Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ابو المھاجر دینار کی فتوحات 55-62ھ

  علی محمد الصلابی

خامسًا:ابو المھاجر دینار کی فتوحات 55-62ھ 

اس سنگین غلطی کے باوصف جس کا ارتکاب ابو المھاجر نے عظیم مجاہد عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کے حق میں کیا، انصاف ہم سے یہ اعتراف کرنے کا متقاضی ہے کہ انہوں نے مغرب کو فتح کرنے اور اسلام کو بطور دین اور نظام حیات کے قبول کرنے کے لیے راستہ ہموار کرنے میں بڑا اہم کردار ادا کیا۔ ابو المہاجر نے دانائی، سیاست اور حسن تصرف سے وافر حصہ پایا تھا، ان کی باریک بیں نگاہوں نے انہیں اس بات سے آشنا کیا کہ شدت کی جس سیاست پر عقبہ بن نافعؓ گامزن رہے اسے تبدیل کرنا ضروری ہے اور یہ کہ انہیں لوگوں کے دل جیتنے کی سیاست اختیار کرنی چاہیے۔ بربر بڑے سخت قسم کے لوگ تھے جو اپنی عزت اور آزادی کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ ابو المھاجر نے دل جیتنے والی سیاست اختیار کر کے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اس دوران انہیں اس بات کا بھی ادراک ہوا کہ شمالی افریقہ میں بربر قبائل کو مسلمانوں کے خلاف متحرک کرنے والے اور ان میں فساد برپا کرنے والے رومی ہیں

(تاریخ المغرب الکبیر: جلد 2 صفحہ 33 )

جو کہ ان سے دوستی کا اظہار کر کے انہیں اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں، لہٰذا انہوں نے لوگوں کو رومیوں کے اصل کردار سے آگاہ کرنے اور بربر قبائل کو یہ یقین دلانے کی سیاست اپنائی کہ مسلمان اس علاقے میں ان کی آزادی سلب کرنے اور انہیں غلام بنانے اور ان کا استحصال کرنے کے لیے نہیں آئے جیسا کہ رومی پروپیگنڈہ کرتے ہیں، وہ ان کے پاس صرف انہیں راہ راست پر لانے اور انہیں اسلام کی دعوت دینے کے لیے آئے ہیں جو کہ ان کے لیے خیر و برکت کا پیغام ہے اور اس میں ان کی سعادت پنہاں ہے اور یہ کہ وہ رومیوں سے آزادی حاصل کرنے میں ان کی مدد کرنا چاہتے ہیں جو کئی صدیوں سے ان کا اور ان کے علاقوں کو استحصال کر رہے ہیں۔ رومی افریقہ کے وسط اور اس کے جنوب میں متعدد شکستوں سے دوچار ہونے کے باوجود شمال میں ابھی تک بڑی قوت کے مالک تھے اور ان کے دار الحکومت قرطاجنہ کا گزشتہ فاتحین میں سے کسی نے قصد نہیں کیا تھا، وہ ابھی تک بنزرت سے لے کر طنجہ تک مغربی ساحل میں بھی مؤثر قوت کے طور پر موجود تھے، لہٰذا ابو المھاجر انہیں ان علاقوں میں کمزور کرنے کے لیے ان پر شدید ضرب لگانا چاہتے تھے اور بربر قبائل کے ساتھ ان کے معاہدے کو توڑنا چاہتے تھے، لہٰذا وہ قرطاجنہ کی طرف روانہ ہوئے اور اسے دعوت مبارزت دی مگر جب شہریوں نے اس کے دروازے بند کر دئیے اور اس کی بلند و بالا دیواروں کے پیچھے قلعہ بند ہوئے تو ابو المھاجر نے اس کا محاصرہ سخت کر دیا جب رومیوں کو یقین ہو گیا کہ وہ اسلامی لشکر کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہیں اور یہ کہ ان کے خلاف ابو المھاجر کی جیت یقینی ہے اور وہ بزور بازو دار الحکومت میں داخل ہو جائیں گے تو انہوں نے ان سے صلح کا مطالبہ کیا، انہوں نے ان کی یہ پیش کش اس شرط پر قبول کر لی کہ وہ جزیرہ شریک (یہ شریک عبسی کی طرف نسبت ہے اور یہ جزیرہ قرطاجنہ کے مشرق میں واقع ہے۔ تاریخ المغرب الکبیر: جلد 2 صفحہ 34) کو خالی کر دیں گے تاکہ اس میں ان کا لشکر پڑاؤ کر سکے، یہ جزیرہ قرطاجنہ سے قریب تھا اس پر قبضہ جمانے کا مقصد رومیوں کی نگرانی کرنا اور ان کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنا تھا۔ ابو المھاجر نے اس جزیرہ میں اپنے ایک کمانڈر حنش صنعانی کی قیادت میں ایک لشکر چھوڑا تاکہ وہ بوقت ضرورت رومیوں کا راستہ روک سکیں۔

(تاریخ المغرب الکبیر: جلد 2 صفحہ 34۔ العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 276)

جب رومی جزیرہ شریک سے باہر نکل گئے تو ابو المھاجر نے قرطاجنہ کا محاصرہ اٹھا لیا اور رومیوں کی نقل و حرکت پر نگاہ رکھنے اور مسلمانوں کی پر امن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے وہاں ایک پرجوش لشکر چھوڑ دیا، اور خود مغرب کی طرف پیش قدمی کے لیے ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ چل نکلے۔ رومی اور بربر قبائل ان سے اس قدر خوفزدہ ہوئے کہ کسی کو بھی ان کا راستہ روکنے کی جرأت نہ ہوئی یہاں تک کہ وہ میلہ شہر جا پہنچے

(النجوم الزاہرہ: جلد 1 صفحہ 152۔ العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 277)

یہ شہر بجایہ سے پچاس میل دور اس کے جنوب مشرق میں واقع ہے۔

(بجایہ تیونس اور مغرب کے درمیان ساحل سمندر پر واقع ہے۔ معجم البلدان: جلد 1 صفحہ 339)

وہاں پہنچنے پر انہیں معلوم ہوا کہ یہ شہر جنگ کرنے کے لیے تیار ہے اس میں رومیوں اور بربر لوگوں کی ایک جماعت تھی جو قلعہ بند ہو گئی۔ ابو المھاجر نے اس شہر سے جنگ کی اور اس پر قبضہ جما لیا جو کچھ ہاتھ لگا اسے مال غنیمت کے طور پر سمیٹ لیا اور خود اس میں جم کر بیٹھ گئے۔ میلہ شہر مغرب ادنی اور مغرب اوسط کے درمیان واقع تھا اور یہ اس خطے میں بربروں اور رومیوں کی نگرانی کے لیے بہترین جگہ تھی جسے انہوں نے اپنا ٹھکانا بنا لیا۔ انہوں نے وہاں تقریباً دو سال تک قیام کیا، اس دوران وہ مسلسل بربر لوگوں کے ساتھ رابطے میں رہے، انہیں اسلام کی حقیقت سے آشنا کرتے اور انہیں دعوت اسلام دیتے رہے۔ آپ اپنی سیاست میں بہت حد تک کامیاب رہے، اس کی دلیل یہ ہے کہ مؤرخین نے اس عرصہ کے دوران ہونے والے کسی معرکہ کا ذکر نہیں کیا

( تاریخ المغرب الکبیر: جلد 2 صفحہ 35)

اور اس کی وجہ یہ ہے کہ رومی بربروں کی وجہ سے طاقت حاصل کرتے تھے جبکہ ابو المھاجر نے انہیں رومیوں سے الگ کر کے اپنے ساتھ ملا لیا تھا جس کی وجہ سے یہ علاقے اس طرح پرسکون ہو گئے تھے جس طرح سمندر طوفان کے بعد پرسکون ہو جاتا ہے۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 35۔ العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 277)

دوسری طرف ابو المھاجر کو یہ خبریں مسلسل مل رہی تھیں کہ رومیوں اور بربروں کی ایک جماعت ان کے ساتھ جنگ کرنے کی تیاری کر رہی ہے، چنانچہ آپ نے ان کی طرف روانگی کا فیصلہ کر لیا، اس وقت مغرب اوسط اور مغرب اقصیٰ کی قیادت قبیلہ اوربہ کے ہاتھ میں تھی (تاریخ ابن خلدون: جلد 6 صفحہ 146، تاریخ المغرب الکبیر: جلد 2 صفحہ 38)

اس قبیلہ کا سردار کسیلہ بن لمزم تھا، کسیلہ بیدار مغز، بھاری بھر کم شخصیت کا مالک اور اپنے وطن کے لیے بڑا غیور تھا۔ بربر قبائل اس کی تعظیم و توقیر کرتے اور اس سے محبت کیا کرتے تھے۔ یہ شخص نصرانی تھا اور اسے اپنے دین کے ساتھ گہرا لگاؤ تھا مگر وہ اسلام اور مسلمانوں کی حقیقت سے ناآشنا تھا، لہٰذا رومی اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں اسے غلط تاثر دینے میں کامیاب ہو گئے اور اس نے یقین کر لیا کہ یہ لوگ اس کے دین اور وطن کے دشمن ہیں، اسے معلوم ہوا کہ ابو المھاجر اس وقت میلہ میں مقیم ہے، لہٰذا وہ بربروں کو مسلمانوں کا مقابلہ کرنے، ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کرنے اور انہیں ان کے شہروں سے نکال باہر کرنے کی دعوت دینے لگا۔ بربر اپنے امیر کسیلہ کے اکسانے پر بھڑک اٹھے اور جنگی ہتھیار پہن کر جنگ کے لیے مستعد ہو گئے۔ اس طرح کسیلہ کے لیے رومیوں اور بربروں پر مشتمل ایک بھاری لشکر اکٹھا ہو گیا۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 38)