فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ - دفاعِ اہلِ…

فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 3

ثالثاً: فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ 

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت کی فتوحات اسلامیہ کا بنظر غائر مطالعہ کرنے والا معاشروں، گروہوں اور ممالک میں کار فرما بعض سنن الہٰیہ کا ملاحظہ کرتا ہے۔ جن میں سے چند مندرجہ ذیل ہیں:

1۔ اتحاد و اجتماعیت میں سنۃ اللہ:

جو فتنہ شہادت سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ پر منتج ہوا وہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کے ارتداد کے بعد فتوحات اسلامیہ کی تحریک کے لیے بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہوا، سیدنا شہادت عثمان رضی اللہ عنہ سے جہاد رک گیا اور ایک ایسا فتنہ اٹھ کھڑا ہوا جس کے دوران مسلمانوں کی تلواروں کا رخ آپس میں ایک دوسرے کی طرف تھا قریب تھا کہ وہ امت کو تباہی سے دوچار کر دیتا اگر رحمت ایزدی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا حسنؓ کی باہمی صلح کے ساتھ اس کا تدارک نہ کرتی۔ مصادر ایسی نصوص سے بھرے پڑے ہیں جو حرکت جہاد کی رکاوٹ میں اس فتنہ کے اثرات کو واضح کرتی ہیں۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 310)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا: مجھے خیال آیا کہ میں مدینہ منورہ میں جا کر وہاں رہائش اختیار کر لوں اور یہ سب کچھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کر دوں۔ یقیناً فتنہ دراز ہو چکا، اس دوران خون گرائے گئے، قطع رحمی کی گئی، راستے مسدود کر دئیے گئے اور جہادی محاذ معطل ہو کر رہ گئے۔

(الطبقات: تحقیق السلمی: جلد 1 صفحہ 331)

ابو زرعہ دمشقی نے اپنی سند سے روایت کیا ہے کہ جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور لوگوں کا آپس میں اختلاف پیدا ہو گیا تو جہاد کرنے والا کوئی بھی باقی نہ بچا یہاں تک کہ امت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ پر جمع ہو گئی۔

(مرویات خلافۃ معاویۃ: صفحہ 310)

ابو بکر المالکی فرماتے ہیں: فتنہ وقوع پذیر ہو گیا، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا اور ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بن گئے اور افریقہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی ولایت تک اپنی حالت پر برقرار رہا۔

(ریاض النفوس: جلد 1 صفحہ 27)

لیکن صلح اور اس پر مرتب ہونے والے اتحاد اور اجتماع کے بعد فتوحات اسلامیہ کی تحریک کا نئے سرے سے پھر آغاز ہو گیا، عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں فتوحات کا سلسلہ تین محاذوں پر جاری تھا۔ جیسا کہ ہم نے اوپر ذکر کیا۔ کتاب و سنت پر اتحاد و اجتماع مقاصد شریعت میں سے ہے اور یہ مقصد اللہ تعالیٰ کے دین کی تمکین و تقویت اور فتوحات کی تحریک کے تسلسل کا اہم ترین سبب ہے۔ مسلمانوں کے دلوں کو جیتنے اور ان کی صفوں کو متحد رکھنے کے لیے ضروری ذرائع اور اسباب کو اختیار کرنا بذات خود بہت بڑا جہاد ہے، اس لیے کہ مسلمانوں کی عزت و قوت، ان کی حکومت کے قیام اور ان کے رب کی شریعت کو حاکم بنانے کے لیے اس قدم کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔

(خامس الخلفاء الراشدین الحسن بن علی: صفحہ 359)

فتوحات کی تحریک اتفاق، اتحاد و اجتماع کے اختیار کرنے اور اختلاف و انتشار سے بچنے کی مرہون منت ہے۔ ارشاد ربانی ہے:

وَاعۡتَصِمُوۡا بِحَبۡلِ اللّٰهِ جَمِيۡعًا وَّلَا تَفَرَّقُوۡا‌۞

(سورۃ آل عمران آیت 103)

ترجمہ: اور اللہ کی رسی کو سب ملکر مضبوطی سے تھامے رکھو،

2۔ اسباب اختیار کرنے کی سنت:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے:

وَاَعِدُّوۡا لَهُمۡ مَّا اسۡتَطَعۡتُمۡ مِّنۡ قُوَّةٍ وَّمِنۡ رِّبَاطِ الۡخَـيۡلِ تُرۡهِبُوۡنَ بِهٖ عَدُوَّ اللّٰهِ وَعَدُوَّكُمۡ وَاٰخَرِيۡنَ مِنۡ دُوۡنِهِمۡ‌  لَا تَعۡلَمُوۡنَهُمُ‌  اَللّٰهُ يَعۡلَمُهُمۡ‌ وَمَا تُـنۡفِقُوۡا مِنۡ شَىۡءٍ فِىۡ سَبِيۡلِ اللّٰهِ يُوَفَّ اِلَيۡكُمۡ وَاَنۡـتُمۡ لَا تُظۡلَمُوۡنَ‏ ۞

(سورۃ الأنفال آیت 60)

ترجمہ: اور (مسلمانو) جس قدر طاقت اور گھوڑوں کی جتنی چھاؤنیاں تم سے بن پڑیں ان سے مقابلے کے لیے تیار کرو جن کے ذریعے تم اللہ کے دشمن اور اپنے (موجودہ) دشمن پر بھی ہیبت طاری کرسکو، اور ان کے علاوہ دوسروں پر بھی نہیں ابھی تم نہیں جانتے، (مگر) اللہ انہیں جانتا ہے۔ اور اللہ کے راستے میں تم جو کچھ خرچ کرو گے، وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا، اور تمہارے لیے کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے نہ صرف یہ کہ اس آیت کریمہ پر خود بھرپور انداز میں عمل کیا بلکہ اپنے عمال کو بھی اس پر عمل کرنے کی ترغیب دلائی، اس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے بحری بیڑہ تیار کرنے، اسے بہتر سے بہتر بنانے، اسلامی لشکر کو مضبوط بنانے، داخلی فتنوں کی سرکوبی کرنے، سرحدی محاذوں کو مضبوط بنانے، فوجی چھاؤنیوں کو محفوظ بنانے اور حکومت کی اندرونی اور بیرونی حکمت عملی کی منصوبہ بندی کرنے میں بڑی دلچسپی لی۔ مزید برآں موسم گرما اور موسم سرما کے لیے فوجی کارروائیوں کا منصوبہ تشکیل دیا اور پھر اسے عملی شکل بھی دی، قلعے تعمیر کیے، لوگوں کی ذہن سازی کی، اسلام کی نشر و اشاعت کے لیے مختلف قبائل کو مختلف مقامات پر آباد کرنا، فتوحات کو مستحکم بنانا اور سرکش تحریکوں کا تعاقب کرنا بھی ان کی طرف سے مادی اسباب اختیار کرنے کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ جب فارسیوں کی طرف سے فوجی حملوں کا خطرہ ٹل گیا تو انہوں نے ہزاروں عربی خاندانوں کو دولت اسلامیہ کے مشرقی بازو اور خاص طور پر خراسان میں آباد کیا، ان کی یہ سیاست کامیاب رہی اور اس حصے میں اس کے بڑے اچھے ثمرات برآمد ہوئے۔

(العالم الاسلامی فی العصر الاموی: صفحہ 119)

3۔ سنت مزاحمت:

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

 وَلَوۡلَا دَفۡعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعۡضَهُمۡ بِبَعۡضٍ لَّفَسَدَتِ الۡاَرۡضُ وَلٰـکِنَّ اللّٰهَ ذُوۡ فَضۡلٍ عَلَى الۡعٰلَمِيۡنَ ۞

(سورۃ البقرة آیت نمبر 251)

ترجمہ: اگر اللہ لوگوں کا ایک دوسرے کے ذریعے دفاع نہ کرے تو زمین میں فساد پھیل جائے، لیکن اللہ تمام جہانوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے۔

صفحہ 1 از 3