دولت امویہ کے مشرقی حصہ میں فتوحات سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ
علی محمد الصلابیمسلمانوں نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی خلافت تک عراق اور نہر جیحون کے درمیانی علاقہ کی فتح مکمل کر لی تھی جو کہ جرجان، طبرستان، خراسان، فارس، کرمان اور سجستان پر مشتمل ہے۔ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد فتوحات اسلامیہ کی تحریک کو شدید زد پہنچی، پھر جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت شروع ہوا تو دولت امویہ نے مفتوحہ علاقوں کو واپس لینے اور فتح اسلام کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لیے نئے سرے سے بھرپور کوششوں کا آغاز کر دیا۔
(دراسۃ فی تاریخ الخلفاء الامویین: صفحہ 229)