Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

خراسان، سجستان اور ماوراء النہر کی فتوحات

  علی محمد الصلابی

اولاً: خراسان، سجستان اور ماوراء النہر کی فتوحات

جب حالات سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی گرفت میں آ گئے تو انہوں نے عبداللہ بن عامرؓ کو بصرہ کا والی مقرر کیا اور سجستان اور خراسان سے جنگ کی۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 133)

عبداللہ بن عامرؓ کی اس منصب پر تقرری ان کے اس علاقہ میں گزشتہ تجربہ کی وجہ سے کی گئی تھی۔ 42ھ میں ابن عامرؓ نے عبدالرحمن بن سمرہ بن حبیبؓ کو سجستان کا والی مقرر کیا، جب وہ یہاں آئے تو ان کے ساتھ عمر بن عبیداللہ بن معمر تیمی، عبداللہ بن حازم سلمی، قطری بن فجاء ہ اور مہلب بن ابو صفرہ ازدی بھی تھی۔ انہوں نے اس حملہ کے دوران زرنج (زرنج: سجستان میں ایک بڑا شہر) نامی شہر کو صلح کے ذریعے فتح کر لیا اور اس کے سردار سے دو ملین درہم کی ادائیگی پر موافقت کر لی، بعد ازاں انہوں نے خواش (خواش: سجستان میں ایک شہر۔ معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 398)، بست(معجم البلدان: جلد 1 صفحہ 414)اور خشک (خشک: نواحی قابل میں ایک شہر۔ معجم البلدان:جلد 2 صفحہ 373)

وغیرہا شہروں کی طرف پیش قدمی کی اور انہیں فتح کر لیا، اسی طرح انہوں نے ایک ماہ کے محاصرہ کے بعد کابل کو بھی فتح کر لیا،

(فتوح البلدان: صفحہ 395) 

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے سجستان کو ولایت قرار دیتے ہوئے اس کا والی عبدالرحمٰن بن سمرہ کو مقرر کر دیا

(ایضاً: صفحہ 396)

جو کہ ان کی ان جیسی فتوحات کا صلہ تھا۔

اس طرح خراسان اور سجستان کی ولایت دوسری دفعہ والی بصرہ کی نگرانی میں آ گئی، جب 45ھ میں زیاد بصرہ آیا تو اس نے خراسان کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا:

1۔ مرو: اس کے امیر و امیر احمد لشکری تھے اور یہ پہلے شخص تھے جنہوں نے عربوں کو مرو میں لا کر آباد کیا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 408)

2۔ نیسا پور: اس کے امیر خلید بن عبداللہ حنفی تھے

3۔ مرو الرود، طالقان اور فاریاب: اس کا امیر قیس بن ہیثم سلمی کو مقرر کیا گیا۔

4۔ ہرات، باذغیس، یوشنج اور قادیس، اس پر نافع بن خالد طاحی ازدی کو متعین کیا گیا۔

(تاریخ طبری: نقلا عن خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 135)

47ھ میں زیاد نے خراسان کے شہر مرو کو اپنی حکومت کا مرکز قرار دے دیا۔