Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عقبہ بن نافع اور ابو المھاجر رضی اللہ عنہما کی شہادت:

  علی محمد الصلابی

یوں لگتا ہے کہ حضرت عقبہ رضی اللہ عنہ جیسے مخلص مجاہد کو مومن صادق کی طرح یہ گہرا احساس ہو گیا تھا کہ وہ اس سفر کے دوران فی سبیل اللہ شہید ہو کر اللہ رب کائنات سے ملاقات کریں گے، جب انہوں نے قیروان سے روانہ ہونے کا ارادہ کیا تو انہوں نے اپنی اولاد کو اپنے پاس بلا کر کہا: میں نے اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیا ہے … اور مجھے نہیں معلوم کہ تم مجھے اس سال کے بعد دیکھ بھی سکو گے یا نہیں، پھر انہوں نے انہیں بڑی مفید نصیحتیں کیں اور فرمایا: میرے اللہ اپنی رضا کے لیے مجھے قبول فرما۔ اس طرح عقبہؓ نے اپنی اولاد کو اپنی موت کی خبر دے دی اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ارمان کی تکمیل کرتے ہوئے انہیں شہادت کی موت سے مشرف فرمایا۔ اس کے لیے رومیوں اور بربروں نے ان کے لیے تہوذہ کے قریب کمین گاہ تیار کی (تہوذہ: افریقہ میں ایک بربری قبیلہ کا نام) اور انہیں اور ان کے لشکری ساتھیوں کو موت سے ہمکنار کر دیا۔

تاریخی مصادر اس جانکاہ حادثہ کا ایک رئیسی سبب بتاتے ہیں اور وہ تھا عمومی طور پر بربر کے ساتھ اور خاص طور پر ان کے زعیم کسیلہ کے ساتھ ان کی سیاست کسیلہ کو اپنی قوم میں بڑا اثر و رسوخ حاصل تھا اور وہ لوگ اسے بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔ ابو المھاجرؓ نے ان کی تالیف قلبی کرتے ہوئے ان کے ساتھ بڑا اچھا برتاؤ کیا تو اس نے اسلام قبول کر لیا اور اس کی قوم کے بہت سارے لوگوں نے بھی اسلام کے گوشہ عافیت میں پناہ لے لی مگر عقبہؓ نے اس کے ساتھ بڑی بدسلوکی کی۔ ابو المھاجرؓ کو عقبہ کی اس غلطی کا احساس ہو گیا تھا، انہوں نے عقبہؓ کو اس امر کی طرف توجہ بھی دلائی مگر انہوں نے اس پر کان نہ دھرا۔ ابو المھاجرؓ اس امر سے بخوبی آگاہ تھے کہ اس کی قوم کے لوگ اس کی بڑی عزت کرتے ہیں، لہٰذا وہ اپنے سردار کی اس توہین کو برداشت نہیں کریں گے اور وہ مسلمانوں کے ساتھ اپنے عہد کو توڑ ڈالیں گے۔ انہوں نے عقبہؓ کو اشارہ کیا کہ وہ کسیلہ سے جان چھڑا لیں اور قبل اس کے کہ یہ معاملہ شدت اختیار کر جائے اسے گرفت میں لے لیں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 591)

مگر عقبہؓ نے ان کی اس نصیحت کو بھی نہ صرف یہ کہ کوئی اہمیت نہ دی بلکہ ایک اور انتہائی خطرناک قدم اٹھایا اور وہ یہ کہ جب وہ قیروان واپس جانے کے لیے مغرب اقصیٰ سے واپس لوٹے تو اپنے لشکر کے بڑے حصے کو اپنے آگے آگے چلایا۔ جب وہ قیروان کے قریب پہنچے تو اسے قیروان بھیج دیا جبکہ خود فوج کے آخری حصے میں موجود رہے۔ اس وقت ان کے ساتھ صحابہؓ و تابعینؒ میں سے صرف تین سو شہسوار موجود تھے اور ان کی عادت یہ تھی کہ جب وہ جنگ کے لیے روانہ ہوتے تو مقدمۃ الجیش میں رہتے اور واپسی پر لشکر کے آخر میں، اس طرح وہ ہمیشہ اپنے آپ کو خطرات سے دوچار کیے رکھتے۔ جب رومیوں کو معلوم ہوا کہ عقبہ اپنے لشکر کے چند افراد کے ہمراہ موجود ہیں تو انہوں نے ان کا خاتمہ کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کا پروگرام بنایا، انہیں اس بات کا بخوبی ادراک تھا کہ ان کی بھاری بھر کم شخصیت مسلمانوں کی یگانگت اور قوت کی بقاء کا اہم ترین عامل ہے، لہٰذا انہوں نے کسیلہ بربری کے ساتھ مل کر ان کے خلاف سازش تیار کی اور عقبہ اور ان کے ساتھیوں کے لیے ایسا لشکر تیار کیا جس کا سامنا کرنا ان کے لیے ممکن نہیں تھا۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 263)

پھر اچانک ایسا ہوا کہ کسیلہ نے پچاس ہزار کے لشکر جرار کے ساتھ عقبہ کو گھیر لیا۔

(البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 25)

اس وقت ابو المھاجر عقبہ کے ساتھ پابند سلاسل تھے۔ جب انہوں نے کسیلہ کا لشکر دیکھا تو ابو محجن ثقفی کے یہ اشعار پڑھے:

کفی حزنا ان تمرغ الخیل بالقنا

واُترک مشدودا علی و ثاقیا

اذ قمت عنانی الحدید و اُغلت

مصارع من دونی تصم المنادیا

’’میرے لیے یہی غم کافی ہے کہ شہسوار نیزوں میں ڈوبے ہوئے ہوں اور مجھے بیڑیوں میں جکڑ کر چھوڑ دیا جائے۔ جب میں اٹھتا ہوں تو لوہے کی زنجیریں مجھے ایسا کرنے سے روک دیتی ہیں اور میرے سامنے کی قتل گاہیں منادی کرنے والے کو بہرہ کر رہی ہیں۔‘‘

جب عقبہؓ نے ان سے یہ اشعار سنے تو انہیں یہ کہتے ہوئے رہا کر دیا: مسلمانوں کے ساتھ شامل ہو جائیں اور ان کے امور کی نگرانی کریں میں تو جام شہادت نوش کرنا چاہتا ہوں مگر انہوں نے کہا کہ میں بھی شہادت کی موت سے مشرف ہونا چاہتا ہوں۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 591)

یوں ابو المھاجرؓ مردان کار میں سے وہ یکتا نمونہ ثابت ہوئے جن کی نظروں میں دنیوی زندگی بے وقعت ہو کر رہ جاتی اور ان کے دلوں میں آخرت کی محبت گھر کر جاتی ہے اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے حصول کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔

ان میں سے بعض لوگوں کے لیے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنا ممکن تھا مگر وہ بہادروں کی طرح ثابت قدم رہے یہاں تک کہ وہ سارے کے سارے ارض زاب میں تہوذہ قبیلہ کے علاقہ میں جام شہادت نوش کر گئے۔ مؤرخین ذکر کرتے ہیں کہ اس جگہ ان شہداء کی قبریں بڑی معروف ہیں اور یہ کہ مسلمان ان کی زیارت کیا کرتے ہیں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 264۔ البیان المغرب: جلد 1 صفحہ 28)

یوں ابو المھاجرؓ کے بارے میں عقبہؓ کی امید پوری ہو گئی اور وہ دونوں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے بعد شہادت فی سبیل اللہ سے مشرف ہو گئے۔ حضرت عقبہؓ نے اپنے اس جہاد کے ذریعے دنیا کے اس حصے میں اسلام کے لیے وہ راستہ کھول دیا جس پر ان کے بعد ان کے یہ خلفاء گامزن رہے: زہیر بن قیس بلوی، حسان بن نعمان غسانی اور موسیٰ بن نصیر۔ اس طرح وہ اشاعت اسلام اور جہاد فی سبیل اللہ کا راستہ ہموار کرنے کے اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 284، 285)

عقبہ بن نافعؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت 63ھ میں ہوئی اور اس وقت ان کی عمر تقریباً 64برس تھی۔ اس سے ہم اپنے اسلاف کی قوت ایمانی و جسمانی کا اندازہ کر سکتے ہیں، حضرت عقبہؓ نے طویل اور مشکل ترین سفر کے دوران بڑی بڑی جنگیں لڑیں جبکہ اس وقت ان کی عمر ساٹھ سال سے تجاوز کر چکی تھی۔ یوں یہ عظیم کمانڈر اس جہاد کے بعد جام شہادت نوش کر گئے جو چالیس سالوں سے زیادہ عرصہ تک جاری رہا جو انہوں نے شمالی افریقہ میں گزارا جس کا آغاز مصر سے ہوا اور اختتام مغرب اقصیٰ میں۔

(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 265)