عبیداللہ بن زیاد کے بھائی مسلم بن زیاد کی فتوحات 57ھ -…

عبیداللہ بن زیاد کے بھائی مسلم بن زیاد کی فتوحات 57ھ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

جب سلم کو یزید بن معاویہ کی موت کی خبر ملی تو اس نے اسے چھپائے رکھا مگر یہ خبر جنگل میں آگ کی طرح خراسان میں پھیل گئی، اس جیسی خبروں کو زیادہ دیر تک چھپانا ممکن نہیں ہوتا، جب سلم کو علم ہوا کہ یزید کی موت کی خبر لوگوں میں پھیل گئی ہے تو پھر اس نے یزید اور اس کے بیٹے معاویہ کی موت کی خبر ظاہر کر دی اور لوگوں کو خوشی سے اس وقت تک بیعت کرنے کی دعوت دی جب تک لوگوں کا کسی خلیفہ پر اتفاق نہیں ہو جاتا۔ لوگوں نے اس سے بیعت تو کر لی مگر دو ماہ بعد ہی اسے توڑ ڈالا، اگرچہ لوگوں کے ساتھ سلم کا رویہ بہت اچھا تھا اور وہ اس سے دلی محبت کرتے تھے مگر عرب قبائل کے بعض لوگوں نے عصبیت و تعصب سے کام لیتے ہوئے اس سے بیعت توڑ ڈالی۔ اہل خراسان کو کوئی ایسا امیر نہ مل سکا جو سلم بن زیاد کی طرح ان سے محبت کرتا۔

(ایضاً: جلد 2 صفحہ 622)

مگر ان کا ایک کہنے والا کہتا ہے: سلم کا یہ خیال غلط تھا کہ وہ جماعت اور فتنہ کے دوران ہم پر امارت کر لے گا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 582)

اہل خراسان نے اپنے عمال کو خراسان سے باہر نکال دیا اور ہر قوم نے اپنے اپنے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا، ہر طرف فتنہ اٹھ کھڑا ہوا اور جنگ و جدال شروع ہو گیا۔

(قادۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 153)

خود عرب قبائل کے درمیان باہم قتل و قتال کی کیفیت پیدا ہو گئی خراسان کئی علاقوں میں تقسیم ہو گیا اور ہر علاقے کا ایک قائد اور امیر ہوتا، مسلمانوں کے مقتولین کی لاشیں گرنے لگیں، فتوحات کا سلسلہ رک گیا اور سلم نے مکہ مکرمہ میں موجود عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی راہ لی۔

(فتوح البلدان: صفحہ 582۔ قادۃ الفتح الاسلامی: صفحہ 154)


صفحہ 3 از 3