان کردہ ہر قصہ ’’احسن‘‘ ہی ہو گا۔
رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ ’’رب تعالیٰ جمیل ہے اور جمال کو پسند فرماتا ہے‘‘ تو یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سائل کے جواب میں ارشاد فرمایا ہے کہ رب تعالیٰ کو کون سے اعمال محبوب اور کون سے غیر محبوب ہیں ۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی تو فرمایا تھا کہ ’’جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو گا وہ جنت میں داخل نہ ہو گا اور جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو گا وہ جہنم میں داخل نہ ہو گا۔‘‘ یہ بات معلوم ہے کہ تکبر بندے کے کسب سے ہے اور یہ اس کی قدرت و مشیت کے تحت داخل ہے، جو ممنوع ہے اور حکم اس کی ضد (یعنی عاجزی و انکساری اختیار کرنے) کا ہے۔ سائل دراصل اس بات سے اندیشہ کر رہا تھا کہ مبادا یہ تزئین و آرائش مذموم اور ممنوع کبر میں داخل ہو، اسی لیے اس نے یہ عرض کیا تھا کہ اسے اپنے کپڑوں اور جوتوں کا خوبصورت ہونا پسند ہے۔ آیا یہ وہی ممنوع و مذموم کبر تو نہیں ؟ کیونکہ جوتوں اور کپڑوں کا اچھا ہونا ایسا فعل ہے جو بندے کے کسب و فعل سے حاصل ہوتا ہے اور یہ ایسا فعل نہیں جو اس میں اس کے کسب کے بغیر پیدا ہوا ہو جیسے اس کی صورت کہ اس کی تخلیق میں آدمی کے کسب و فعل کا کوئی دخل نہیں ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سائل سے ارشاد فرمایا کہ ’’رب تعالیٰ خود بھی جمیل ہے اور جمال کو پسند بھی فرماتا ہے۔‘‘ یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رب تعالیٰ کو مبغوض کبر اور محبوب جمال کے درمیان فرق واضح فرما دیا۔یہ بات معلوم ہے کہ رب تعالیٰ جب ایک شخص کو جسم و قوت اور عقل و ذکاء وغیرہ جیسی صفات میں ، دوسرے سے افضل پیدا فرماتا ہے تو یہ اس دوسرے کے عنداللہ مبغوض ہونے کی دلیل نہیں ہوتا کیونکہ یہ باتیں بندے کے اختیار میں داخل نہیں ۔ بلکہ یہ باتیں اس میں اس کے اختیار کے بغیر پیدا کی گئی ہیں ۔ بخلاف اس کے دوسرے پر تکبر کرنے کے، کیونکہ یہ اس کا وہ عمل ہے جو اللہ کو مبغوض ہے۔ جیسا کہ رب تعالیٰ نے ابلیس سے فرمایا تھا:﴿فَمَا یَکُوْنُ لَکَ اَنْ تَتَکَبَّرَ فِیْہَا﴾ (الاعراف: ۱۳)’’کیوں کہ تیرے لیے یہ نہ ہوگا کہ تو اس میں تکبر کرے۔‘‘اسی طرح جس شخص کو رب تعالیٰ نے خوش رنگ، میانہ قامت اور خوبرو پیدا فرمای ہے تو یہ اس بندے کا کوئی ایسا فعل نہیں کہ جسے محمود یا مذموم کہا جا سکے یا اس پر ثواب و عقاب مرتب ہوتا ہو اور نہ اس پر اللہ اور اس کے رسول کی محبت یا بغض کا مدار ہے۔ جیسے کسی کا سیاہ فام، کوتاہ قامت یا دراز قد وغیرہ ہونا محمود یا مذموم فعل ہے، نہ اس پر ثواب و عقاب کا ترتب ہے اور نہ یہ اللہ اور اس کے رسول کی محبت یا بغض کا مدار ہی ہے۔ اسی لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے:’’نہ کسی عربی کو کسی عجمی پر اور نہ کسی عجمی کو کسی عربی پر اور نہ کسی سفید کو کسی سیاہ پر اور نہ کسی سیاہ کو کسی سفید پر کوئی فضیلت حاصل ہے مگر تقویٰ سے۔‘‘یہی وجہ ہے کہ رب تعالیٰ نے ایمان سے خالی دلوں والے خوبرو اور جسیم و قوی منافقوں کو سوکھی اور بے ثمر لکڑیوں سے تشبیہ دی ہے کہ ایسی لکڑی ناپسندیدہ ہی ہوتی ہے چاہے جتنی بھی بڑی ہو۔ یہی صورت اور قلب کا معاملہ ہے۔ البتہ بسا اوقات صورت ایمان اور عمل صالح میں معاون بن جاتی ہے جیسا کہ مال اور قوت۔ تب پھر جو آدمی ان چیزوں سے ایمان و طاعت میں مدد لیتا ہے اور معاصی سے بچتا ہے، تو اس کا جمال بھی اللہ کو محبوب ہو گا اور قوت اور مال بھی اور یہی اس کا وہ اصل جمال ہے جو رب تعالیٰ کو محبوب ہے چاہے بظاہر وہ سیاہ فام ہی ہو اور اگر وہ اس جمال کو اپنائے گا جو رب تعالیٰ کو محبوب ہوتا ہے تو اس کی یہ تزئین و تجمیل بھی عند اللہ محبوب ہو گی۔غرض یہاں یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ رب تعالیٰ کو کیا محبوب اور پسند ہے جس سے بندوں کو اجر ملتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہوتے ہیں ۔ یہ بات معلوم ہے کہ مطلق ارادہ میں اور لوگوں میں موجود محبت میں فرق ہے۔ انسان ہر اس بات کا ارادہ کرنے والا ہے جو وہ اپنے اختیار سے کر سکتا ہے۔ چاہے وہ فعل اس کے نزدیک مبغوض اور مکروہ ہی ہو اور آدمی ایسی بات کا ارادہ محبوب شے تک پہنچنے کے لیے کرتا ہے، جیسے مریض کہ جو صحت کی طلب میں کڑوی اور ناپسندیدہ دوا بھی اپنے اختیار و ارادہ سے کھاتا ہے چاہے اسے وہ دوا کھانے میں تکلیف ہی ہوتی ہو۔ کیونکہ یہ عافیت کا وسیلہ ہے جو اسے محبوب ہے اور رنج و الم کے زوال کا بھی وسیلہ ہے۔اب جہمیہ اور قدریہ اللہ کی مشیت اور محبت میں فرق نہیں کرتے کیونکہ یہ رب تعالیٰ کے لیے بعض امور مخلوق کے ساتھ محبت کو ثابت نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک رب تعالیٰ کا بندے کی توبہ سے خوش ہونا بھی ثابت نہیں ۔ اس بات کا پہلا منکر جعد بن درہم تھا جسے خالد بن عبداللہ القسری نے (عین عید قربان کے دن عیدگاہ میں ) یہ کہہ کر ذبح کر دیا تھا کہ ’’تم لوگ اپنی اپنی قربانیاں کرو، اللہ تمھاری قربانیاں قبول کرے، البتہ میں جعد بن درہم کو ذبح کر کے اس کی قربانی کر رہا ہوں کیونکہ یہ اس بات کا قائل ہے کہ اللہ نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں کیا اور ابراہیم علیہ السلام کو خلیل نہیں بنایا بے شک رب تعالیٰ جعد بن درہم کی باتوں سے بے حد بلند و برتر ہے۔‘‘ پھر منبر سے اتر کر جعد کو ذبح کر ڈالا۔کیونکہ خُلَّت یہ محبت کے تابع ہے۔ اب جو سرے سے محبت ہی کا منکر ہو اس کے نزدیک خُلَّت کہاں سے ثابت ہو گی، لہٰذا جس کے نزدیک اللہ نہ محبت کرتا ہے اور نہ اس سے محبت کی جاتی ہے، اس کے نزدیک اللہ کا کوئی محبوب و خلیل بھی نہ ہو گا۔ جبکہ حضرات انبیائے کرام علیہم السلام نے اس اصل کو ثابت کیا ہے کہ ’’رب تعالیٰ کو بعض امورِ مخلوقہ محبوب ہیں اور پسند ہیں اور بعض امور مبغوض اور ناپسند ہیں ، اور یہ کہ بندوں کے بعض اعمال اسے پسند ہیں اور بعض ناپسند ہیں ۔‘‘ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اتَّبَعُوْا مَا اَسْخَطَ اللّٰہَ وَکَرِہُوا رِضْوَانَہٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَہُمْo﴾ (محمد ۲۸)’’یہ اس لیے کہ بے شک انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جس نے اللہ کو ناراض کر دیا اور اس کی خوشنودی کو برا جانا تو اس نے ان کے اعمال ضائع کر دیے۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿لَقَدْ رَضِیَ اللّٰہُ عَنِ الْمُؤْمِنِیْنَ اِِذْ یُبَایِعُوْنَکَ تَحْتَ الشَّجَرَۃِ فَعَلِمَ مَا فِیْ قُلُوْبِہِمْ﴾ (الفتح: ۱۸)’’بلاشبہ یقیناً اللہ ایمان والوں سے راضی ہوگیا، جب وہ اس درخت کے نیچے تجھ سے بیعت کر رہے تھے، تو اس نے جان لیا جو ان کے دلوں میں تھا۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿فَلَمَّا آسَفُوْنَا انتَقَمْنَا مِنْہُمْ﴾ (الزخرف: ۵۵)’’پھر جب انھوں نے ہمیں غصہ دلایا تو ہم نے ان سے انتقام لیا۔‘‘’’اٰسفونا‘‘ کی تفسیر حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ’’اغضبونا‘‘ (یعنی جب انھوں نے ہمیں غضب دلایا) منقول ہے۔ ابن قتیبہ کا قول ہے کہ اسف یہ غضب کو کہتے ہیں ۔ عرب کہتے ہیں : ’’اسفت اسفا‘‘ یعنی میں غصہ میں آیا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُہٗ جَہَنَّمُ خٰلِدًا فِیْہَا وَ غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہٗ وَ اَعَدَّلَہٗ عَذَابًا عَظِیْمًاo﴾ (النساء: ۹۳)’’اور جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے، اس میں ہمیشہ رہنے والا ہے اور اللہ اس پر غصے ہوگیا اور اس نے اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے۔‘‘ایک صحیح حدیث میں متعدد طرق سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’رب تعالیٰ بندے کی توبہ سے اس شخص سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جس کی سواری ایک ہلاکت خیز بیابان میں گم ہو گئی ہو، جس پر اس کے کھانے پینے کا سامان بھی لدا تھا اور ڈھونڈنے کے باوجود اسے اپنی وہ سواری نہ ملی تھی، اور وہ موت کے انتظار میں ایک درخت کے نیچے پڑ کر سو گیا تھا، پس وہ بیدار ہوا تو اس نے اپنے سامنے اپنی سواری کھڑی دیکھی جس پر اس کے کھانے پینے کا سامان (اسی طرح) موجود تھا۔ پس رب تعالیٰ بندے کی توبہ سے اس آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتے ہیں جو اپنی (گم شدہ) سواری (کے ملنے) پر خوش ہوتا ہے۔‘‘بلاشبہ خوشی محبوب و مرغوب شے کے ملنے پر ہوتی ہے اور گناہ گار اپنے آقا سے بھاگے غلام کے جیسا ہوتا ہے اور جب وہ توبہ کر لیتا ہے تو ایسا ہوتا ہے جیسے بھاگا غلام اپنے آقا کے پاس اور اس کی تابع داری کی طرف لوٹ آیا ہو۔ رب تعالیٰ نے یہ مثال بیان کر کے واضح فرمایا ہے کہ رب تعالیٰ توبہ کرنے والے بندے سے کس قدر خوش ہوتے ہیں اور رب تعالیٰ کو توبہ سے کس قدر محبت اور معاصی سے کس قدر کراہت ہے اور یہ بھاگے غلام کی مثال پیش کرنے سے بڑی مثال ہے۔ کیونکہ ایک ہلاکت آفرین جنگل بیابان میں کھانا پینا لے کر گم ہو جانے والی سواری کے نہ ہونے سے بندے کو جس قدر اذیت اور تکلیف پہنچتی ہے، وہ اللہ ہی جانتا ہے کہ ایک تو ویران علاقہ، بے آب و گیاہ میدان جہاں موت و ہلاکت کا امکان زیادہ قوی ہو، دوسرے سواری کھانے پینے سمیت جاتی رہے جو ڈھونڈنے پر بھی نہ ملی ہو اور ناامیدی موت کے یقینی ہونے میں تبدیل ہو رہی ہو، لیکن پھر اچانک بیدار ہونے پر وہ سواری سامنے کھڑی ہو تو آدمی کو اس سے ایسی فرحت و مسرت میسر آتی ہے جس کی تعبیر ممکن نہیں ۔یہ بات رب تعالیٰ کی اس توبہ کے ساتھ محبت کو بیان کرتی ہے جو ایمان اور عمل صالح کو متضمن ہو اور اس کے برخلاف کے ساتھ رب تعالیٰ کی کراہت کو بھی بیان کرتی ہے۔ جس میں جہمیہ اور قدریہ پر ردّ ہے جو اس بات کے منکر اور دونوں باتوں کے قائل نہیں کہ یہ دونوں جماعتیں سب باتوں کو رب تعالیٰ کی طرف نسبت کے اعتبار سے یکساں قرار دیتی ہیں ۔ پھر قدریہ کا قول یہ ہے کہ رب تعالیٰ بندے کے نفع کا قصد کرتا ہے کیونکہ یہ حسن ہے اور بندے پر ظلم کا قصد نہیں کرتا کیونکہ یہ قبیح ہے اور جہمیہ کا قول ہے کہ جب رب تعالیٰ کی طرف نسبت کے اعتبار سے دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں تو رب تعالیٰ کے نزدیک کسی شے کا حَسَن یا قبیح ہونا ممتنع ٹھہرا۔ بلکہ یہ بات بندوں کے امورِ اضافیہ کی طرف راجع ہو گی۔اب بندے کے اعتبار سے حسن وہ شے ہے جو اس کے مناسب ہو اور اس پر وہ ثواب مرتب ہوتا ہو جو اس کے مناسب ہو، اور قبیح وہ شے ہے جو اس کے برعکس ہو، یہیں سے ان لوگوں نے محبت کو اور ارادہ کو یکساں قرار دے دیا ہے۔ پس اگر یہ لوگ اس بات کو ثابت کرتے کہ رب تعالیٰ محبوب کے حصول پر خوش ہوتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی خبر دی ہے، تو ان پر اس کی حکمت ظاہر ہوتی اور یہ بات بھی ظاہر ہو جاتی ہے کہ رب تعالیٰ کے جملہ افعال حکمت پر مبنی ہیں ۔اب جہمیہ کا قول ہے کہ جب رب تعالیٰ کی طرف نسبت کے اعتبار سے جملہ اشیاء برابر ہیں تو رب تعالیٰ کا کسی حکمت کے تحت کوئی فعل کرنا ممتنع ٹھہرا ۔اور معتزلہ کا قول یہ ہے کہ رب تعالیٰ ایسی حکمت کے تحت فعل کرتا ہے جو بندے کی طرف لوٹتی ہے۔ جہمیہ انھیں یہ کہتے ہیں کہ اب یہ حکمت یا تو اللہ کی طرف لوٹتی ہے، جس میں سے ایک بات ’’حکم‘‘ ہے؛ اور یا رب تعالیٰ کی طرف نہیں لوٹتی۔ رہی پہلی صورت تو وہ تمھاری اپنی وضع کردہ اصل کے خلاف ہے اور دوسری صورت ازخود ممتنع ہے کیونکہ کسی کا حسن کو قبیح پر اختیار کرنا ممتنع ہے جب کہ فعل حسن میں ایسا معنی ہی نہ ہو جو اس کی طرف لوٹتا ہو۔ تاکہ فعل حسن اس کے مناسب ٹھہرے۔ بخلاف قبیح کے، پس جب اس کا منفی ہونا فرض کر لیا گیا تو اس کا کسی حکمت کی خاطر اس فعل کو کرنا بھی ممتنع ٹھہرا۔پھر یہ صفت صفاتِ کمال میں سے سب سے بڑی صفت ہے، اسی طرح رب تعالیٰ کا محبوب لذاتہ ہونا رسولوں کے دین کی اصل ہے کیونکہ سب رسولوں نے رب تعالیٰ کی عبادت و وحدت کی دعوت دی ہے اور یہ کہ اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور الٰہ وہ ہوتا ہے جو مستحق عبادت ہو اور عبادت صرف تعظیم اور محبت کی بنا پر کی جاتی ہے۔ وگرنہ جو کسی ملنے والے معاوضے کے بدلے دوسرے کا کام کرتا ہے، وہ اس کا ’’عابد‘‘ نہیں کہلاتا۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿یُحِبُّہُمْ وَ یُحِبُّوْنَہٗٓ﴾ (المائدۃ: ۵۴) ’’وہ ان سے محبت کرے گا اور وہ اس سے محبت کریں گے۔‘‘اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :﴿وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَشَدُّ حُبًّا لِّلّٰہِ﴾ (البقرۃ: ۱۶۵)’’اور وہ لوگ جو ایمان لائے، اللہ سے محبت میں کہیں زیادہ ہیں ۔‘‘اب رب تعالیٰ سے محبت کی اور اس کے محبوب ہونے کی نفی کرنے والوں کا آخری امر یہ ہے کہ ان کے نزدیک اللہ کے اعتبار سے اس کے دوستوں اور دشمنوں میں وئی رق نہ رہے گا اور نہ کفر و ایمان میں ، نہ امر و نہی میں اور نہ مساجد اور شرک و فواحش کے اڈوں میں ہی کوئی فرق رہے گا۔زیادہ سے زیادہ جو فرق وہ ثابت کرتے ہیں ، وہ یہ ہے کہ یہ انسان کو حاصل ہونے والی لذت یا رنج و الم کی ایک علامت ہے۔ پھر اگر یہ ان صوفیاء میں سے ہیں جن کے نزدیک کمال یہ حظوظِ نفس سے بالکلیہ دست بردار ہو جانے کا نام ہے اور وہ توحید ربوبیت میں مقامِ فناء میں داخل ہ چکے ہیں جس کی بابت ان لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ عارف وہ ہے جس کے نزدیک اچھائی اور برائی یکساں ہو جائے، اور یہ لوگ اس مقام کو ’’عرفان‘‘ کی انتہا سمجھتے ہیں ۔ سو ان کے نزدیک بھی رب تعالیٰ کے اولیاء و اعداء میں اور ایمان و کفر میں اور رب تعالیٰ کی حمد و ثنا اور عبادت کرنے میں اور اسے سب و شتم کرنے میں اور اسے تین کا تیسرا قرار دینے میں اور اسی طرح پیغمبر میں اور ابوجہل میں اور اسی طرح موسیٰ اور فرعون میں سرے سے کوئی فرق ہی نہ رہے گا اور نہ ہے۔میں نے ایک دوسرے مقام پر یہ مضمون مفصل بیان کر دیا ہے۔