Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

حکم بن عمرو غفاری رضہ اللہ عنہ کا تقرر

  علی محمد الصلابی

ثانیاً: حکم بن عمرو غفاری رضہ اللہ عنہ کا تقرر

حکم بن عمروؓ غفاری بڑے پاک دامن اور شرف صحابیت سے مشرف تھے (فتوح البلدان: صفحہ 409)، 47ھ میں حکمؓ نے ’’طخارستان‘‘ (طنحارستان: بڑی وسیع و عریض ولایت، جو کئی علاقوں پر مشتمل ہے)

سے جنگ کی اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا، پھر جبال غور (الغور: ہرات اور غزہ کے درمیان ایک ولایت اور پہاڑ) کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں کے لوگوں سے جنگ کی جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے، ان کے خلاف تلوار استعمال کی اور اسے بزور بازو فتح کر لیا۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 478)

مہلب بن ابو صفرہ خراسان میں حکم بن عمرو کے ساتھ تھے، انہوں نے ان کے ساتھ مل کر ترکوں کے بعض پہاڑی علاقوں میں جنگ کی جن میں جبل ’’الاشل‘‘ بھی شامل ہے۔

(الاشل: خراسان میں واقع پہاڑ)

مگر ترکوں نے ان پر گھاٹیاں اور راستے بند کر دئیے، اس پر حکم نے جنگی امور مہلب کو تفویض کر دئیے، مہلب نے حیلہ گری سے کام لیتے ہوئے ترکوں کے بہت بڑے سردار آدمی کو گرفتار کر لیا اور اس سے کہا: ہمیں اس تنگ گھاٹی سے باہر نکال ورنہ ہم تجھے قتل کر ڈالیں گے۔ وہ کہنے لگا: ان راستوں میں سے کسی ایک راستے کے سامنے آگ جلاؤ اور اپنا سارا سازو سامان ادھر منتقل کر دو، اس طرح یہ سب لوگ ادھر جمع ہو جائیں گے اور دوسرے راستے خالی کر دیں گے، جب ایسا ہو جائے تو تم فوراً دوسرے راستے سے نکل جانا، اس طرح تم وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو جاؤ گے۔ مہلب نے ایسا ہی کیا اور یوں وہ اور ان کے ساتھی بچ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔

(الکامل فی التاریخ: نقلا عن قادۃ الفتح الاسلامی فی بلاد ماوراء النہر: صفحہ 118)

حکم بن عمروؓ نے نہر جیحون عبور کی اور ماوراء النہر کے علاقے میں چلے گئے، مگر ادھر کوئی علاقہ فتح نہ کیا۔

(ماوراء النہر: نہر جیحون کا مشرقی علاقہ، ماوراء النہر اور مغربی علاقہ خراسان اور سلطنت خوارزم کہلاتا ہے۔ معجم البلدان: جلد 7 صفحہ 370)

مسلمانوں میں پہلا شخص جس نے اس نہر کا پانی پیا وہ حکم کا آزاد کردہ غلام تھا، اس نے اپنی ڈھال سے نہر کا پانی نکالا، پھر خود بھی پیا اور حکم کو بھی پلایا، حکم نے اس سے وضو بھی کیا اور دو رکعت نماز ادا کی، حکم یہ کام کرنے والے پہلے شخص تھے۔

(الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 478)

ایک دفعہ عبداللہ بن مبارکؒ نے اہل ’’صغانیات‘‘ میں سے ایک شخص سے پوچھا: تیرے علاقہ کو کس نے فتح کیا تھا؟ اس نے کہا: میں نہیں جانتا۔ ابن مبارک نے فرمایا: اسے حکم بن عمرو غفاری نے فتح کیا تھا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 400۔ قادۃ الفتح الاسلامی فی بلاد ماوراء النہر: صفحہ 118)

حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ 50ھ میں فوت ہو گئے۔

(طبقات ابن سعد: جلد 7 صفحہ 29)

ان کے جانشین جلیل القدر صحابی غالب بن فضالہ لیثی رضی اللہ عنہ بنے، انہوں نے طخارستان کی فتح کے لیے منظم جنگی حملے جاری رکھے مگر وہ تمام تر کوششوں کے باوجود کوئی قابل ذکر پیش قدمی نہ کر سکے،

(خلافۃ معاویۃ: عقیلی: صفحہ 136)

جس کی وجہ سے زیاد نے انہیں معزول کر کے ان کی جگہ ربیع بن زیاد حارثی (50-53ھ) کو والی مقرر کر دیا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 409)

ربیع بن زیادؓ نے خراسان پر اپنی ولایت کے عرصے کے دوران بلخ سے جنگ کی مگر وہاں کے لوگوں نے ان کے ساتھ صلح کر لی، بعد ازاں کوہستان سے جنگ کی تو اسے تلوار کے زور پر فتح کر لیا، 53ھ میں چند ماہ کے لیے ان کا بیٹا عبداللہ ان کا جانشیں رہا اور اس کے بعد خلید بن عبداللہ حنفیؒ۔ خلید اپنے اس منصب پر قائم رہا یہاں تک کہ خراسان پر سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کا متعین کردہ عامل عبیداللہ بن زیاد (54-55ھ) میں یہاں پہنچ گیا، اس وقت عبیداللہ کی عمر پچیس سال تھی۔

(تاریخ طبری نقلا عن خلافۃ معاویۃ: صفحہ 138)