Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

پرچم اور جھنڈے

  علی محمد الصلابی

سابعاً:  پرچم اور جھنڈے

سیدنا معاویہ بن ابوسفیان رضی اللہ عنہما کو خلافت منتقل ہوئی تو فوجی ادارہ میں پرچم اور جھنڈے بکثرت نظر آنے لگے، جو زرد، سرخ اور سفید رنگوں میں ہوتے، ان میں سے سفید رنگ کا پرچم ان کی خلافت کی علامت تھا۔

(تاریخ طبری نقلا عن الادارۃ الاعسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 1 صفحہ 368)

دشمن کی طرف روانہ ہونے والے ہر فوجی لشکر کو پرچم دیا جاتا جسے لشکر کے آگے لہرایا جاتا اور تمام لشکر ہی اس کے پیچھے چلتے۔ اس کا دفاع کرتے اور ان کی پوری پوری کوشش ہوتی کہ وہ ہمیشہ نصب رہے اور کسی بھی صورت گرنے نہ پائے۔

(ایضاً: جلد 1 صفحہ 368)

ان کے قائدین اس قدر دلیر اور باہمت ہوتے کہ وہ اپنی جانوں پر کھیل کر بھی اس کی حفاظت کرنے کا فریضہ سرانجام دیا کرتے۔ مثلاً عقبہ بن نافع، حکم بن عمرو الغفاری اور فضالہ بن عبیداللہ۔ والی عراق زیاد بن ابیہ نے تو قبائل کو بھی جھنڈوں کے ساتھ نکلنے کا پابند کر رکھا تھا۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مقصود جنگ کے دوران لشکریوں کی سنجیدگی کا اندازہ لگانا اور ان کی طرف سے احکامات کے التزام سے آگاہ ہونا تھا۔  (تنظیمات الجیش: جنابی: صفحہ 227۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 1 صفحہ 369)