فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ
علی محمد الصلابیثالثاً: فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کی فتوحات اسلامیہ کا بنظر غائر مطالعہ کرنے والا معاشروں، گروہوں اور ممالک میں کار فرما بعض سنن الہٰیہ کا ملاحظہ کرتا ہے۔ جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ اتحاد و اجتماعیت میں سنۃ اللہ:
جو فتنہ شہادت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر منتج ہوا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے ارتداد کے بعد فتوحات اسلامیہ کی تحریک کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، سیدنا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے جہاد رک گیا اور ایک ایسا فتنہ اٹھ کھڑا ہوا جس کے دوران مسلمانوں کی تلواروں کا رخ آپس میں ایک دوسرے کی طرف تھا قریب تھا کہ وہ امت کو تباہی سے دوچار کر دیتا اگر رحمت ایزدی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسنؓ کی باہمی صلح کے ساتھ اس کا تدارک نہ کرتی۔ مصادر ایسی نصوص سے بھرے پڑے ہیں جو حرکت جہاد کی رکاوٹ میں اس فتنہ کے اثرات کو واضح کرتی ہیں۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 310)
سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے خیال آیا کہ میں مدینہ منورہ میں جا کر وہاں رہائش اختیار کر لوں اور یہ سب کچھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دوں۔ یقیناً فتنہ دراز ہو چکا، اس دوران خون گرائے گئے، قطع رحمی کی گئی، راستے مسدود کر دئیے گئے اور جہادی محاذ معطل ہو کر رہ گئے۔
(الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 331)
ابو زرعہ دمشقی نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور لوگوں کا آپس میں اختلاف پیدا ہو گیا تو جہاد کرنے والا کوئی بھی باقی نہ بچا یہاں تک کہ امت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جمع ہو گئی۔
(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 310)
ابو بکر المالکی فرماتے ہیں: فتنہ وقوع پذیر ہو گیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے اور افریقہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت تک اپنی حالت پر برقرار رہا۔
(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 27)
لیکن صلح اور اس پر مرتب ہونے والے اتحاد اور اجتماع کے بعد فتوحات اسلامیہ کی تحریک کا نئے سرے سے پھر آغاز ہو گیا، عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں فتوحات کا سلسلہ تین محاذوں پر جاری تھا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا۔ کتاب و سنت پر اتحاد و اجتماع مقاصد شریعت میں سے ہے اور یہ مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کی تمکین و تقویت اور فتوحات کی تحریک کے تسلسل کا اہم ترین سبب ہے۔ مسلمانوں کے دلوں کو جیتنے اور ان کی صفوں کو متحد رکھنے کے لیے ضروری ذرائع اور اسباب کو اختیار کرنا بذات خود بہت بڑا جہاد ہے، اس لیے کہ مسلمانوں کی عزت و قوت، ان کی حکومت کے قیام اور ان کے رب کی شریعت کو حاکم بنانے کے لیے اس قدم کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔
(خامس الخلفاء الراشدین الحسن بن علی: صفحہ 359)
فتوحات کی تحریک اتفاق، اتحاد و اجتماع کے اختیار کرنے اور اختلاف و انتشار سے بچنے کی مرہون منت ہے۔ ارشاد ربانی ہے:
وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا۞
(سورۃ آل عمران آیت 103)
ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو،
2۔ اسباب اختیار کرنے کی سنت:
اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:
وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ وَمَا تُـنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ ۞
(سورۃ الأنفال آیت 60)
ترجمہ: اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف یہ کہ اس آیت کریمہ پر خود بھرپور انداز میں عمل کیا بلکہ اپنے عمال کو بھی اس پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی، اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بحری بیڑہ تیار کرنے، اسے بہتر سے بہتر بنانے، اسلامی لشکر کو مضبوط بنانے، داخلی فتنوں کی سرکوبی کرنے، سرحدی محاذوں کو مضبوط بنانے، فوجی چھاؤنیوں کو محفوظ بنانے اور حکومت کی اندرونی اور بیرونی حکمت عملی کی منصوبہ بندی کرنے میں بڑی دلچسپی لی۔ مزید برآں موسم گرما اور موسم سرما کے لیے فوجی کارروائیوں کا منصوبہ تشکیل دیا اور پھر اسے عملی شکل بھی دی، قلعے تعمیر کیے، لوگوں کی ذہن سازی کی، اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے مختلف قبائل کو مختلف مقامات پر آباد کرنا، فتوحات کو مستحکم بنانا اور سرکش تحریکوں کا تعاقب کرنا بھی ان کی طرف سے مادی اسباب اختیار کرنے کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ جب فارسیوں کی طرف سے فوجی حملوں کا خطرہ ٹل گیا تو انہوں نے ہزاروں عربی خاندانوں کو دولت اسلامیہ کے مشرقی بازو اور خاص طور پر خراسان میں آباد کیا، ان کی یہ سیاست کامیاب رہی اور اس حصے میں اس کے بڑے اچھے ثمرات برآمد ہوئے۔
(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 119)
3۔ سنت مزاحمت:
قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞
(سورۃ البقرة آیت نمبر 251)
ترجمہ: اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔
فتوحات اسلامیہ کی تحریک میں یہ سنت الہٰیہ عمومی طور پر متحقق ہوئی، سنت مزاحمت اللہ تعالیٰ کی کائنات اور مخلوق میں کارگر اس کی اہم ترین سنن میں سے ایک ہے۔ اس کا امت اسلامیہ کی تمکین فی الارض کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ اولین مسلمانوں نے اس سنت کا خوب احاطہ کیا اور اس پر عمل پیرا ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ حق کو ایسے عزائم کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ساتھ وہ ابھرا کرتا ہے اور ایسے مددگاروں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ساتھ وہ آگے بڑھتا ہے، نیز وہ ایسے قلوب و اعصاب کا محتاج ہوتا ہے جو اس کے لیے دھڑکتے اور اس کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں اور یہ کہ حق کو بشری کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے کہ یہ دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اور یہ نافذ العمل ہے۔
(لقاء المومنین: عدنان نحوی: جلد 2 صفحہ 117)
4۔ ابتلاء و آزمائش کی سنت:
فرمان باری تعالیٰ ہے:
اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت 214)
ترجمہ: (مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ “اللہ کی مدد کب آئے گی؟”یا درکھو! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔
مسلمانوں کو قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اور جس میں بہت سارے مسلمانوں کو موت سے ہمکنار ہونا پڑا۔ اسی طرح شمالی افریقہ کی فتوحات میں بھی وہ کٹھن ترین حالات سے دوچار ہوئے جن میں عقبہ بن نافعؓ اور ابو المھاجرؓ دینار جیسے کمانڈروں نے موت کو گلے لگایا، عقائد و دعوات میں ابتلاء اللہ رب العزت کی سنت ہے، اور یہ مال و زر میں بھی نافذ ہو سکتی ہے اور جانوں میں بھی۔ ایسے حالات میں صبر کا مظاہرہ کرنا اور پرعزم رہنا ازحد ضروری ہوتا ہے۔
(فقہ النصر و التمکین: صلابی: صفحہ 456)
5۔ ظلم اور ظالموں کے بارے میں اللہ کی سنت: ارشاد ہوتا ہے:
ذٰلِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡـقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ مِنۡهَا قَآئِمٌ وَّحَصِيۡدٌ ۞ وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ وَلٰـكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِىۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ ۞ وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ ۞ (سورۃ هود آیت 102)
ترجمہ: یہ ان بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ (بستیاں) وہ ہیں جو ابھی اپنی جگہ کھڑی ہیں، اور کچھ کٹی ہوئی فصل (کی طرح بےنشان) بن چکی ہیں۔ اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور انہوں نے ان کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے۔
ظالم امتوں کی ہلاکت کے بارے میں اللہ کی یہی سنت نافذ ہے۔ فارسی حکومت نے اپنی رعایا پر مظالم ڈھائے اور اللہ کے منہج کے خلاف سرکشی کی تو ان پر اللہ کی یہ سنت نافذ ہو گئی اور اس نے ان پر مسلمانوں کو مسلط کر دیا اور پھر انہوں نے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
(السنن الالہٰیۃ فی الامم و الجماعات و الافراد: صفحہ 119، 121)
اسی طرح شام اور مصر سے بیزنطی اثر و نفوذ ختم ہو گیا اور شمالی افریقہ میں اس کا وجود ڈانواں ڈول ہو گیا اور پھر جب ولید بن عبدالملک کی حکومت کا دور آیا تو شمالی افریقہ سے اس کا اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گیا۔
6۔ خوشحال لوگوں کے بارے میں سنت الہٰیہ: ارشاد ربانی ہے:
وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِيۡهَا فَفَسَقُوۡا فِيۡهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 16)
ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوا ہے کہ جب اس بستی کی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو ہم نے اس کے خوشحال لوگوں، یعنی بادشاہوں اور سخت گیروں کو حکم دیا تو وہ اس میں بدکاریاں کرنے لگے، اس طرح اس کے خلاف ہمارا فیصلہ ثابت ہو گیا اور اسے ہلاکت سے دوچار کر دیا گیا، اللہ رب کائنات نے خوشحال لوگوں کا خاص طور پر ذکر کیا، حالانکہ اطاعت گزاری کا حکم سب کے لیے ہوتا ہے، اس لیے کہ فسق و فجور کے امام اور گمراہی کے رؤسا وہی ہوتے ہیں، اور جو کچھ دوسروں نے کیا وہ ان کی متابعت اور اغوا کاری کی وجہ سے ہوا، لہٰذا انہیں زیادہ تاکید سے حکم دیا گیا۔
(تفسیر الآلوسی: جلد 15 صفحہ 42)
اللہ تعالیٰ کی یہ سنت بلاد فارس میں فارسیوں کے ائمہ و زعماء میں جاری ہوئی اور شام، مصر اور شمالی افریقہ میں زعماء روم میں۔
7۔ سرکشی اور سرکش لوگوں کے بارے میں سنۃ اللہ:
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۞ (سورۃ الفجر آیت 14)
ترجمہ: یقین رکھو تمہارا پروردگار سب کو نظر میں رکھے ہوئے ہے۔
یہ آیت نافرمان لوگوں کے لیے وعید ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نافرمانوں کے لیے بھی وعید ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔
(السنن الالہٰیۃ: صفحہ 193)
تفسیر قرطبی میں ہے: وہ سب لوگوں کے اعمال دیکھ رہا ہے اور وہ سب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
(تفسیر قرطبی نقلا عن السنن الالہٰیۃ: صفحہ 193)
مفسرین کے تفسیری اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ سرکش لوگوں کے بارے میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں ان پر عذاب اتارتا ہے، اور یہ طے شدہ طریقہ ہے جو گزشتہ سرکش لوگوں پر بھی نافذ ہوا اور موجودہ اور آئندہ آنے والے سرکشوں پر بھی نافذ ہو کر رہے گا اور ان میں سے کوئی بھی اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔
(السنن الالہٰیۃ: صفحہ 194)
مگر اس سے عبرت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بخوبی علم رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ایک طے شدہ قانون ہے جو کسی سے رو رعایت نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون پر اترنے والے برے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:
فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَڪَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ۞اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ۞
(سورۃ النازعات آیت 25)
ترجمہ: نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔
پارسیوں کے سرکش زعماء اور مصر و شام میں رومی زعماء میں یہی سنت الہٰیہ نافذ ہو کر رہی۔
8۔ تدریجی سنت:
اسلامی فتوحات اس سنت الہٰیہ کے تابع رہیں کہ ہر عمل بالتدریج پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے، قسطنطنیہ کا پہلا اور دوسرا محاصرہ عثمانی سلطان محمد الفاتح کے دور میں اس کی فتح کا ابتدائی مرحلہ تھا، محمد الفاتح سے قبل مسلمانوں نے دولت بیزنطیہ کے خلاف جو کارروائیاں کیں انہوں نے اس ارتقائی عمل میں اہم کردار ادا کیا جو عثمانی عہد حکومت میں قسطنطنیہ کی فتح پر منتج ہوا۔
9۔ گناہوں اور معاصی میں سنت اللہ:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّنۡ لَّـكُمۡ وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَيۡهِمۡ مِّدۡرَارًا وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 6)
ترجمہ: کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا۔ ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں بھیجیں، اور ہم نے دریاؤں کو مقرر کردیا کہ وہ ان کے نیچے بہتے رہیں۔ لیکن پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ اور ان کے بعد دوسری نسلیں پیدا کیں۔
اللہ تعالیٰ نے فارسی امت کو ان کے ان گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا جن کا وہ ارتکاب کرتے رہے، اور انہی گناہوں کے سبب سے مصر، روم اور لیبیا سے رومیوں کی بادشاہت ختم کر ڈالی، اس آیت سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ گناہ اور معاصی گناہ گاروں اور معاصی کا ارتکاب کرنے والوں کو ہلاک کرنے کا سبب بنتے ہیں اور وہ اللہ ہی ہے جو گناہ گاروں کو ان کے گناہوں کی بدولت ہلاکت سے دوچار کرتا ہے۔
(السنن الالہٰیۃ: صفحہ 210)
اللہ تعالیٰ نے امت اسلام کو اس وقت رومیوں اور فارسیوں پر مسلط کر دیا جب وہ تمکین فی الارض کی شروط پر پوری اتری اس کی سنن پر عمل کیا، اس کے اسباب اختیار کیے اور اس کے مقاصد کو پورا کر دیا۔
(فی الحرب الاسلامی: بسام العسلی: جلد 1 صفحہ 233)
10۔ دلوں کو بدلنے کی سنت:
قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ ۞ (سورۃ الرعد آیت نمبر 11)
ترجمہ: اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ نے شام، مصر، شمالی افریقہ اور بلاد مشرق میں ان شعوب و قبائل کے ساتھ اسی سنت الہٰیہ پر عمل کیا جنہوں نے اللہ کے دین میں داخل ہونے کا ارادہ کیا۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں لوگوں کی تربیت کا آغاز کیا اور ان کے دلوں میں عقائد صحیحہ، افکار سلیمہ اور اخلاق رفیعہ کے بیج بوئے۔