Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

معاویہ (رضی اللہ عنہ) ظالم اور خارجی تھا۔(ادب القاضی)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

معاویہ (رضی اللہ عنہ) ظالم اور خارجی تھا۔(ادب القاضی) 

 الجواب اہلسنّت 

محترم قارئین شیعہ لوگوں کے انصاف اور سچ گوئی کی داد دیجئے اور نرالے ترجمہ پر جھوم جائیے۔ کتاب کے الفاظ ہیں۔ ’’الخارجین علی علی علیہ السلام جس کا ترجمہ حضرت علی رضی اللہ عنہ پر خروج کرنے (نکلنے) والے۔ اس الخارجين جو خرج یخرج کا اسم فاعل ہے کہ خارجی مذہب بنا دینا ایسا انوکھا کارنامہ ہے جس پر ابلیس بھی کئی بار شرما سا گیا ہوگا۔ یہی وہ انوکھا طرز الزام ہے جو شیعہ قوم کا وطیرہ اور پرانا کارنامہ ہے۔ یہاں الخارجین کا معنی خروج کرنے اور لڑائی کے لیے نکلنے والا ہے نہ کہ خارجی اور خارجی ایک مذہب ہے جو اول اول شيعانِ حیدر کرار کے نام سے معروف تھا۔ پھر جب صلح کے لیے اجتماعی کوششیں شروع ہوئیں اور حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے فیصلہ پر رضا مندی کا اظہار فرمایا کہ یہ منصف جو فیصلہ کر دیں مجھے منظور ہے تو یہ لوگ بگڑ کھڑے ہوئے اور لشکر حیدری سے نکل کر الگ تھلگ ایک دوسری جماعت بنا نکالی جن کو خارجی کہا جاتا ہے۔ جن عقل دُشمنوں کو خروج اور خارجی کا فرق معلوم نہ ہو سکا وہ کتابوں کو کیا سمجھیں گے جبکہ یہ الخروج والی بات تو ایسی عام فہم اور سادہ سی ہے کہ ہر ابتدائی درجے کا طالب علم بھی اس کا معنی جانتا اور فرق کو ازبر کیے ہوتا ہے مگر تحقیقی دستاویز کے نام سے تحقیق کے بگل بجانے والے محققین کا یہ حال ہے کہ وہ ثلاثی مجرد کے ان مشہور و معروف ابواب سے بھی واقف نہیں جن سے صَرف کی ابتدا ہوتی ہے جب مذہب شیعہ کے محققوں کا یہ حال ہے تو پھر مرثیہ خوانی پر گزارا کہنے والی امت کا کیا عالم ہوگا؟

ہم قارئین کی خدمت میں یہ عرض گزار ہیں کہ رافضی امت ، ہمیشہ دھوکہ فراڈ سے اپنا کام چلاتی اور عامۃ الناس کو لفظوں کے پھیر میں گمراہی کا سودا بیچتی ہے یہی وہ کارنامہ ہے جو سوا شیعہ برادری کے کسی کو نصیب نہیں۔