Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

فتوحاتِ معاویہ رضی اللہ عنہ کے دوران حاصل ہونے والے اہم ترین دروس و عبر اور فوائد

  علی محمد الصلابی

اولاً: مجاہدین پر قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کے اثرات

جہاد کی فضیلت کے بارے میں وارد قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کا مسلمانوں کے دلوں پر گہرا اثر تھا، اللہ عزوجل نے اس امر کو واضح فرما دیا ہے کہ مجاہدین کو ان کی جملہ نقل و حرکت پر اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

مَا كَانَ لِاَهۡلِ الۡمَدِيۡنَةِ وَمَنۡ حَوۡلَهُمۡ مِّنَ الۡاَعۡرَابِ اَنۡ يَّتَخَلَّفُوۡا عَنۡ رَّسُوۡلِ اللّٰهِ وَ لَا يَرۡغَبُوۡا بِاَنۡفُسِهِمۡ عَنۡ نَّـفۡسِهٖ  ذٰ لِكَ بِاَنَّهُمۡ لَا يُصِيۡبُهُمۡ ظَمَاٌ وَّلَا نَصَبٌ وَّلَا مَخۡمَصَةٌ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَلَا يَطَئُــوۡنَ مَوۡطِئًا يَّغِيۡظُ الۡكُفَّارَ وَلَا يَنَالُوۡنَ مِنۡ عَدُوٍّ نَّيۡلاً اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ‌ اِنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُحۡسِنِيۡنَ۞ وَلَا يُنۡفِقُوۡنَ نَفَقَةً صَغِيۡرَةً وَّلَا كَبِيۡرَةً وَّلَا يَقۡطَعُوۡنَ وَادِيًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمۡ لِيَجۡزِيَهُمُ اللّٰهُ اَحۡسَنَ مَا كَانُوۡا يَعۡمَلُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 120، 121)

ترجمہ: مدینہ کے باشندوں اور ان کے ارد گرد کے دیہات میں رہنے والوں کے لیے یہ جائز نہیں تھا کہ وہ اللہ کے رسول (کا ساتھ دینے سے) پیچھے رہیں، اور نہ یہ جائز تھا کہ وہ بس اپنی جان پیاری سمجھ کر ان کی (یعنی رسول اللہ ﷺ کی) جان سے بےفکر ہو بیٹھیں۔ یہ اس لیے کہ ان (مجاہدین) کو جب کبھی اللہ کے راستے میں پیاس لگتی ہے، یا تھکن ہوتی ہے، یا بھوک ستاتی ہے، یا وہ کوئی ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو کافروں کو گھٹن میں ڈالے، یا دشمن کے مقابلے میں کوئی کامیابی حاصل کرتے ہیں تو ان کے اعمال نامے میں (ہر ایسے کام کے وقت) ایک نیک عمل ضرور لکھا جاتا ہے۔ یقین جانو کہ اللہ نیک لوگوں کے کسی عمل کو بیکار جانے نہیں دیتا۔ نیز وہ جو کچھ (اللہ کے راستے میں) خرچ کرتے ہیں، چاہے وہ خرچ چھوٹا ہو یا بڑا، اور جس کسی وادی کو وہ پار کرتے ہیں، اس سب کو (ان کے اعمال نامے میں نیکی کے طور پر) لکھا جاتا ہے، تاکہ اللہ انہیں (ہر ایسے عمل پر) وہ جزاء دے جو ان کے بہترین اعمال کے لیے مقرر ہے۔

انہوں نے قرآن سے ہی یہ تعلیم حاصل کی تھی کہ جہاد مسجد حرام کو آباد کرنے اور اس میں حاجیوں کو پانی پلانے سے بھی افضل ہے۔ ارشاد ہوتا ہے:

اَجَعَلۡتُمۡ سِقَايَةَ الۡحَـآجِّ وَعِمَارَةَ الۡمَسۡجِدِ الۡحَـرَامِ كَمَنۡ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَجَاهَدَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌ لَا يَسۡتَوٗنَ عِنۡدَ اللّٰهِ وَ اللّٰهُ لَا يَهۡدِى الۡقَوۡمَ الظّٰلِمِيۡنَ‌۞ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَ هَاجَرُوۡا وَجَاهَدُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ بِاَمۡوَالِهِمۡ وَاَنۡفُسِهِمۡ اَعۡظَمُ دَرَجَةً عِنۡدَ اللّٰهِ‌ وَاُولٰٓئِكَ هُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ‏ ۞ يُبَشِّرُهُمۡ رَبُّهُمۡ بِرَحۡمَةٍ مِّنۡهُ وَرِضۡوَانٍ وَّجَنّٰتٍ لَّهُمۡ فِيۡهَا نَعِيۡمٌ مُّقِيۡمٌ ۞ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا‌ اِنَّ اللّٰهَ عِنۡدَهٗۤ اَجۡرٌ عَظِيۡمٌ ۞ (سورۃ التوبة آیت 19 تا 22)

ترجمہ: کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کے آباد رکھنے کو اس شخص کے (اعمال کے) برابر سمجھ رکھا ہے جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لایا ہے، اور جس نے اللہ کے راستے میں جہاد کیا ہے۔ اللہ کے نزدیک یہ سب برابر نہیں ہوسکتے۔ اور اللہ ظالم لوگوں کو منزل مقصود تک نہیں پہنچاتا۔ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور انہوں نے اللہ کے راستے میں ہجرت کی ہے اور اپنے مال اور اپنی جانوں سے جہاد کیا ہے، وہ اللہ کے نزدیک درجے میں کہیں زیادہ ہیں، اور وہی لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔ ان کا پروردگار انہیں اپنی طرف سے رحمت اور خوشنودی کی، اور ایسے باغات کی خوشخبری دیتا ہے جن میں ان کے لیے دائمی نعمتیں ہیں۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یقیناً اللہ ہی ہے جس کے پاس عظمت والا اجر موجود ہے۔

اور ان کا اعتقاد تھا کہ جہاد ہر حالت میں فوز و فلاح سے ہمکنار کرتا ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

قُلۡ هَلۡ تَرَبَّصُوۡنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحۡدَى الۡحُسۡنَيَيۡنِ‌ وَنَحۡنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمۡ اَنۡ يُّصِيۡبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنۡ عِنۡدِهٖۤ اَوۡ بِاَيۡدِيۡنَا فَتَرَبَّصُوۡۤا اِنَّا مَعَكُمۡ مُّتَرَبِّصُوۡنَ ۞ (سورۃ التوبة آیت 52)

ترجمہ: کہہ دو کہ: تم ہمارے لیے جس چیز کے منتظر ہو، وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ (آخر کار) دو بھلائیوں میں سے ایک نہ ایک بھلائی ہمیں ملے۔ اور ہمیں تمہارے بارے میں انتظار اس کا ہے کہ اللہ تمہیں اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں سزا دے۔ بس اب انتظار کرو، ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔ اور یہ کہ شہید زندہ ہے اور اس کی زندگی ختم ہونے والی نہیں ہے:

وَلَا تَحۡسَبَنَّ الَّذِيۡنَ قُتِلُوۡا فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ اَمۡوَاتًا بَلۡ اَحۡيَآءٌ عِنۡدَ رَبِّهِمۡ يُرۡزَقُوۡنَ۞ فَرِحِيۡنَ بِمَاۤ اٰتٰٮهُمُ اللّٰهُ مِنۡ فَضۡلِهٖ وَيَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِالَّذِيۡنَ لَمۡ يَلۡحَقُوۡا بِهِمۡ مِّنۡ خَلۡفِهِمِ لَّا خَوۡفٌ عَلَيۡهِمۡ وَلَا هُمۡ يَحۡزَنُوۡنَ‌۞ يَسۡتَبۡشِرُوۡنَ بِنِعۡمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَفَضۡلٍ وَّاَنَّ اللّٰهَ لَا يُضِيۡعُ اَجۡرَ الۡمُؤۡمِنِيۡنَ ۞

(سورۃ آل عمران آیت 169 تا 171)

ترجمہ: اور (اے پیغبر) جو لوگ اللہ کے راستے میں قتل ہوئے ہیں، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا، بلکہ وہ زندہ ہیں، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے۔اللہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ (شہادت میں) شامل نہیں ہوئے، ان کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ (جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو) نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ وہ اللہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔  

مجاہدین کو اپنے اس ہدف کی عظمت و برتری کا بخوبی شعور تھا جس کے لیے وہ قتال کر رہے تھے، ارشاد ربانی ہے:

فَلۡيُقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ الَّذِيۡنَ يَشۡرُوۡنَ الۡحَيٰوةَ الدُّنۡيَا بِالۡاٰخِرَةِ‌ وَمَنۡ يُّقَاتِلۡ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ فَيُقۡتَلۡ اَوۡ يَغۡلِبۡ فَسَوۡفَ نُـؤۡتِيۡهِ اَجۡرًا عَظِيۡمًا۞   وَمَا لَـكُمۡ لَا تُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ وَالۡمُسۡتَضۡعَفِيۡنَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَآءِ وَالۡوِلۡدَانِ الَّذِيۡنَ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡ هٰذِهِ الۡـقَرۡيَةِ الظَّالِمِ اَهۡلُهَا وَاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ وَلِيًّا وَّاجۡعَلْ لَّـنَا مِنۡ لَّدُنۡكَ نَصِيۡرًا ۞ اَلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ‌‌ وَالَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا يُقَاتِلُوۡنَ فِىۡ سَبِيۡلِ الطَّاغُوۡتِ فَقَاتِلُوۡۤا اَوۡلِيَآءَ الشَّيۡطٰنِ‌ اِنَّ كَيۡدَ الشَّيۡطٰنِ كَانَ ضَعِيۡفًا ۞

(سورۃ النساء آیت نمبر 74 تا 76)

ترجمہ: لہٰذا اللہ کے راستے میں وہ لوگ لڑیں جو دنیوی زندگی کو آخرت کے بدلے بیچ دیں۔ اور جو اللہ کے راستے میں لڑے گا، پھر چاہے قتل ہوجائے یا غالب آجائے، (ہر صورت میں) ہم اس کو زبردست ثواب عطا کریں گے۔ اور (اے مسلمانو) تمہارے پاس کیا جواز ہے کہ اللہ کے راستے میں اور ان بےبس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو یہ دعا کر رہے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہمیں اس بستی سے نکال لایئے جس کے باشندے ظلم توڑ رہے ہیں، اور ہمارے لیے اپنی طرف سے کوئی حامی پیدا کردیجیے، اور ہمار لیے اپنی طرف سے کوئی مددگار کھڑا کردیجیے۔جو لوگ ایمان لائے ہوئے ہیں وہ اللہ کے راستے میں لڑتے ہیں، اور جن لوگوں نے کفر اپنا لیا ہے وہ طاغوت کے راستے میں لڑتے ہیں۔ لہٰذا (اے مسلمانو) تم شیطان کے دوستوں سے لڑو۔ (یاد رکھو کہ) شیطان کی چالیں درحقیقت کمزور ہیں۔ 

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پیروکار مسلمانوں کو فضیلت جہاد سے آگاہ فرمایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ نے ان کے مشاعر و جذبات کو بھڑکا دیا اور ان سے ان کی طاقتیں ابل پڑیں۔ ان احادیث میں سے چند پیش خدمت ہیں:

حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا: کون سے لوگ افضل ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ مومن جو اپنی جان اور اپنے مال سے جہاد کرتا ہے۔‘‘

(بخاری: رقم الحدیث: 2786)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدین کے درجات کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ’’بے شک جنت میں سو درجات ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے مجاہدین فی سبیل اللہ کے لیے تیار کر رکھا ہے، دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا آسمان اور زمین کے درمیان۔ جب تم اللہ سے کچھ مانگو تو اس سے جنت الفردوس مانگو اس لیے کہ وہ بہترین اور بلند ترین جنت ہے۔‘‘

(بخاری: رقم الحدیث: 2790)

 نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شہداء کی فضیلت و کرامت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو اس کی راہ میں نکلا اور اسے صرف مجھ پر ایمان اور میرے رسولوں کی تصدیق نے اس راہ میں نکالا کہ یا تو میں اسے اجر و ثواب کے ساتھ واپس لوٹاؤں گا یا اسے جنت میں داخل کروں گا اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میں اپنی امت کو مشقت میں ڈالوں گا تو میں کسی بھی لشکر کے پیچھے بیٹھا نہ رہتا، میں چاہتا ہوں کہ اللہ کی راہ میں شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کر دیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کر دیا جاؤں۔‘‘

(مسلم: جلد 3 صفحہ 1497)

اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی ارشاد گرامی ہے: ’’جنت میں داخل ہونے والا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو دنیا میں واپس جانا چاہتا ہو چاہے اسے دنیا کی ساری دولت مل جائے بجز شہید کے، اس کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ دنیا میں واپس جائے اور اسے دس بار شہید کیا جائے کیونکہ وہ وہاں شہادت کی عزت دیکھتا ہے۔‘‘

(بخاری: رقم الحدیث: 2817)

پہلے مسلمان اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے ان آیات و احادیث سے متاثر ہوئے، بڑی عمر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب جہاد کے لیے نکلتے اور پھر اس میں عملاً حصہ لیتے تو لوگ ان پر ترس کھاتے اور انہیں جہاد میں حصہ نہ لینے کے بارے میں کہتے اس لیے کہ وہ معذور ہیں مگر وہ جواب دیتے کہ سورہ توبہ انہیں جہاد ترک کر کے گھر بیٹھنے کی اجازت نہیں دیتی، اگر وہ جہاد سے پیچھے رہے تو انہیں اپنے بارے نفاق کا ڈر ہو گا۔

(فی سبیل اللہ: قادری: جلد 1 صفحہ 145)

علماء، فقہاء اور زہاد کا ان آیات و احادیث پر مبنی لوگوں کی تربیت کرنے میں بھی بڑا کردار رہا ہے۔ ان علماء میں معمر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی شامل تھے جیسا کہ ابو ایوب انصاری اور ابن عمرو دیگر رضی اللہ عنہم اور تابعین میں سے ابو مسلم خولانیؒ۔ ان کے نزدیک جہاد فی سبیل اللہ امت اسلامیہ کی بقاء کے لیے ازحد ضروری ہے، لہٰذا انہوں نے بلاد شام، شمالی افریقہ، خراسان، سجستان اور سندھ کی فتوحات میں یہ فریضہ سرانجام دیا، اور ان کی طرف سے اس فریضہ کی ادائیگی پر بہت سارے ثمرات مرتب ہوئے، مثلاً: امت اسلامیہ میں بشریٰ قیادت کی اہلیت پیدا ہوئی، کفار کا رعب و دبدبہ ختم ہوا اور انہیں کمزور کر دیا گیا۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کا رعب پیدا ہوا اور لوگوں پر دعوت اسلامیہ کی سچائی ثابت ہوئی جس کی وجہ سے وہ اللہ کے دین میں فوج در فوج داخل ہونے لگے جس سے مسلمانوں کی عزت میں مزید اضافہ ہوا اور کافر مزید ذلیل ہو گئے، اپنے دشمنوں کے خلاف مسلمانوں کی صفوں میں وحدت پیدا ہوئی اور انہوں نے لوگوں کو اسلام کے نور اور اس کے عدل و رحمت کے ساتھ سعادت مند بنایا۔

(الجہاد فی سبیل اللہ: جلد 2 صفحہ 411، 482)