Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد معاویہ میں فتوحات سندھ

  علی محمد الصلابی

سادساً: عہد معاویہ میں فتوحات سندھ

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں مسلمانوں نے اپنا اثر و نفوذ دریائے سندھ کے ماوراء تک بڑھا لیا، 44ھ میں مہلب بن ابو صفرہ نے سندھ میں جنگ کی اور وہ بنہ اور لاہور تک پہنچ گیا۔

(بنّہ: کابل کے قریب ایک شہر۔ معجم البلدان: جلد 2 صفحہ 500)

یہ دونوں شہر ملتان اور کابل کے درمیان واقع ہیں۔45ھ کے آغاز میں والی بصرہ عبداللہ بن عامر نے عبداللہ بن سوار عبیدی کو چار ہزار لوگوں پر مقرر کر کے سندھ بھیجا، جب ابن سوار مکران پہنچا تو وہاں اس نے چار ماہ تک قیام کیا اس دوران وہ اپنے آپ کو اور اپنے لشکر کو متوقع حملہ کے لیے تیار کرتا رہا، پھر وہ اپنے لشکر کے ساتھ بلاد قیقان (قیقان: طبرستان کے قریب ایک شہر۔ معجم البلدان: جلد 4 صفحہ 423)

کی طرف بڑھا اور اسے فتح کر لیا، اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں قیقانی گھوڑے تحفتاً پیش کیے۔

(فتوح البلدان: صفحہ 432)

یہ گھوڑے اس نے شام میں انہیں ذاتی طور پر پیش کیے تھے۔ قیقانی برذونی گھوڑے انہیں گھوڑوں کی نسل سے ہیں۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 207۔ خلافۃ معاویۃ از عقیلی: سے صفحہ 142)

بہرحال ابن سوار سندھ میں زیادہ طویل عرصے تک قیام نہ کر سکا اس لیے کہ اس علاقہ میں موجود ترکوں کی ایک جماعت نے 47ھ میں اسے قتل کر ڈالا تھا۔

(ایضاً)

پھر 46ھ میں زیاد بن ابوسفیان نے سلمان بن سلمہ بن محبق ہذلی کا سندھ میں مفتوحہ علاقوں کے والی کے طور پر انتخاب کیا، سنان نے وہاں پہنچنے کے بعد مکران شہر کو بزور طاقت فتح کر لیا اور خود وہاں مقیم ہو کر مفتوحہ علاقوں کو کنٹرول کرنے لگا، (فتوح البلدان: صفحہ 432)

مگر زیاد نے ایک یا دو سال بعد اسے معزول کر کے اس کی جگہ راشد بن عمر ازدی کو والی مقرر کر دیا، اس نے مکران آمد کے بعد بلاد قیقان میں پیش قدمی شروع کی جس میں وہ کامیاب رہا، پھر جب مید کی طرف متوجہ ہوا تو وہاں اسے قتل کر دیا گیا۔

(ایضاً)

اس کے بعد سجستان کی زمام اقتدار عباد بن زیاد بن ابوسفیان کے ہاتھ میں آئی تو وہ حملے کرتا ہوا دریائے سندھ کے علاقہ حوض میں اندر تک چلا گیا پھر کِش میں پڑاؤ کیا اور پھر قندھار کی طرف چلا 

(معجم البلدان: جلد 4 صفحہ 402)

اور اس کے شہریوں سے جنگ کر کے انہیں شکست دے دی اور کئی مسلمانوں کے جانی نقصان کے عوض اسے فتح کر لیا۔

(فتوح البلدان: صفحہ 433)

دنیا کے اس حصے میں اسلامی فتوحات کی نگرانی کرنے والا آخری والی ابو الاشعث منذر بن جارود العبدی تھا جسے 62ھ میں والی بصرہ عبداللہ بن زیاد بن ابو سفیان کی طرف سے متعین کیا گیا تھا۔ منذر نے قصدار

(معجم البلدان: جلد 4 صفحہ 353)

شہر کے خلاف حملہ کی قیادت کی اور اسے فتح کرنے میں کامیاب ٹھہرا۔ 

(فتوح البلدان: صفحہ 433۔ خلافۃ معاویۃ از عقیلی: صفحہ 143)