Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

️ امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) خطاء کار اور امام حق پر بغاوت کرنے والا تھا۔(التمہید ابو الشکور السلمی)

  مولانا ابوالحسن ہزاروی

امیر معاویہ (رضی اللہ عنہ) خطاء کار اور امام حق پر بغاوت کرنے والا تھا۔(التمہید ابو الشکور السلمی) 

 الجواب اہلسنّت  

تلبیس ابلیس کے مصنف کو اگر تحقیقی دستاویز پیش کی جاتی تو وہ اس جتنی نہ سہی مگر ایک آدھ جلد کا اضافہ کر کے ابلیس کے طریقہ واردات پر مزید کئی معلومات امت تک پہنچا جاتے اور ہر واردات ورغلانے کا نمونہ اور مثال تحقیقی دستاویز سے حاصل کی جاتی۔ محترم حضرات! عبارت کا مطلب گھڑ کر ایسا تیار کیا گیا کہ صاحب کتاب کو معلوم ہو جائے تو وہ شرمندہ ہوں کہ اس سے اچھا تھا میں کتاب ہی نہ لکھتا۔ مذکورہ مقام پر صاحب کتاب تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی امام برحق ہیں

اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ بھی مستحق خلافت ہیں مگر حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  کا استحقاق خلافت حیدر کرار رضی اللہ عنہ کے بعد ہے اور حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا قصاص عثمان کیلئے نکلنا یہ اجتہادی مسئلہ ہے۔ اس اجتہادی کو حقیقی خطا بمعنی معصیت بنا کر پیش کرنا شیعہ لوگوں کا کارنامہ ہے. اسی طرح امام برحق کے خلاف بغاوت کا لفظ ہے۔ بغی  کا معنی ہے تجاوز کرنا ، زیادتی کرنا، ظلم کرنا، مخالفت کرنا، فساد برپا کرنا،

(القاموس الوحید صفحہ 174 )

 یہاں پر معنی تجاوز کرنا اور زیادتی کرنا ہے وہ اصطلاحی بغاوت مراد نہیں ورنہ تو باغی پر جو احکامات عائد ہوتے ہیں وہ یہاں لاگو کرنا ضروری ہوں گے جبکہ صورت حال ایسی نہیں بلکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے دونوں فریقوں کو مومن مقتولوں کو جنتی اور قیدیوں کو آزاد قرار دیا نہ عورتوں کو لونڈیاں بنایا گیا نہ ہی مال کو مال غنیمت قرار دیا گیا اگر باغی سے وہی باغی مراد ہوتا جو شریعت کی اصطلاح میں استعمال ہوتا ہے تو یقیناً باغیوں والے احکام نافذ کرنا ضروری تھے ورنہ شرعی احکامات کی خلاف ورزی لازم آئے گی جو حیدر کرار رضی اللہ عنہ جیسی ہستی سے بہت بعید ہے۔ لہٰذا واضح ہو گیا کہ یہاں جو مطلب کرم فرماؤں نے تراشا وہ سراسر ظالمانہ اقدام اور خبث باطن کا اظہار ہے۔ ارباب علم کا فرمانا یہ ہے کہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے جو اجتہاد کیا وہ خطاء تھا اور مجتہد اگر اجتہاد میں غلطی بھی کرے تو اجر کا مستحق ہوتا ہے۔ فرق اتنا ہے کہ جو اجتہاد میں راہ حق پر ہو وہ دو اجر پاتا ہے اورجو مخطی ہو تو اسے ایک اجر حاصل ہوتا ہے۔