Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اسلامی فتوحات کی تحریک کی تنظیم و تنسیق میں شوریٰ کا کردار

  علی محمد الصلابی

خامساً: اسلامی فتوحات کی تحریک کی تنظیم و تنسیق میں شوریٰ کا کردار

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو خلافت منتقل ہوتے وقت شوریٰ اس دور کے سرکردہ لوگوں، ان کے والیوں اور ان معاونین پر مشتمل ہوتی تھی جو بلاغت و سیاست اور فوجی ادارہ کے امور میں حسن تدبیر سے متصف ہوتے تھے، ان میں سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کا نام بھی آتا ہے جو مندرجہ بالا اوصاف سے متصف اور اس حوالے سے بڑی شہرت کے حامل تھے اور اسی وجہ سے خلیفہ وزیر اور مشیر کے طور پر ان پر اعتماد کیا کرتے تھے، ان کے مشیروں میں زیاد بن ابیہ کا نام بھی آتا ہے، امویہ دور حکومت میں وزاء قانون سازی نہیں کیا کرتے تھے اور نہ ہی قواعد و ضوابط وضع کیا کرتے تھے، خلیفہ کے مشیروں میں اصحاب الآراء لوگ وزراء کے قائم مقام ہوا کرتے تھے اور انہیں کاتب یا مشیر کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 280)

علاوہ ازیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فوجی امور کی سر انجام دہی کے لیے مختلف قبائل کے امراء و قائدین (خاص طور پر شام میں موجود) سے مشورہ کیا کرتے اور ان کی رائے پر اعتماد کیا کرتے تھے۔ سیدنا معاویہؓ ایسے لوگوں کو اپنے قریب رکھتے اور ان سے مشاورت کیا کرتے تھے، خلیفۃ المسلمین معاویہ رضی اللہ عنہ کے کمانڈرز جنگی معرکوں کے بارے میں مشاورت میں ان کے رویے کو ہی اپنائے رکھتے تھے۔

(الفتوح، ابن اعثم: جلد 1 صفحہ 340۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 280)