قیادت کی مرکزیت اور امداد
علی محمد الصلابیسادساً: قیادت کی مرکزیت اور امداد
جب خلافت بنو امیہ کو منتقل ہوئی تو دمشق خلافت کا ہیڈ کوارٹر اور فوجی ادارے کی اعلیٰ قیادت کا مرکز قرار پایا۔ شام میں موجود خلیفہ ہی جنگی سیاست کے بارے میں فیصلہ کرتا تھا اور وہی جنگ اور امن کا ذمہ دار ہوا کرتا تھا۔ فوج کی انتظامی تنظیم کا شمار مرکزی امور میں ہوتا تھا جس کی خلیفہ براہ راست نگرانی کرتا تھا۔
(الادارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 314)
یہ اس امر کے باوجود تھا کہ مختلف ولایات اور صوبوں میں ایسے عمال بھی موجود تھے جنہیں آزادانہ حکومت کرنے کا حق حاصل تھا۔ وہ فوجی لشکروں کی خود قیادت کرتے یا اپنی طرف سے کسی موزوں شخص کا اس کے لیے تقرر کرتے، اس کی مثال زیاد بن ابیہ
اور اس کا بیٹا عبیداللہ بن زیاد ہے۔
(الادارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 314)
کمانڈرز کی تعیین کی اہمیت کے تحت ہی سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں اپنے والی زیاد بن ابیہ کو خراسان کا نظم و نسق سنبھالنے کے لیے کسی معتبر شخص کو وہاں بھیجنے کا حکم دیا جس کی تعمیل کرتے ہوئے اس نے حکم بن عمرو غفاری کو اس کا والی مقرر کر کے وہاں بھیجا اور اسے جنگ کرنے اور خراج وصول کرنے کی ولایت بھی تفویض کی، چنانچہ وہ اہل بصرہ سے جہاد فی سبیل اللہ کا ارادہ رکھنے والوں کو اپنے ساتھ لے کر خراسان روانہ ہوئے۔ سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عسکری ادارہ میں اعلیٰ قیادت کی مرکزیت کے تحت ہی فوجی لشکر روانہ کیے جاتے اور انہیں فوجی امداد مہیا کی جاتی۔ فوجی کمانڈر علقمہ بن یزید غطیفی نے ان کے نام اس مضمون کا خط لکھا:
’’آپ نے مجھے اسکندریہ میں اپنا جانشین مقرر کیا ہے جبکہ میرے پاس صرف بارہ ہزار کی نفری ہے، اور یہ نفری اس قدر کم ہے کہ وہ ایک دوسرے کو دیکھ بھی نہیں سکتے۔ ‘‘
اس کے جواب میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے انہیں لکھا: میں عبداللہ بن مطیع کی قیادت میں اہل مدینہ میں سے چار ہزار لوگوں کو تمہاری مدد کے لیے بھجوا رہا ہوں،
(الفتوح لابن اعثم: جلد 2 صفحہ 318)
اور میں نے معن بن یزید سلمی کو حکم دیا ہے کہ وہ گھوڑوں سمیت چار ہزار کی نفری کے ساتھ رملہ میں موجود رہے، انہیں جب بھی تمہاری طرف سے کسی پریشان کن صورت حال کی اطلاع ملے گی وہ تمہاری مدد کے لیے پہنچ جائیں گے۔
(فتوح مصر: صفحہ 192۔ الخطط للقریزی: جلد 1 صفحہ 268)