Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

موضع قیروان کی خصوصیات

  علی محمد الصلابی

وہ سیاسی، عسکری، انتظامی اور دعوتی اسباب بڑے قوی تھے جنہوں نے عقبہ بن عامرؓ کے دل میں قیروان کی جگہ کو اس پر شہر آباد کرنے کے لیے آمادہ کیا۔ قیروان کی جگہ مندرجہ ذیل امتیازات کی حامل تھی:

الف: اسے فسطاط میں قائم عسکری قیادت کے مرکز سے کوئی سمندر یا دریا الگ نہیں کرتا، یہ شہر خشکی کے اس راستے پر واقع ہے جو مصر میں فسطاط اور مغرب کو ملاتا ہے، یوں لگتا ہے کہ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا یہ نظریہ اپنایا تھا کہ شہروں اور فوجی چھاؤنیوں کو اس انداز سے تعمیر کیا جائے کہ انہیں مدینہ منورہ یا مرکز قیادت سے کوئی دریا، سمندر یا پل الگ نہ کرے، اور یہ کہ وہ خشکی کے کنارے پر واقع ہو یا پھر خشکی اور صحراء کے قریب ترین ہو۔

ب: وہ جگہ عربوں کی ذہنیت اور ان کے ضروری مطالبات سے ہم آہنگ تھی، اس خصوصیت کی عکاسی عقبہ بن نافع کی اس تلقین سے ہوتی ہے کہ وہ جگہ شور زمین کے قریب ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ تمہارے پاس اونٹوں کی کثرت ہے جن کی چراگاہیں ان کے باڑوں کے دروازوں کے قریب ہونی چاہئیں۔

(الروض المعطار: صفحہ 486۔ دراسات فی تاریخ المدن العربیۃ الاسلامیۃ: و عبدالجبار ناجی: صفحہ 252)

اسی طرح ان کے رفقاء نے مشاورت کے دوران کہا تھا: ہم اونٹوں والے لوگ ہیں، ہمیں سمندر کے قریب رہنے کی کوئی ضروری نہیں ہے۔

(الاستقصاء لأخبار دول المغرب الاقصی: جلد 1 صفحہ 78)

ج: یہ جگہ ان پہاڑوں کے سامنے واقع تھی جو کہ بربر قبائل کی جائے پناہ تھے، اس صورت میں یہ جگہ اس زرعی علاقہ میں واقع تھی جس سے حاصل ہونے والی زرعی پیداوار مسلمان مجاہدین کی غذائی ضروریات پورا کرتی تھی۔

(القیروان: ازجیب الجنحانی: صفحہ 59)

د: یہ بات درست ہے کہ قیروان کو جس بنیادی مشکل کا سامنا تھا وہ پانی سے متعلق تھی، اگرچہ بصرہ میں بھی یہی صورت حال تھی مگر دونوں شہروں میں اس حوالے سے بنیادی فرق تھا، کہ بصرہ کا پانی نمکین تھا جبکہ قیروان کا پانی پینے کے قابل تھا اور اس کے دو ذرائع تھے: ان میں سے پہلا ذریعہ بارش تھی جس کا پانی حوضوں میں سٹور کر لیا جاتا اور دوسرا ذریعہ وادی سراویل کا پانی تھا مگر یہ نمکین تھا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض مؤرخین قیروان کے پانی کے مصدر کے بارے میں کہتے ہیں: وہ لوگ بارش کا پانی پیتے تھے، جب موسم سرما میں بارشیں ہوتیں تو بارش کا پانی وادیوں سے بڑے بڑے حوضوں میں داخل ہو جاتا جنہیں مؤجل کہا جاتا تھا۔ وادی سراویل میں کھارا پانی آتا جسے وہ دیگر ضروریات کے لیے استعمال کرتے تھے۔

(ایضاً: صفحہ 59)