Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بَری حدود کی حفاظت کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

تاسعاً: بَری حدود کی حفاظت کا اہتمام

منصب خلافت سنبھالنے کے بعد اسلامی حدود کی حفاظت کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے قلعہ بندیوں کے اہتمام و انصرام میں مزید اضافہ ہو گیا جس کا سلسلہ انہوں نے اس وقت سے شروع کر رکھا تھا جب وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے بطور قائد اور والی خدمات سر انجام دیا کرتے تھے، ان کی خلافت کے ایام میں انہیں اسلامی حدود پر واقع بعض دفاعی قلعے تعمیر کرنے اور بعض لوگوں کو ان کی مرمت وغیرہ کرنے کی ذمہ داری بھی تفویض کی گئی تھی، پھر جب زمام خلافت ان کے ہاتھ میں آئی تو انہوں نے اس بارے جس کام کا آغاز کیا تھا اس کی تکمیل کی، جزیرہ کی سرحدوں پر کئی قلعے تعمیر کروائے، ان میں فوجیوں کو آباد کیا اور پھر ان کی مسلسل نگرانی کرتے رہے۔

(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 473)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ساحلی شہروں کی حفاظت کے لیے نقل مکانی کی سیاست اختیار کی، اس کے لیے انہوں نے حمص، انطاکیہ اور بعلبک کے شہروں سے بعض فارسی لوگوں کو اردن، صور اور عکا وغیرہ شہروں میں آباد کیا جبکہ حبشہ، بصرہ، کوفہ، فارس، بعلبک اور حمص کے بعض لوگوں کو انطاکیہ کی حدود پر لا آباد کیا۔

(یہ 42ھ کی بات ہے)

کمانڈر عبدالعزیز بن حاتم باہلی آرمینیہ اور آذر بائیجان کے والی بنے تو انہوں نے دیبل شہر آباد کیا اور اس کے لیے کئی حفاظتی اقدامات کیے، انہوں نے نشویٰ شہر بھی تعمیر کیا۔

(نشویٰ شہر آذر بائیجان میں واقعہ ہے۔ معجم البلدان: جلد 5 صفحہ 286)

برزعہ (برزعہ: آذر بائیجان میں ایک شہر۔ معجم البلدان: جلد 1 صفحہ 379)

شہر کی مرمت کی اور بیلقان (شروان کے قریب آرمینیہ الکبری میں ایک شہر۔ معجم البلدان: جلد 1 صفحہ 533)

کی تجدید کی اور متعدد دفاعی اقدامات کیے،

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 474)

زیاد بن ابیہ نے قائد سپاہ ربیع بن زیاد حارثی 

(ایضاً) 

کو خراسان کی سرحدی پٹی پر متعین کیا اور اس کے ساتھ بصرہ اور کوفہ سے تقریباً پچاس ہزار لشکریوں کو ان کے اہل خانہ سمیت دولت اسلامیہ کی حفاظت کے لیے دون النہر لا کر آباد کیا۔

(یہ 51ھ کا واقعہ ہے۔ الادارۃ العسکریۃ:  جلد 2 صفحہ 475)

ایک دفعہ زیاد بن ابیہ نے اپنے ہم نشینوں سے پوچھا کہ سب سے خوشحال آدمی کون ہے؟ انہوں نے کہا: امیر المؤمنین! آپ۔ اس پر زیاد نے کہا: آخر وہ سب کچھ کہاں جائے گا جو میرے پاس سرحدوں اور خراج کی مد میں آتا ہے۔

(المحاسن و المساوی: صفحہ 269)

زیاد سے اس کا یہ قول بھی مروی ہے: چار ذمہ داریاں صرف معمر لوگوں کو تفویض کرنی چاہئیں۔ سرحدیں، صحائف، پولیس اور قضاء۔

(تاریخ الیعقوبی: الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 478)

سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس خراج سے حاصل شدہ مال میں سے بہت کم مقدار میں مال بھیجا جاتا، اس کا زیادہ تر حصہ حفاظتی انتظامات اور سرحدی محافظین پر خرچ کر دیا جاتا تھا۔ 

(فتوح مصر: صفحہ 102)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے موسم سرما اور موسم گرما کے لیے الگ الگ جن لشکروں کو ترتیب دیا گیا تھا وہ ہرسال اپنے مقررہ وقت پر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لیے نکلتے اور مناسب جنگی کارروائیاں کرتے، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس کے لیے بڑے بڑے باصلاحیت کمانڈرز اور امراء کا انتخاب کرتے، ان لوگوں کو بھی اس منصب کی چاہت ہوتی اور اسے وہ اپنے لیے باعث عز و شرف خیال کرتے۔ جب انہوں نے اپنے بیٹے یزید سے اس کی خواہش کے بارے دریافت کیا تو وہ کہنے لگا: میری اولین خواہش یہ ہے کہ امیر المؤمنین اس سال موسم گرما کی جنگ کی قیادت میرے حوالے کر دیں تاکہ میں فی سبیل اللہ جہاد کرنے والے لشکر تیار کر سکوں۔

(انباء نجباء الابناء: صفحہ 106۔ ابن ظفر المالکی: الادارۃ العسکریۃ:  جلد 2 صفحہ 476)

موسم گرما اور موسم سرما کے حملوں کی قیادت کرنے والے اہم ترین کمانڈرز کے نام یہ ہیں: سفیان بن عوف الغامدی الازدی اور مالک بن ہبیرہ السکونی،

(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 477۔ الاصابۃ: جلد 3 صفحہ 237)

ان لوگوں نے متعدد بار ان حملوں کی قیادت کی۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اس منصب کے لیے قائدین کا انتخاب کرنے سے پہلے ان کی انتظامی صلاحیتوں کا جائزہ لیتے اور پھر مطلوبہ معیار پر پورا اترنے والوں کا ہی اس کے لیے تقرر کرتے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ جن کمانڈرز پر ان کے انتظامی تجربہ کی وجہ سے اعتماد کیا کرتے تھے ان میں سفیان بن عوف الغامدی کا نام سرفہرست تھا۔ جب ایسے ہی امور کی انجام دہی کے دوران ان کی وفات ہو گئی اور پھر ان کی وفات کی خبر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ملی تو آپ اس سے شدید طور پر متاثر ہوئے اور پھر مختلف ذمہ دار لوگوں کو ان کی موت کی خبر دی، جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ گرما کے لشکر میں کوئی خلل دیکھتے تو فرماتے: ہائے سفیان، مگر اب سفیان کہاں۔

(تہذیب تاریخ دمشق: جلد 6 صفحہ 185۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 477)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ ملکی حدود کے دفاع، دولت اسلامیہ کی اراضی کی حفاظت اور ان کے دفاع کے لیے ضروری اور مناسب کارروائیوں میں کوئی کسر روا نہ رکھتے۔

(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 478)