Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

نماز تراویح کی وجہ تسمیہ

  مولانا اشتیاق احمد ، مدرس دارالعلوم دیوبند

نماز تراویح کی وجہ تسمیہ

قیام رمضان کی نماز کا نام تراویح رکھا گیا ہے کیونکہ وہ بہت رکعتوں والی ایک لمبی نماز ہے، نمازی اس میں ہر چار رکعت کے بعد آرام کرتے ہیں پھر اسی طرح نماز پڑھتے رہتے ہیں، پس اس لئے اس کا نام نماز تراویح رکھا گیا ہے۔ 
ابن منظور نے لسان العرب میں کہا ہے کہ
تراویح " ترویحہ“ کی جمع ہے اور اسکا معنی ایک دفعہ آرام کرنا ہے جیسے سلام سے تسلیمہ ایک دفعہ سلام کرنا، اور ترویحہ رمضان کے مہنیہ میں آرام کرنا ہے. اس کا نام لوگوں کے ہر چار رکعت کے بعد آرام کرنے کیوجہ سے رکھا گیا ہے، پھر ابن منظور نے کہا راحت آرام " تعب ( تھکاوٹ ) کی ضد ہے، حدیث پاک میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ سے فرمایا کہ

ارحنا يا بلال

ترجمہ : اے بلال ہمیں راحت پہنچائے
یعنی نماز کیلئے آذان دیجئے، ہم اسے ادا کر کے آرام پائیں گے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے راحت و آرام حاصل کرتے تھے، کیونکہ اس میں اللہ تعالی کی  بارگاہ میں سرگوشی کر نا ہے ، اسی لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے 

وجعلت قرة عيني في الصلوة

ترجمہ : میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔

پس نماز تراویح شب قیام رمضان کی نماز ہے، جس طرح احادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔