عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 4

55ھ میں قیروان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو افریقہ کی ولایت سے معزول کر دیا گیا، بعد ازاں 62ھ میں انہیں یہ ولایت دوبارہ تفویض کر دی گئی تو وہ اپنے اس مشہور سفر پر روانہ ہوئے جس میں انہوں نے تیونس میں قیروان سے محیط اطلس تک۔۔۔ ایک ہزار میل سے زیادہ کی مسافت طے کی، انہوں نے قیروان پر زہیر بن قیس بلوی کو اپنا جانشین مقرر کیا اور قیروان کے لیے یہ دعا کی: یا اللہ! اس شہر کو علم و دانش سے معمور کر دے اور اسے اپنے اطاعت گزاروں سے بھر دے، اس شہر کو اپنے دین کے لیے باعث عزت اور کفار کے لیے باعث ذلت بنا اور اسے زمین کے جابروں سے محفوظ فرما۔ عقبہ اپنے ان دس ہزار ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے جنہیں وہ شام سے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے، ان کے علاوہ قیروان سے بھی بہت سارے لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے، آپ نے روانگی سے قبل اپنے بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ بیچ دیا ہے اور میں کفار کے ساتھ ہمیشہ جہاد کرتا رہوں گا، پھر فرمانے لگے: میرے بیٹو! میں تمہیں تین باتوں کی وصیت کرتا ہوں، انہیں اچھی طرح یاد رکھنا اور انہیں ضائع نہ کرنا، اپنے سینوں کو اشعار سے مت بھرنا اور قرآن کو ترک نہ کرنا، اس لیے کہ قرآن اللہ پر دلالت کرتا ہے، کلام عرب سے وہ کچھ لو جس سے عقل مند انسان راہ پاتا ہے اور جو تمہیں مکارم اخلاق سے آشنا کرے، اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے اس سے باز رہو، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی بھی حالت میں قرض نہ اٹھانا، اس لیے کہ قرض دن کی ذلت اور رات کا غم ہے۔ قرض لینے سے باز رہو اس سے تمہاری عزت بھی محفوظ رہے گی اور زندگی بھر تمہاری حرمت بھی برقرار رہے گی۔ مغرور لوگوں سے اکتساب علم نہ کرنا، وہ تمہیں اللہ کے دین سے جاہل رکھیں گے اور تمہارے اور اللہ کے درمیان تفریق کر دیں گے۔ دین صرف پرہیز گار اور متقی لوگوں سے اخذ کرنا، تمہاری سلامتی اسی میں ہے جو آدمی محتاط رہتا ہے وہ سلامت رہتا اور نجات پاتا ہے، پھر فرمایا: تم پر اللہ کی سلامتی ہو میرے خیال میں تم آج کے بعد مجھے نہیں دیکھ سکو گے، پھر فرمایا: میرے اللہ! اپنی رضا کے لیے میری جان کو قبول فرما، جہاد کو میرے لیے رحمت اور اپنے ہاں میری عزت کا گھر بنا۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23۔ صفحات من تاریخ لیبیا الاسلامی و الشمال الافریقی: صفحہ 248)

یوں ابھی عقبہ کے قدم ارض قیروان پر نہیں پڑے تھے کہ انہوں نے بغیر کسی تردّد کے جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کر لیا۔ وہ جہاد کے ساتھ کس قدر محبت کرتے تھے، اس پر اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے وقت ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے بیچ دیا ہے اور میں زندگی بھر کفار سے جہاد کرتا رہوں گا۔ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے بیچ کر بڑی عظیم اور مہنگی قیمت کی وصولی میں اپنے شوق کا اظہار کیا:

اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَــنَّةَ‌ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَ وَ يُقۡتَلُوۡنَ‌وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا فِى التَّوۡرٰٮةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ‌ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسۡتَـبۡشِرُوۡا بِبَيۡعِكُمُ الَّذِىۡ بَايَعۡتُمۡ بِهٖ‌ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞ (سورۃ التوبة آیت 111)

ترجمہ: واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ جنت انہی کی ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مارتے بھی ہیں، اور مرتے بھی ہیں۔ یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے تورات اور انجیل میں بھی لی ہے، اور قرآن میں بھی۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو ؟ لہٰذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اللہ سے کرلیا ہے۔ اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

انہوں نے جہاد کو اپنی زندگی کا مقصد وحید قرار دیا اور اپنے پیش نظر بلند تر ہدف کو رکھا اور وہ ہے: زمین میں اعلائے کلمۃ اللہ۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 257)

عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی اپنی اولاد کو وصیت اپنے اندر کئی جلیل القدر فوائد رکھتی ہے، آپ نے اپنی اولاد کو تین وصیتیں فرمائی تھیں:

الف: پہلی وصیت: پاکیزہ اور عمدہ علم حاصل کرنے کا اہتمام کرنا اور اس اعتبار سے سب سے پہلے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی دکھانا۔ اس لیے کہ قرآن وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ دکھاتی اور اس پر دلالت کرتی ہے اور یہ وہ عظیم اور عالی شان مقصد ہے جس کے حصول کے لیے ہر بندہ مومن کوشاں رہتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی نعمتوں کا حصول، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے مقاصد جلیلہ میں شامل ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌۞ (سورۃ الحشر آیت 7)

ترجمہ: اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔

اس کے بعد کلام عرب سے ان عمدہ اور بہترین چیزوں کا انتخاب کیا جائے جن کی طرف عقل سلیم راہ نمائی کرتی اور جو مکارم اخلاق کی ترغیب دلاتی ہیں۔

ب: دوسری وصیت: چاہے فقر و فاقہ ہی کا سامنا کیوں نہ ہو قرض لینے سے اجتناب کیا جائے، اس لیے کہ قرض دن کے وقت باعث ذلت ہوتا ہے۔ مقروض آدمی کو اپنے متعلقین کے سامنے ذلت و رسوائی سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ قرض رات کو باعث غم ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ انسان رات کی تنہائی میں اپنے ذمہ واجب الاداء لوگوں کے حقوق یاد کر کے پریشان اور غمگین ہو جاتا ہے

صفحہ 1 از 4