فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ - دفاعِ اہلِ…

فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 3

فتوحات اسلامیہ کی تحریک میں یہ سنت الہٰیہ عمومی طور پر متحقق ہوئی، سنت مزاحمت اللہ تعالیٰ کی کائنات اور مخلوق میں کارگر اس کی اہم ترین سنن میں سے ایک ہے۔ اس کا امت اسلامیہ کی تمکین فی الارض کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔ اولین مسلمانوں نے اس سنت کا خوب احاطہ کیا اور اس پر عمل پیرا ہوئے۔ وہ جانتے تھے کہ حق کو ایسے عزائم کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ساتھ وہ ابھرا کرتا ہے اور ایسے مددگاروں کی ضرورت ہوتی ہے جن کے ساتھ وہ آگے بڑھتا ہے، نیز وہ ایسے قلوب و اعصاب کا محتاج ہوتا ہے جو اس کے لیے دھڑکتے اور اس کے ساتھ مربوط ہوتے ہیں اور یہ کہ حق کو بشری کاوشوں کی ضرورت ہوتی ہے، اس لیے کہ یہ دنیوی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی سنت ہے اور یہ نافذ العمل ہے۔

(لقاء المومنین: عدنان نحوی: جلد 2 صفحہ 117)

4۔ ابتلاء و آزمائش کی سنت:

فرمان باری تعالیٰ ہے:

اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَـنَّةَ وَ لَمَّا يَاۡتِكُمۡ مَّثَلُ الَّذِيۡنَ خَلَوۡا مِنۡ قَبۡلِكُمۡ مَسَّتۡهُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰى يَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَهٗ مَتٰى نَصۡرُ اللّٰهِ اَلَاۤ اِنَّ نَصۡرَ اللّٰهِ قَرِيۡبٌ ۞ (سورۃ البقرة آیت 214)

ترجمہ: (مسلمانو) کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم جنت میں (یونہی) داخل ہوجاؤ گے، حالانکہ ابھی تمہیں اس جیسے حالات پیش نہیں آئے جیسے ان لوگوں کو پیش آئے تھے جو تم سے پہلے ہوگزرے ہیں۔ ان پر سختیاں اور تکلیفیں آئیں، اور انہیں ہلا ڈالا گیا، یہاں تک کہ رسول اور ان کے ایمان والے ساتھ بول اٹھے کہ “اللہ کی مدد کب آئے گی؟”یا درکھو! اللہ کی مدد نزدیک ہے۔

مسلمانوں کو قسطنطنیہ کے محاصرے کے دوران سخت آزمائش کا سامنا کرنا پڑا اور جس میں بہت سارے مسلمانوں کو موت سے ہمکنار ہونا پڑا۔ اسی طرح شمالی افریقہ کی فتوحات میں بھی وہ کٹھن ترین حالات سے دوچار ہوئے جن میں عقبہ بن نافعؓ اور ابو المھاجرؓ دینار جیسے کمانڈروں نے موت کو گلے لگایا، عقائد و دعوات میں ابتلاء اللہ رب العزت کی سنت ہے، اور یہ مال و زر میں بھی نافذ ہو سکتی ہے اور جانوں میں بھی۔ ایسے حالات میں صبر کا مظاہرہ کرنا اور پرعزم رہنا ازحد ضروری ہوتا ہے۔

(فقہ النصر و التمکین: صلابی: صفحہ 456)

5۔ ظلم اور ظالموں کے بارے میں اللہ کی سنت: ارشاد ہوتا ہے:

ذٰلِكَ مِنۡ اَنۡۢبَآءِ الۡـقُرٰى نَقُصُّهٗ عَلَيۡكَ‌ مِنۡهَا قَآئِمٌ وَّحَصِيۡدٌ‏ ۞ وَمَا ظَلَمۡنٰهُمۡ وَلٰـكِنۡ ظَلَمُوۡۤا اَنۡفُسَهُمۡ‌ فَمَاۤ اَغۡنَتۡ عَنۡهُمۡ اٰلِهَتُهُمُ الَّتِىۡ يَدۡعُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰهِ مِنۡ شَىۡءٍ لَّمَّا جَآءَ اَمۡرُ رَبِّكَ وَمَا زَادُوۡهُمۡ غَيۡرَ تَتۡبِيۡبٍ‏ ۞ وَكَذٰلِكَ اَخۡذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الۡقُرٰى وَهِىَ ظَالِمَةٌ‌ اِنَّ اَخۡذَهٗۤ اَلِيۡمٌ شَدِيۡدٌ‏ ۞ (سورۃ هود آیت 102)

ترجمہ: یہ ان بستیوں کے کچھ حالات ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔ ان میں سے کچھ (بستیاں) وہ ہیں جو ابھی اپنی جگہ کھڑی ہیں، اور کچھ کٹی ہوئی فصل (کی طرح بےنشان) بن چکی ہیں۔ اور ان پر ہم نے کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ انہوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب تمہارے پروردگار کا حکم آیا تو جن معبودوں کو وہ اللہ کے بجائے پکارا کرتے تھے، وہ ان کے ذرا بھی کام نہ آئے، اور انہوں نے ان کو تباہی کے سوا اور کچھ نہیں دیا۔ اور جو بستیاں ظالم ہوتی ہیں، تمہارا رب جب ان کو گرفت میں لیتا ہے تو اس کی پکڑ ایسی ہی ہوتی ہے۔ واقعی اس کی پکڑ بڑی دردناک، بڑی سخت ہے۔

ظالم امتوں کی ہلاکت کے بارے میں اللہ کی یہی سنت نافذ ہے۔ فارسی حکومت نے اپنی رعایا پر مظالم ڈھائے اور اللہ کے منہج کے خلاف سرکشی کی تو ان پر اللہ کی یہ سنت نافذ ہو گئی اور اس نے ان پر مسلمانوں کو مسلط کر دیا اور پھر انہوں نے اسے صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

(السنن الالہٰیۃ فی الامم و الجماعات و الافراد: صفحہ 119، 121)

اسی طرح شام اور مصر سے بیزنطی اثر و نفوذ ختم ہو گیا اور شمالی افریقہ میں اس کا وجود ڈانواں ڈول ہو گیا اور پھر جب ولید بن عبدالملک کی حکومت کا دور آیا تو شمالی افریقہ سے اس کا اثر و رسوخ مکمل طور پر ختم ہو کر رہ گیا۔

6۔ خوشحال لوگوں کے بارے میں سنت الہٰیہ: ارشاد ربانی ہے: 

وَاِذَاۤ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نُّهۡلِكَ قَرۡيَةً اَمَرۡنَا مُتۡرَفِيۡهَا فَفَسَقُوۡا فِيۡهَا فَحَقَّ عَلَيۡهَا الۡقَوۡلُ فَدَمَّرۡنٰهَا تَدۡمِيۡرًا ۞ (سورۃ الإسراء آیت 16)

ترجمہ: اور جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوش حال لوگوں کو (ایمان اور اطاعت کا) حکم دیتے ہیں، پھر وہ وہاں نافرمانیاں کرتے ہیں، تو ان پر بات پوری ہوجاتی ہے، چنانچہ ہم انہیں تباہ و برباد کر ڈالتے ہیں۔

اس آیت کی تفسیر میں وارد ہوا ہے کہ جب اس بستی کی ہلاکت کا وقت قریب آیا تو ہم نے اس کے خوشحال لوگوں، یعنی بادشاہوں اور سخت گیروں کو حکم دیا تو وہ اس میں بدکاریاں کرنے لگے، اس طرح اس کے خلاف ہمارا فیصلہ ثابت ہو گیا اور اسے ہلاکت سے دوچار کر دیا گیا، اللہ رب کائنات نے خوشحال لوگوں کا خاص طور پر ذکر کیا، حالانکہ اطاعت گزاری کا حکم سب کے لیے ہوتا ہے، اس لیے کہ فسق و فجور کے امام اور گمراہی کے رؤسا وہی ہوتے ہیں، اور جو کچھ دوسروں نے کیا وہ ان کی متابعت اور اغوا کاری کی وجہ سے ہوا، لہٰذا انہیں زیادہ تاکید سے حکم دیا گیا۔

(تفسیر الآلوسی: جلد 15 صفحہ 42)

اللہ تعالیٰ کی یہ سنت بلاد فارس میں فارسیوں کے ائمہ و زعماء میں جاری ہوئی اور شام، مصر اور شمالی افریقہ میں زعماء روم میں۔

7۔ سرکشی اور سرکش لوگوں کے بارے میں سنۃ اللہ:

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالۡمِرۡصَادِ۞ (سورۃ الفجر آیت 14)

ترجمہ: یقین رکھو تمہارا پروردگار سب کو نظر میں رکھے ہوئے ہے۔

یہ آیت نافرمان لوگوں کے لیے وعید ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ نافرمانوں کے لیے بھی وعید ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔

(السنن الالہٰیۃ: صفحہ 193)

تفسیر قرطبی میں ہے: وہ سب لوگوں کے اعمال دیکھ رہا ہے اور وہ سب لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔

صفحہ 2 از 3