Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قیروان شہر کی تعمیر

  علی محمد الصلابی

ثالثاً: قیروان شہر کی تعمیر

50ھ میں اسلامی افریقہ نے عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے ساتھ نئے دور کا آغاز کیا۔ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ کم عمری سے ہی افریقہ کے معاملات سے آگاہ تھے انہوں نے بربر کے بکثرت ارتداد اور ان کی عہد شکنی کا بار بار مشاہدہ کیا۔ ان کے علم میں تھا کہ افریقہ کی حفاظت اور وہاں کے باشندوں میں اشاعت اسلام کا ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ ایک ایسے شہر کی تعمیر ہے جو مسلمانوں کا پڑاؤ ہو اور ان کے لشکر وہاں سے روانہ ہوں، چنانچہ انہوں نے قیروان شہر کی بنیاد رکھی اور اس میں جامع مسجد بھی تعمیر کی۔

(مدرسۃ الحدیث فی القیروان: جلد 1 صفحہ 38)

عقبہ نے شہر کی تعمیر شروع کرنے سے قبل اس کی راہ ہموار کرنے کے لیے اپنے لشکر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: جب افریقہ میں کوئی مسلمان امام داخل ہوتا ہے تو وہ لوگ اسلام قبول کر لیتے ہیں اور جب وہ اس سے باہر جاتا ہے تو وہ دوبارہ کفر اختیار کر لیتے ہیں، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ تم وہاں ایک ایسا شہر آباد کرو جو رہتی دنیا تک اسلام کے لیے باعث عزت و قوت ہو۔ لوگوں نے ان کی اس بات سے اتفاق کیا، انہوں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ اس شہر کے باسی اپنے دشمنوں کے خلاف ہمیشہ کمربستہ رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا: ہم سمندر کے قریب رہیں تاکہ جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ کماحقہ ادا کر سکیں۔ اس پر عقبہ کہنے لگے: مجھے یہ خوف دامن گیر ہے کہ اس طرح قسطنطنیہ کا حکمران اچانک حملہ آور ہو کر اس پر قبضہ جما لے گا۔ تم اس شہر اور سمندر کے درمیان اتنا فاصلہ رکھو جس سے نماز قصر واجب نہ ہوتی ہو۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 19)

مگر عقبہ کو قیروان کے لیے وہ جگہ پسند نہ آئی جو قبل ازیں معاویہ بن حدیج رضی اللہ عنہ نے تیار کی تھی۔ وہ لوگوں کو ساتھ لے کر اس جگہ پر آئے جہاں اس وقت قیروان موجود ہے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 270)

یہ جگہ ایک جنگل پر مشتمل تھی جو درندوں اور سانپوں سے بھرا پڑا تھا، انہوں نے ان سے جنگل کی صفائی کے لیے دعا کی تو ان میں سے کوئی ایک چیز بھی وہاں باقی نہ رہی۔ یہاں تک کہ درندے اپنے بچوں کو اٹھا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

(سیر اعلام النبلاء:  جلد 3 صفحہ 533)

یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا: اے اہل وادی! ہم ان شاء اللہ یہاں ڈیرے ڈالنے والے ہیں، لہٰذا تم یہاں سے نکل جاؤ۔ انہوں نے یہ بات تین دفعہ دہرائی۔ ہم نے دیکھا کہ ہردرخت اور پتھر کے نیچے سے جانور نکل کر بھاگ کھڑے ہوئے، یہاں تک کہ ہم وادی کے اندر اتر گئے، پھر انہوں نے لوگوں سے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر وادی میں اتر جاؤ۔

(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 9۔ معالم الایمان: جلد 1 صفحہ 9۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 533)

عقبہ بن عامر مستجاب الدعوات شخص تھے۔

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 533۔ عقبہ کی دعا کی وجہ سے جانوروں کے علاقہ چھوڑ جانے اور ان کے ساتھیوں کے آمین کہنے کی روایت صحیح الاسناد ہے)

جب بربر لوگوں کے ایک قبیلہ نے جانوروں کو اس طرح بچوں کو اٹھائے یہاں سے نقل مکانی کرتے دیکھا تو وہ اس سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہو گئے۔ پھر لوگ درخت کاٹنے میں لگ گئے۔ عقبہ نے شہر تعمیر کرنے کا حکم دیا تو ان کے حکم کی تعمیل میں قیروان شہر تعمیر کر دیا گیا اور اس میں جامع مسجد بھی بنا دی گئی۔ پھر لوگوں نے اپنے اپنے گھر تعمیر کیے اور مسجدیں بھی بنا لیں۔ یہ 55 ھ کی بات ہے۔ شہر کی تعمیر کے دوران عقبہ لشکر روانہ کرتے رہے اور مخالفین کے ساتھ برسر پیکار رہے جس کی وجہ سے بہت سارے بربر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ مسلمانوں کا دائرہ عمل وسیع ہو گیا، قیروان میں موجود مسلم سپاہ کو تقویت ملی، انہیں امن و اطمینان میسر آیا اور اس میں اسلام کی جڑیں مضبوط ہو گئیں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 484)

قیروان شہر کی منصوبہ بندی اسلامی انداز میں کی گئی۔ جامع مسجد سے متصل دار الامارہ قائم کیا گیا۔ ان دونوں کے درمیان سے قیروان کی مرکزی سڑک کا آغاز ہوتا ہے جو سماط اعظم کے نام سے موسوم ہے۔ مسجد اور دار الامارہ کے اردگرد وسیع دائرہ کی شکل میں خالی جگہ چھوڑی گئی تھی۔ افریقہ کے مختلف حصوں سے بربر قبائل قیروان کی طرف کھنچے چلے آئے اور اس کے گرد و نواح میں آباد ہو گئے۔ ان میں سے زیادہ تر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے اور عربی زبان، قرآن کریم اور دینی امور کی تعلیم حاصل کرنے میں مصروف ہو گئے، اس طرح ہم 50، 55ھ کے درمیان شمالی افریقہ کو عربی رنگ میں رنگنے کی زور دار تحریک کا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔

(تاریخ المغرب و حضارتہ: جلد 1 صفحہ 89)