عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی معزولی اور ابو المھاجر کی ولایت 55ھ
علی محمد الصلابیرابعاً: عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کی معزولی اور ابو المھاجر کی ولایت 55ھ
عقبہ فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھے اور اپنے نئے شہر کو منظم کر رہے تھے کہ اس دوران مصر کے والی مسلمہ بن مخلد نے انہیں معزول کر کے ان کی جگہ اپنے آزاد کردہ غلام ابو المھاجر کو افریقہ کی ولایت کا پروانہ جاری کر دیا، جب لوگوں نے اس سے کہا: کاش تم عقبہ کو اس کے منصب پر برقرار رہنے دیتے، وہ بڑے مقام و مرتبے اور فضل و شرف کے حامل ہیں، تو انہوں نے جواب دیا: ہم ابو المہاجر کے صبر و حوصلہ کا انہیں صلہ دینا چاہتے ہیں۔
(فتوح مصر: صفحہ 134، البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 22)
عقبہ اپنی معزولی کے بعد اپنی خفگی کا اظہار کرنے کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دمشق گئے اور ان سے کہنے لگے: میں نے شہر فتح کیے، گھر تعمیر کیے، جامع مسجد بنائی، اور اس کا صلہ تم نے مجھے یہ دیا کہ انصار مدینہ کے غلام کو بھیج دیا جس نے مجھے بڑے برے طریقے سے معزول کیا۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے معذرت کرتے ہوئے کہا: تم خلیفہ مظلوم کے بارے میں مسلمہ بن مخلد کے مؤقف سے بخوبی آگاہ ہو، وہ انہیں مقدم رکھتے تھے، وہ ان کے خون کا مطالبہ لے کر اٹھے اور اس کے لیے خون جگر دیا۔
(فتوح مصر: صفحہ 134)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دوبارہ ان کے منصب پر فائز کرنے کا وعدہ کیا مگر جیسا کہ ابن العذاری نے لکھا ہے معاملات تاخیر کا شکار ہوتے گئے یہاں تک کہ ان کی وفات ہو گئی اور حکومت یزید کے ہاتھ میں آ گئی تو اس نے عقبہ کو افریقہ کا والی بنا کر واپس بھجوا دیا۔
(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 22۔ العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 271)
اس موضوع کے بارے میں ایک نکتہ بڑی اہمیت کا حامل ہے، اور وہ ہے عقبہ کی معزولی کے دوران ابو المھاجر کی ان کے ساتھ بدسلوکی۔ مصادر بتاتے ہیں کہ ابوالمھاجر نے عقبہ کے ساتھ بڑی بدسلوکی کا مظاہرہ کیا۔ انہیں حوالہ زنداں کیا اور انہیں بیڑیوں میں جکڑ دیا۔
(فتوح مصر: صفحہ 133، 134۔ البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 22)
مگر ہم یہ نہیں جانتے کہ ابو المھاجر نے ایسا کیوں کیا؟ ڈاکٹر عبدالشافی محمد عبداللطیف اپنی معرکہ آراء کتاب میں لکھتے ہیں: ہمیں معلوم نہیں کہ ابو المہاجر کو ایسا کرنے کو کس چیز نے اکسایا؟ ہمارے لیے مسلمہ بن مخلد پر عائد کردہ ڈاکٹر حسین مونس کی اس تہمت کو قبول کر لینا مشکل ہے جو کہ عقبہ کے ساتھ روا رکھی گئی کہ اس بدسلوکی کے پیچھے ان کا ہاتھ تھا۔
(فتح العرب للمغرب: صفحہ 151)
اس لیے کہ اس کی دلیل نہیں ہے، جب مسلمہ نے ابو المھاجر کو افریقہ کا والی بنایا تو اس بارے میں عبدالحکیم رقمطراز ہیں: مسلمہ نے ابو المھاجر کو والی مقرر کرتے وقت وصیت کی کہ وہ عقبہ کو عزت سے معزول کریں، مگر ابو المھاجر نے ان کی حکم عدولی کرتے ہوئے انہیں برے طریقے سے ان کے عہدے سے معزول کیا اور انہیں بیڑیوں میں جکڑ کر قید میں ڈال دیا یہاں تک کہ خلیفہ کے حکم پر مبنی انہیں یہ خط ملا کہ انہیں رہا کر کے میرے پاس بھیجا جائے۔
(فتوح مصر: صفحہ 133، 134)
پھر آگے چل کر کہتے ہیں: جب عقبہ مصر سے گزرے تو مسلمہ نے ان سے ملاقات کر کے قسم اٹھائی کہ ابو المھاجر نے میری حکم عدولی کرتے ہوئے یہ کچھ کیا۔ میں نے تو اسے تمہارے بارے میں خاص طور پر حسن سلوک کی وصیت کی تھی۔
(تاریخ المغرب الکبیر: جلد 2 صفحہ 33)
مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ابو المھاجر نے اپنے آقا کی وصیت کی مخالفت کرتے ہوئے عقبہ کے ساتھ اس قسم کا ناروا سلوک کیوں کیا۔ جبکہ وہ ذاتی طور پر عقبہ کے مقام و مرتبہ سے بخوبی آگاہ تھا اور وہ ان کا احترام بھی کیا کرتا تھا، جب عقبہ نے اس کے حق میں بددعا کی تو وہ پریشان ہو کر کہنے لگا: اس آدمی کی دعا ردّ نہیں کی جاتی۔ مگر اس سوال کا ہمارے پاس کوئی شافی جواب نہیں ہے۔ البتہ جو نتیجہ محمد علی دبوز نے اخذ کیا ہے وہ قدرے اطمینان بخش ہے اور وہ یہ کہ ابو المھاجر نے ایسا اضطراری حالت میں کیا اس لیے کہ عقبہ نے اپنی معزولی کو خوش دلی سے تسلیم نہیں کیا تھا اور وہ اپنے آپ کو ابوالمھاجر سے زیادہ ولایت اور قیادت کا حق دار خیال کرتے تھے۔ غالباً ابو المھاجر کو یہ خوف دامن گیر ہوا کہ عقبہ کے اس طرز عمل کی وجہ سے مسلمانوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا جس سے ان کے دشمن اہل روم فائدہ اٹھا سکتے ہیں، لہٰذا انہیں اضطراری حالت میں عقبہ کو گرفتار کر کے جیل میں رکھنا پڑا تاکہ مسلمانوں میں کوئی بگاڑ پیدا نہ ہو سکے۔
(تاریخ المغرب الکبیر: جلد 2 صفحہ 33)
اگر یہ بات درست ہے اور جو بہرحال معقول ہے تو پھر اس سے اس ملامت کی شدت میں کمی آ جاتی ہے جس کا ہر وہ مسلمان ابو المھاجر کو نشانہ بناتا ہے جو اس بات کا شدت کے ساتھ خواہش مند ہے کہ مسلمان قائدین میں جس قدر بھی اختلافات موجود ہوں ان میں عزت و احترام کا رشتہ قائم رہنا چاہیے اور نئے آنے والوں کو جانے والوں کی کاوشوں اور تجربات سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان سے بدسلوکی پر مبنی رویہ اختیار کرنا اور دلوں میں کینہ رکھنا ناقابل قبول رویہ ہے، اسی طرح جانے والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ آنے والوں کو اپنے تجربات سے آگاہ کریں اور انہیں پند و نصائح سے نوازا کریں تاکہ وہ اپنے مقاصد اور ذمہ داریوں کی ادائیگی میں کامیاب ہو سکیں، اس لیے کہ مقصد تو سب کا ایک ہے اور وہ ہے جہاد فی سبیل اللہ، اعلائے کلمۃ اللہ اور دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 274)