فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ - دفاعِ اہلِ…

فتوحات معاویہ رضی اللہ عنہ میں بعض سنن الہٰیہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 3

(تفسیر قرطبی نقلا عن السنن الالہٰیۃ: صفحہ 193)

مفسرین کے تفسیری اقوال سے واضح ہوتا ہے کہ سرکش لوگوں کے بارے میں اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دنیا میں ان پر عذاب اتارتا ہے، اور یہ طے شدہ طریقہ ہے جو گزشتہ سرکش لوگوں پر بھی نافذ ہوا اور موجودہ اور آئندہ آنے والے سرکشوں پر بھی نافذ ہو کر رہے گا اور ان میں سے کوئی بھی اللہ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔

(السنن الالہٰیۃ: صفحہ 194)

مگر اس سے عبرت وہی لوگ حاصل کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں اور بخوبی علم رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی سنت ایک طے شدہ قانون ہے جو کسی سے رو رعایت نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے فرعون پر اترنے والے برے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا:

فَاَخَذَهُ اللّٰهُ نَڪَالَ الۡاٰخِرَةِ وَالۡاُوۡلٰى ۞اِنَّ فِىۡ ذٰلِكَ لَعِبۡرَةً لِّمَنۡ يَّخۡشٰى ۞

(سورۃ النازعات آیت 25)

ترجمہ: نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑ لیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے میں اس شخص کے لیے بڑی عبرت ہے جو اللہ کا خوف دل میں رکھتا ہو۔

پارسیوں کے سرکش زعماء اور مصر و شام میں رومی زعماء میں یہی سنت الہٰیہ نافذ ہو کر رہی۔

8۔ تدریجی سنت:

اسلامی فتوحات اس سنت الہٰیہ کے تابع رہیں کہ ہر عمل بالتدریج پایۂ تکمیل کو پہنچا ہے، قسطنطنیہ کا پہلا اور دوسرا محاصرہ عثمانی سلطان محمد الفاتح کے دور میں اس کی فتح کا ابتدائی مرحلہ تھا، محمد الفاتح سے قبل مسلمانوں نے دولت بیزنطیہ کے خلاف جو کارروائیاں کیں انہوں نے اس ارتقائی عمل میں اہم کردار ادا کیا جو عثمانی عہد حکومت میں قسطنطنیہ کی فتح پر منتج ہوا۔

9۔ گناہوں اور معاصی میں سنت اللہ:

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

اَلَمۡ يَرَوۡا كَمۡ اَهۡلَـكۡنَا مِنۡ قَبۡلِهِمۡ مِّنۡ قَرۡنٍ مَّكَّنّٰهُمۡ فِى الۡاَرۡضِ مَا لَمۡ نُمَكِّنۡ لَّـكُمۡ وَاَرۡسَلۡنَا السَّمَآءَ عَلَيۡهِمۡ مِّدۡرَارًا وَّجَعَلۡنَا الۡاَنۡهٰرَ تَجۡرِىۡ مِنۡ تَحۡتِهِمۡ فَاَهۡلَكۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ وَاَنۡشَاۡنَا مِنۡۢ بَعۡدِهِمۡ قَرۡنًا اٰخَرِيۡنَ ۞ (سورۃ الأنعام آیت 6)

ترجمہ: کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ ان کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار دیا تھا جو تمہیں نہیں دیا۔ ہم نے ان پر آسمان سے خوب بارشیں بھیجیں، اور ہم نے دریاؤں کو مقرر کردیا کہ وہ ان کے نیچے بہتے رہیں۔ لیکن پھر ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا۔ اور ان کے بعد دوسری نسلیں پیدا کیں۔

اللہ تعالیٰ نے فارسی امت کو ان کے ان گناہوں کی وجہ سے ہلاک کر دیا جن کا وہ ارتکاب کرتے رہے، اور انہی گناہوں کے سبب سے مصر، روم اور لیبیا سے رومیوں کی بادشاہت ختم کر ڈالی، اس آیت سے یہ حقیقت ثابت ہوتی ہے کہ گناہ اور معاصی گناہ گاروں اور معاصی کا ارتکاب کرنے والوں کو ہلاک کرنے کا سبب بنتے ہیں اور وہ اللہ ہی ہے جو گناہ گاروں کو ان کے گناہوں کی بدولت ہلاکت سے دوچار کرتا ہے۔

(السنن الالہٰیۃ: صفحہ 210)

اللہ تعالیٰ نے امت اسلام کو اس وقت رومیوں اور فارسیوں پر مسلط کر دیا جب وہ تمکین فی الارض کی شروط پر پوری اتری اس کی سنن پر عمل کیا، اس کے اسباب اختیار کیے اور اس کے مقاصد کو پورا کر دیا۔

(فی الحرب الاسلامی: بسام العسلی: جلد 1 صفحہ 233)

10۔ دلوں کو بدلنے کی سنت:

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے: 

اِنَّ اللّٰهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوۡمٍ حَتّٰى يُغَيِّرُوۡا مَا بِاَنۡفُسِهِمۡ‌ ۞ (سورۃ الرعد آیت نمبر 11)

ترجمہ: اللہ کسی قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے حالات میں تبدیلی نہ لے آئے۔ 

صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین رحمہم اللہ نے شام، مصر، شمالی افریقہ اور بلاد مشرق میں ان شعوب و قبائل کے ساتھ اسی سنت الہٰیہ پر عمل کیا جنہوں نے اللہ کے دین میں داخل ہونے کا ارادہ کیا۔ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں لوگوں کی تربیت کا آغاز کیا اور ان کے دلوں میں عقائد صحیحہ، افکار سلیمہ اور اخلاق رفیعہ کے بیج بوئے۔


صفحہ 3 از 3