عبیداللہ بن زیاد کے بھائی مسلم بن زیاد کی فتوحات 57ھ -…

عبیداللہ بن زیاد کے بھائی مسلم بن زیاد کی فتوحات 57ھ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

خامساً: عبیداللہ بن زیاد کے بھائی مسلم بن زیاد کی فتوحات  57ھ

سیدنا امیر معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما نے 57ھ میں سعید بن عثمان کو معزول کر کے ایک روایت کی رو سے خراسان کی ولایت عبیداللہ بن زیاد کو دے دی،

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 149۔ قادۃ الفتح الاسلامی:  صفحہ 148)

ایک دوسری روایت کی رو سے سیدنا معاویہؓ نے خراسان پر عبدالرحمٰن بن زیاد کو والی مقرر کیا، چونکہ وہ ایک شریف انسان تھا لہٰذا فتوحات کے میدان میں کوئی کارکردگی نہ دکھا سکا، یہ 59ھ کی بات ہے۔

(قادۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 148)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت خراسان کا والی عبدالرحمٰن بن زیاد تھا، جب مسلم خراسان کی طرف روانہ ہونے لگا تو یزید نے عراق میں اس کے بھائی عبیداللہ بن زیاد کے نام اس مضمون کا خط بھیجا کہ وہ اس کے لیے چھ ہزار شہسواروں کا انتخاب کرے، ایک روایت میں یہ تعداد دو ہزار بھی بتائی گئی ہے۔ سلم بن زیاد اپنے ساتھ رہنے کے لیے سرکردہ لوگوں کا انتخاب کیا کرتا تھا، لہٰذا عمران بن فضیل برجمی، مہلب بن ابو صفرہ، عبداللہ بن خازم سلمی، طلحہ بن عبداللہ بن خلف خزاعی اور بصرہ کے رؤساء و اشراف سے بہت سارے لوگ اس کے ساتھ ہو لیے۔ سلم نے بصرہ سے ان لوگوں کو اپنے ساتھ لیا اور پھر پوری تیاری کے بعد خراسان کی طرف روانہ ہو گیا۔

(الکامل فی التاریخ نقلا عن قادۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 149)

سلم نے فتوحات کا آغاز خوارزم کے ساتھ جنگ سے کیا، مگر شہر والوں نے چار سو درہم کے بدلے اس سے صلح کر لی اور وہ رقم اسے ادا کر دی۔ جب سلم نے نہر جیحون عبور کی تو اس وقت اس کی بیوی ام محمد بنت عبداللہ بن عثمان بن ابو العاص ثقفی بھی اس کے ساتھ تھی۔ نہر جیحون عبور کرنے والی یہ پہلی عرب خاتون تھی۔ وہ سمرقند پہنچا تو اس کے شہریوں نے اس کے ساتھ صلح کر لی۔

(قادۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 149۔ فتوح البلدان: صفحہ 149)

اسے پتا چلا کہ ملکہ بخاریٰ نے عہد شکنی کرتے ہوئے اپنے ہمسایہ صغد اور شمال کے ترکوں سے مدد طلب کی ہے۔ طرخون صغد کے لشکر کی قیادت کرتے ہوئے اس کی مدد کے لیے آیا جبکہ ترکوں کا کمانڈر بھی ایک بھاری بھر کم لشکر کے ساتھ میدان کارزار میں اترا۔ مگرز مادی قوات پر مشتمل بڑے بڑے لشکر مسلمانوں کی معنویات پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ انہوں نے بخاریٰ پر حملہ کیے بغیر اس کا محاصرہ کر لیا تاکہ وہ سب سے پہلے اپنے دشمنوں کی قوات اور ان کے مقامات سے آگاہ ہو سکیں ان کا دشمن اس وقت بخاریٰ کے قریب ہی گھات لگائے بیٹھا تھا۔

صفحہ 1 از 3