Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عقبہ کا قیروان سے محیط تک جہاد

  علی محمد الصلابی

55ھ میں قیروان کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد حضرت عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کو افریقہ کی ولایت سے معزول کر دیا گیا، بعد ازاں 62ھ میں انہیں یہ ولایت دوبارہ تفویض کر دی گئی تو وہ اپنے اس مشہور سفر پر روانہ ہوئے جس میں انہوں نے تیونس میں قیروان سے محیط اطلس تک۔۔۔ ایک ہزار میل سے زیادہ کی مسافت طے کی، انہوں نے قیروان پر زہیر بن قیس بلوی کو اپنا جانشین مقرر کیا اور قیروان کے لیے یہ دعا کی: یا اللہ! اس شہر کو علم و دانش سے معمور کر دے اور اسے اپنے اطاعت گزاروں سے بھر دے، اس شہر کو اپنے دین کے لیے باعث عزت اور کفار کے لیے باعث ذلت بنا اور اسے زمین کے جابروں سے محفوظ فرما۔ عقبہ اپنے ان دس ہزار ساتھیوں کے ساتھ روانہ ہوئے جنہیں وہ شام سے اپنے ساتھ لے کر آئے تھے، ان کے علاوہ قیروان سے بھی بہت سارے لوگ ان کے ساتھ شامل ہو گئے، آپ نے روانگی سے قبل اپنے بیٹوں کو اپنے پاس بلایا اور ان سے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ بیچ دیا ہے اور میں کفار کے ساتھ ہمیشہ جہاد کرتا رہوں گا، پھر فرمانے لگے: میرے بیٹو! میں تمہیں تین باتوں کی وصیت کرتا ہوں، انہیں اچھی طرح یاد رکھنا اور انہیں ضائع نہ کرنا، اپنے سینوں کو اشعار سے مت بھرنا اور قرآن کو ترک نہ کرنا، اس لیے کہ قرآن اللہ پر دلالت کرتا ہے، کلام عرب سے وہ کچھ لو جس سے عقل مند انسان راہ پاتا ہے اور جو تمہیں مکارم اخلاق سے آشنا کرے، اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے اس سے باز رہو، میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ کسی بھی حالت میں قرض نہ اٹھانا، اس لیے کہ قرض دن کی ذلت اور رات کا غم ہے۔ قرض لینے سے باز رہو اس سے تمہاری عزت بھی محفوظ رہے گی اور زندگی بھر تمہاری حرمت بھی برقرار رہے گی۔ مغرور لوگوں سے اکتساب علم نہ کرنا، وہ تمہیں اللہ کے دین سے جاہل رکھیں گے اور تمہارے اور اللہ کے درمیان تفریق کر دیں گے۔ دین صرف پرہیز گار اور متقی لوگوں سے اخذ کرنا، تمہاری سلامتی اسی میں ہے جو آدمی محتاط رہتا ہے وہ سلامت رہتا اور نجات پاتا ہے، پھر فرمایا: تم پر اللہ کی سلامتی ہو میرے خیال میں تم آج کے بعد مجھے نہیں دیکھ سکو گے، پھر فرمایا: میرے اللہ! اپنی رضا کے لیے میری جان کو قبول فرما، جہاد کو میرے لیے رحمت اور اپنے ہاں میری عزت کا گھر بنا۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23۔ صفحات من تاریخ لیبیا الاسلامی و الشمال الافریقی: صفحہ 248)

یوں ابھی عقبہ کے قدم ارض قیروان پر نہیں پڑے تھے کہ انہوں نے بغیر کسی تردّد کے جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ کر لیا۔ وہ جہاد کے ساتھ کس قدر محبت کرتے تھے، اس پر اپنے بیٹوں کو وصیت کرتے وقت ان کا یہ قول دلالت کرتا ہے: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے بیچ دیا ہے اور میں زندگی بھر کفار سے جہاد کرتا رہوں گا۔ انہوں نے اپنے آپ کو اللہ کے لیے بیچ کر بڑی عظیم اور مہنگی قیمت کی وصولی میں اپنے شوق کا اظہار کیا:

اِنَّ اللّٰهَ اشۡتَرٰى مِنَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ اَنۡفُسَهُمۡ وَاَمۡوَالَهُمۡ بِاَنَّ لَهُمُ الۡجَــنَّةَ‌ يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيَقۡتُلُوۡنَ وَ يُقۡتَلُوۡنَ‌وَعۡدًا عَلَيۡهِ حَقًّا فِى التَّوۡرٰٮةِ وَالۡاِنۡجِيۡلِ وَالۡقُرۡاٰنِ‌ وَمَنۡ اَوۡفٰى بِعَهۡدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسۡتَـبۡشِرُوۡا بِبَيۡعِكُمُ الَّذِىۡ بَايَعۡتُمۡ بِهٖ‌ وَذٰلِكَ هُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞ (سورۃ التوبة آیت 111)

ترجمہ: واقعہ یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال اس بات کے بدلے خرید لیے ہیں کہ جنت انہی کی ہے۔ وہ اللہ کے راستے میں جنگ کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مارتے بھی ہیں، اور مرتے بھی ہیں۔ یہ ایک سچا وعدہ ہے جس کی ذمہ داری اللہ نے تورات اور انجیل میں بھی لی ہے، اور قرآن میں بھی۔ اور کون ہے جو اللہ سے زیادہ اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو ؟ لہٰذا اپنے اس سودے پر خوشی مناؤ جو تم نے اللہ سے کرلیا ہے۔ اور یہی بڑی زبردست کامیابی ہے۔

انہوں نے جہاد کو اپنی زندگی کا مقصد وحید قرار دیا اور اپنے پیش نظر بلند تر ہدف کو رکھا اور وہ ہے: زمین میں اعلائے کلمۃ اللہ۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 257)

عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ کی اپنی اولاد کو وصیت اپنے اندر کئی جلیل القدر فوائد رکھتی ہے، آپ نے اپنی اولاد کو تین وصیتیں فرمائی تھیں:

الف: پہلی وصیت: پاکیزہ اور عمدہ علم حاصل کرنے کا اہتمام کرنا اور اس اعتبار سے سب سے پہلے قرآن کریم کی تعلیم حاصل کرنے میں دلچسپی دکھانا۔ اس لیے کہ قرآن وہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی راہ دکھاتی اور اس پر دلالت کرتی ہے اور یہ وہ عظیم اور عالی شان مقصد ہے جس کے حصول کے لیے ہر بندہ مومن کوشاں رہتا ہے، یعنی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی نعمتوں کا حصول، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم قرآن کریم کے مقاصد جلیلہ میں شامل ہے۔ ارشاد باری ہے:

وَمَاۤ اٰتٰٮكُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰٮكُمۡ عَنۡهُ فَانْتَهُوۡا‌ وَاتَّقُوا اللّٰهَ ‌ اِنَّ اللّٰهَ شَدِيۡدُ الۡعِقَابِ‌۞ (سورۃ الحشر آیت 7)

ترجمہ: اور رسول تمہیں جو کچھ دیں، وہ لے لو، اور جس چیز سے منع کریں اس سے رک جاؤ، اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بیشک اللہ سخت سزا دینے و الا ہے۔

اس کے بعد کلام عرب سے ان عمدہ اور بہترین چیزوں کا انتخاب کیا جائے جن کی طرف عقل سلیم راہ نمائی کرتی اور جو مکارم اخلاق کی ترغیب دلاتی ہیں۔

ب: دوسری وصیت: چاہے فقر و فاقہ ہی کا سامنا کیوں نہ ہو قرض لینے سے اجتناب کیا جائے، اس لیے کہ قرض دن کے وقت باعث ذلت ہوتا ہے۔ مقروض آدمی کو اپنے متعلقین کے سامنے ذلت و رسوائی سے دوچار ہونا پڑ سکتا ہے۔ قرض رات کو باعث غم ہوتا ہے اور وہ اس طرح کہ انسان رات کی تنہائی میں اپنے ذمہ واجب الاداء لوگوں کے حقوق یاد کر کے پریشان اور غمگین ہو جاتا ہے

ج: تیسری وصیت: حصول علم کی جستجو میں لگے رہنا اور اس کے لیے پرہیز گار اور متقی علماء کا انتخاب کرنا اور دنیا دار اور جاہ پرست مغرور علماء سے دور رہنا، اس لیے کہ دنیا پرست علماء متعلم کو مزید جہالت سے دوچار کرتے ہیں بایں طور کہ وہ اسے علم کی حقیقت اور اس کے ثمر سے دور لے جاتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے عبارت ہے۔

(صفحات من تاریخ لیبیا الاسلامی و الشمال الافریقی: صفحہ 259)

جب حضرت عقبہؓ اپنی اولاد کو پند و نصائح اور وصیت کرنے سے فارغ ہو جاتے ہیں تو انہیں الوداعی انداز میں سلام کہتے ہیں اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جان دینے کے خواہش مند تھے اور پھر آگے چل کر فرماتے ہیں کہ میرے اللہ! میری جان کو اپنی رضا کی راہ میں قبول فرما۔ جہاد کو میرے لیے باعث رحمت بنا اور اپنے پاس میری عزت کا گھر تیار فرما۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23)

جہاد فی سبیل اللہ کو اس قدر اہمیت دینے اور اسے اس زندگی میں سب سے بڑا فریضہ قرار دینے کی وجہ سے ہی وہ فتوحات میں مسلسل کامیابیوں سے ہمکنار ہوتے چلے گئے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 258)

عقبہ بن نافع رضی اللہ عنہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ باغی شہر کی طرف روانہ ہوئے۔

(مصر فی العصر الاموی: صفحہ 123، الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 589)

جہاں انہیں ان بیزنطیوں کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو شہر میں داخل ہو کر اس میں قلعہ بند ہو گئے تھے انہوں نے کچھ عرصہ تک ان کا محاصرہ کیے رکھا اور پھر تلمسان کی طرف روانہ ہو گئے جس کا شمار ان کے بڑے بڑے شہروں میں ہوتا تھا، رومی اور بربر قبائل کے لوگ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ ان کے مقابلہ کے لیے نکلے اور پھر گھمسان کی جنگ چھڑ گئی، فریقین جم کر لڑے یہاں تک کہ مسلمانوں کو خیال ہوا کہ اس جنگ میں ان کی تباہی یقینی ہے مگر انہوں نے بڑے صبر اور حوصلہ کا مظاہر کرتے ہوئے رومیوں پر اس قدر زور دار حملہ کیا کہ وہ اپنے قلعوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے مگر مسلمان سپاہ نے ان کے دروازوں تک ان کا تعاقب کیا اور ان سے بہت سارا مال غنیمت حاصل کیا۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 27۔ التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 261)

پھر انہوں نے بلاد زاب جانے کے لیے مغرب کا رخ کیا، جب انہوں نے اس علاقے کے سب سے بڑے شہر کے بارے میں دریافت کیا، تو انہیں بتایا گیا کہ اس کا نام ’’ اَرَبَہ‘‘ ہے جو کہ ان کا دار الحکومت ہے۔ اس شہر کے اردگرد تین سو ساٹھ بستیاں تھیں اور وہ ساری کی ساری آباد تھیں۔ اہل مدینہ اور اس میں موجود رومی شہر میں محفوظ ہو کر بیٹھ گئے جبکہ کچھ لوگ پہاڑوں کی طرف بھاگ کھڑے ہوئے۔ مسلمانوں نے شہر کے باسیوں سے جنگ کی اور پھر انہیں شکست سے دوچار کر دیا اور ان کے بہت سارے شہسوار مارے گئے۔ پھر عقبہ نے ’’تاہرت‘‘ کی طرف پیش قدمی کی، رومی بربر سے مدد کے خواستگار ہوئے تو وہ اس کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔

عقبہ بن نافعؓ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد فرمایا: لوگو! تمہارے اشراف اور بہترین لوگ وہ تھے جن سے اللہ تعالیٰ راضی ہوا اور ان میں اپنی کتاب اتاری انہوں نے روزِ قیامت تک اللہ تعالیٰ کی تکذیب کرنے والے ہر شخص کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت رضوان کی، وہ تمہارے اشراف تھے جنہوں نے تم سے پہلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ انہوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ کی جنت کے عوض اس کے ہاتھوں بیچ دیا اور یہ بیع بڑی نفع بخش تھی۔ مگر آج تم اجنبیت کے گھر میں ہو اور تم رب کائنات سے بیعت کر چکے ہو۔ تمہاری اس جگہ موجودگی اس کی نظروں میں ہے اور تم اس علاقہ میں صرف اس کی رضامندی کے حصول اور اس کے دین کو تقویت دینے کے لیے آئے ہو، لہٰذا خوش ہو جاؤ۔ دشمن کی تعداد جس قدر بھی زیادہ ہو گی ان کے لیے باعث ذلت و رسوائی ہو گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ تمہارا پروردگار تمہیں تمہارے دشمن کے حوالے نہیں کرے گا، تم سچے دلوں کے ساتھ ان کا سامنا کرو، اللہ نے تمہیں اپنا وہ عذاب بنایا ہے جو مجرم لوگوں سے ٹل نہیں سکتا۔

تم اللہ تعالیٰ کی برکت اور اس کی مدد سے اپنے دشمنوں سے لڑو، اللہ اپنا عذاب مجرم قوم سے ٹالا نہیں کرتا۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 27۔ قادۃ الفتح المغرب العربی: جلد 1 صفحہ 108، 120)

عقبہ بن نافعؓ کا یہ عظیم خطبہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے اپنی جنگوں میں اس عظیم ترین ہتھیار پر اعتماد کیا جس میں مسلمانوں کی کامیابیوں کا راز ہے، اور وہ ہتھیار ہے: اللہ رب کائنات پر توکل اور اعتماد، اس کی عظمت و جلال کا استحضار اور اس کی نصرت و تائید کے ساتھ اپنے مومن دوستوں کی معیت، دشمن کے لشکر جتنے بھی بڑے ہوں اسے ان کی کوئی پروا نہیں ہوتی۔ اہمیت صرف اس بات کی ہے کہ اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ یہ کارگر معنوی ہتھیار بدرجہ اتم لشکر میں موجود رہے۔ جب اس کی ضمانت حاصل کر لی جائے تو پھر دشمن کے لشکروں کے اجتماع کو خوش آمدید کہے گا تاکہ اللہ تعالیٰ کے اولیاء صالحین کے ہاتھوں انہیں جلد از جلد ہلاک کر دیا جائے اور ان کی جمعیت کو پارہ پارہ کر دیا جائے۔

عقبہؓ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے ساتھ بڑی گہری مشابہت رکھتے تھے، ان کی یہ حالت تھی کہ دشمن کا لشکر جس قدر بڑا ہوتا اور اس کے عناصر جس قدر زیادہ ہوتے وہ اتنے ہی زیادہ خوش ہوتے اور ان میں قوت اور عظمت کا شعور اتنا ہی گہرا ہوتا۔ عقبہؓ نے اس حوالے سے ان کی اقتداء کی اور انہیں قیادت و اقدام میں اپنے لیے نمونے کے طور پر اختیار کیا، ایسا اقدام جو تردد اور اکتاہٹ سے آشنا نہیں ہوتا، انہیں ایسا کرتے وقت اس امر کا بخوبی ادراک ہوتا تھا کہ اسلام کا سچا اور مخلص لشکر اللہ کا عذاب ہے جسے اس کے کافر دشمنوں پر مسلط کر دیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ کا عذاب مجرم لوگوں سے ٹلا نہیں کرتا۔

حضرت عقبہؓ کا یہ دائمی شعور کہ مسلمان مجاہدین اللہ تعالیٰ کی تلوار اور اس کے دشمنوں پر مسلط کردہ اس کا عذاب ہیں، انہیں اس مقام پر سے آیا تھا کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی نصرت پر بڑا اعتماد اور اس کے بارے میں حسن ظن حاصل ہو گیا تھا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 260)

’’تاہرت‘‘ شہر میں مسلمانوں کی اپنے دشمنوں کے ساتھ مڈھ بھیڑ ہوئی تو انہوں نے ان کے ساتھ شدید جنگ کی، لیکن چونکہ دشمن کی تعداد بہت زیادہ تھی، لہٰذا انہیں بڑی کٹھن صورت حال کا سامنا کرنا پڑا مگر آخرکار وہ جیت گئے اور ان کے رومی اور بربر دشمن شکست فاش سے دوچار ہوئے اور اسلحہ سمیت بہت سا مال غنیمت مسلمانوں کے ہاتھ لگا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

اس کے بعد وہ مغرب اقصیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور پیش قدمی کرتے ہوئے طنجہ جا پہنچے وہاں ان کا سامنا ’’جومیان‘‘ نامی ایک رومی کمانڈر سے ہوا، اس نے آپ کو خوبصورت تحائف پیش کیے اور ان کے سامنے سرتسلیم خم کر دیا۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 590)

جب عقبہؓ نے اس سے بحر اندلس کے بارے میں دریافت کیا تو اس نے کہا: وہ محفوظ ہے اس کا قصد نہیں کیا جا سکتا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

پھر انہوں نے اس سے بربروں اور رومیوں کے بارے میں دریافت کیا، تو اس نے کہا: تم روم کو اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو، جبکہ تمہارے آگے صرف بربر ہی ہیں۔ عقبہ نے پوچھا کہ ان کا ٹھکانا کدھر ہے؟ اس نے بتایا: سوس ادنیٰ میں، اور وہ بے دین لوگ ہیں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

عقبہ نے ان معلومات سے استفادہ کیا اور پھر سوس ادنی کے علاقہ میں جانے کے لیے جنوب مغرب کی طرف چل نکلا۔ جہاں ان کا ایک بربری گروہ سے ٹکراؤ ہوا تو اسے شکست سے دوچار کر کے وادی درعا کے صحراء کی طرف بھگا دیا، ورعا شہر میں مسجد تعمیر کی پھر مراکش کے صحراؤں کو شمال مغرب کی طرف چھوڑتے ہوئے منطقہ ’’تافلت‘‘ کی راہ لی جس کا مقصد بلاد طنجہ میں داخل ہونا تھا، ان لوگوں نے لڑائی کیے بغیر ان کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ ’’اغمات‘‘ نامی شہر کے صنہاجہ قبائل نے بھی ان لوگوں کی طرح ان کی اطاعت قبول کر لی تھی۔ حضرت عقبہؓ اس کے بعد مغرب کی سمت شہر تفیس

(مصر فی العصر الاموی: صفحہ 126۔ البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 26، 27)

کے لیے روانہ ہوئے جہاں انہوں نے بیزنطیوں اور بربروں کے کئی گروہوں کا محاصرہ کر لیا مگر ان کے قلعہ بند ہونے نے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچایا اور آپ فاتح بن کر شہر میں داخل ہو گئے، اس طرح انہوں نے سوس اقصیٰ کے علاقوں کو آزاد کرا لیا، اس کے دار الحکومت ’’ایجلی‘‘ میں داخل ہو گئے اور اس میں ایک مسجد تعمیر کی، پھر انہوں نے وہاں موجود مختلف قبائل کو اسلام کی دعوت دی جسے جزولہ کے قبائل نے تسلیم کر لیا، پھر ’’ماسہ‘‘ نامی شہر اور وہاں سے بحر محیط پر واقع ’’ایفران‘‘

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590)

کی طرف روانہ ہوئے۔ اس طرح عقبہ بن نافعؓ نے محیط اطلس کے ساحل پر پہنچنے کے ساتھ بلاد مغرب کے زیادہ تر حصوں کو آزاد کروا لیا، ہمارے تاریخی مصادر اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ عقبہ بن نافع جب محیط اطلس تک پہنچے تو کہنے لگے: میرے پروردگار! اگر یہ سمندر میرے سامنے نہ آتا تو میں تیرے راستے میں جہاد کرتے ہوئے اس علاقے میں آگے بڑھتا جاتا اور ہر کافر سے جنگ کرتا یہاں تک کہ تیرے سوا کسی کی بھی عبادت نہ کی جاتی، پھر وہ تھوڑی دیر رکنے کے بعد اپنے ساتھیوں سے کہنے لگے: اپنے ہاتھ اوپر اٹھاؤ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا تو فرمانے لگے: میرے اللہ! میں گھر سے فخر و غرور اور تکبر کی وجہ سے نہیں نکلا ہوں، تو اچھی طرح جانتا ہے کہ ہم اس سبب کے طالب ہیں جس کا مطالبہ تیرے بندے ذوالقرنین نے کیا تھا اور وہ یہ کہ تیری بندگی کی جائے اور کسی چیز کو تیرا شریک نہ ٹھہرایا جائے، یااللہ! ہم دین کفر سے عناد رکھنے والے اور دین اسلام کا دفاع کرنے والے ہیں۔ یا ذالجلال و الاکرام! تو ہمارا ہو جا، ہمارے خلاف کسی کا نہ ہونا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 590۔ البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 27۔ قادۃ الفتح المغرب العربی: جلد 1 صفحہ 108، 120)

پھر وہ واپس پلٹ آئے۔

ہم ان کے مذکورہ بالا قول سے ان کے شوق جہاد اور اس بڑی ذمہ داری کے شعور کا ادراک کر سکتے ہیں جو انہوں نے تبلیغ اسلام، دولت اسلام کی تقویت اور ان کافر حکومتوں کے خاتمہ کے حوالے سے اپنے سر لے رکھی تھی۔ جنہوں نے لوگوں تک نورِ اسلام کی رسائی کو روک رکھا تھا، وہ بحر محیط کے کنارے پر کھڑے ہیں اور (اس وقت) جانتے تھے کہ یہ مغرب کی طرف سے آباد زمین کی انتہاء ہے، ایسے میں ہم انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کو اس بات پر گواہ بناتے ہیں کہ انہوں نے اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے مقدور بھر کوششیں کر ڈالیں، اس شہادت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عقبہ نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کس قدر گہرا تعلق قائم کر رکھا تھا، اور یہ کہ وہ قدم قدم پر اللہ عزوجل سے اس کی توفیق کے طلب گار ہوتے اور اس کی خوشنودی کے حصول کے خواستگار ہوتے تھے۔ ان کی یہ گفتگو ان کے نزدیک جہاد کے اصل مقصود پر بھی دلالت کرتی ہے، وہ بتاتے ہیں کہ ان کے نزدیک جہاد اس وقت ہی موقوف ہو گا جب زمین سے شرک کا خاتمہ ہو جائے گا اور صرف اللہ عزوجل ہی کی عبادت کی جانے لگے گی اور یہ کہ جب تک شرک باقی رہے گا جہاد بھی موجود رہے گا۔ اس صورت میں جہاد دعوت الی اللہ کا جہاد ہے اور اس کی صورت یہ ہے انسانی سرکشی کا خاتمہ ہو اور دنیا کے تمام ممالک حکم اسلام کے تابع ہو جائیں تاکہ سب لوگوں کو فہم اسلام اور قبول اسلام کا موقع میسر آئے۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 262)

عقبہ کا عمل جہاد پر ہی نہیں رک گیا تھا بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ مساجد کی تعمیر بھی کروایا کرتے تھے، مثلاً درعہ کی مسجد اور سوس اقصیٰ میں ماسہ کی مسجد۔

(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 26۔ الاسلام و التعریب: جلد 1 صفحہ 133)

پھر وہ مساجد کی تعمیر کے بعد ان میں اپنے بعض ساتھیوں کو چھوڑ جاتے تاکہ وہ لوگوں کو قرآن مجید کی تعلیم دیں اور انہیں شرائع اسلام سے آگاہ کریں۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مغرب اقصیٰ کے زیادہ تر بربری لوگوں نے ان کے ہاتھ پر خوشی سے اسلام قبول کر لیا تھا، جیسا کہ صنہاجہ، ہسکورہ اور جزولہ کے لوگوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔

(الاسلام و التعریب فی الشمال الافریقی: جلد 1۔صفحہ 133)

اسی طرح انہوں نے اپنے راستے میں روڑے اٹکانے والے سرکش لوگوں کو دباتے ہوئے انہیں اسلام کی اطاعت گزاری پر آمادہ کر لیا۔

(تاریخ ابن خلدون: جلد 6 صفحہ 108) 

عقبہ قبائل کی سرکشی کو روکنے کے لیے ان میں سے کچھ لوگوں کو اپنے پاس گروی رکھ لیتے اور ان میں سے ہی ایک آدمی کو ان کی نگرانی پر مامور کر دیتے، جیسا کہ انہوں نے مصمودہ کے ساتھ کیا، ان پر انہوں نے ابو مدرک زرعہ بن ابو مدرک کو مقرر کیا تھا جو کہ انہی کا ہی ایک رئیس تھا اور جو بعد ازاں فتح اندلس میں بھی شریک ہوا۔

(فتوح مصر: صفحہ 207 ۔ الاسلام و التعریب: جلد 1 صفحہ 134)

معلوم ہوتا ہے کہ مغرب اقصیٰ کے بربر بت پرست تھے اس سے قیدیوں کی کثرت اور مال غنیمت کی بہتات کی وجہ سمجھ میں آ سکتی ہے۔ ان کی قید میں ایسی عورتیں بھی آئیں کہ ان جیسا حسن و جمال کسی نے دیکھا نہ ہو گا، بتایا جاتا ہے کہ ان میں سے ایک لونڈی مشرق میں ایک ہزار مثقال یا اس سے بھی زیادہ رقم کے برابر تھی۔

(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 24)

یہ قیدی بربر قبائل میں اشاعت اسلام کے اہم عامل تھے، اس طرح انہیں عربی اسلامی ماحول کے ساتھ میل جول کا موقع ملا۔ نیز عرب جنگجوؤں اور بربروں کے مابین مسلسل اختلاط نے ان میں تعلقات اور روابط استوار کر دئیے جو کہ ان کے درمیان حلف اور ولاء سے عیاں ہوتے ہیں۔

(الاسلام و التعریب فی الشمال الافریقی: جلد ض صفحہ 134)

سلاوی ذکر کرتے ہیں کہ عقبہ جب درن کے مقام پر پہنچے تو ان کے دفاع اور استقبال کے لیے زنانہ آگے بڑھے یہ لوگ مغراوہ کے اطاعت قبول کرنے کے وقت سے ہی مسلمانوں کے لیے مخلص تھے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 135)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زناتہ اور مغراوہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کے حلیف تھے جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کے دفاع کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ (البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 23، 24)