Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

بحری بیڑے اور بحری حدود کا اہتمام

  علی محمد الصلابی

عاشراً: بحری بیڑے اور بحری حدود کا اہتمام

دولت امویہ کے قیام کے بعد سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دولت اسلامیہ کی بحری حدود کی حفاظت کے لیے بحری قوت کے حصول کے لیے جس کام کا آغاز کیا تھا اسے اس انداز سے پایۂ تکمیل کو پہنچایا کہ دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے جنگی کشتیاں تیار کروائیں اور جن بحری اڈوں پر مسلمان افواج نے قبضہ کر لیا تھا ان کی حفاظت کے لیے حفاظتی دستے متعین کیے۔ جب ان کے دورِ حکومت میں رومی شامی ساحلوں کی طرف بڑھے تو انہوں نے کشتی سازی کے ماہرین کو جمع کر کے ان کے لیے عکا میں جند اردن میں کشتی سازی کا ایک مرکز قائم کیا اور جیسا کہ ہمارے علم میں ہے کہ سرزمین شام میں کشتی سازی میں کام آنے والی لکڑی کی بہتات تھی۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الامویۃ: جلد 2 صفحہ 478)

اس کے علاوہ انہوں نے مختلف قسم کی جنگی کشتیاں تیار کرنے کے لیے 54ھ کے دوران مصر میں جزیرہ روضہ کے مقام پر ایک کارخانہ قائم کیا جس کی وجہ سے وہ ’’صناعۃ الروضۃ‘‘ کے نام سے معروف ہوا۔

(حسن المحاضرۃ سیوطی: جلد 2 صفحہ 378۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 543)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بحری کمانڈرز جنگی کشتیاں بنانے کے فن کے بڑے ماہر ہوتے تھے۔

(ملاحظہ ہو: نہایۃ الادب: جلد 6 صفحہ 186۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 544)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں جنگی کشتیوں کی تعداد تقریباً ایک ہزار سات سو تھی، جو بحری جنگجوؤں، جنگی ہتھیاروں اور بحری جنگ کے لیے ضروری ساز و سامان سے بھری رہتیں۔

(خطط الشام: محمد کرد علی: جلد 5 صفحہ 37)

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اپنی صائب رائے کی وجہ سے اس امر کا ادراک ہو گیا تھا کہ شام اور مصر کے ساحلوں کو رومی حملوں سے بچانے کے لیے ایسے اسلامی بحری بیڑے کی تیاری ازحد ضروری ہے جو دولت اسلامیہ کی بحری حدود کا دفاع کر سکے اور دشمن کا منہ توڑنے کے لیے اس پر بوقت ضرورت ضرب کاری لگا سکے۔

(الحدود الاسلامیۃ بیزنطیۃ: فتحی عثمان: جلد 1 صفحہ 237)

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسلامی بحری بیڑا بحر متوسط میں واقع جزائر کو یکے بعد دیگرے فتح کرتا چلا گیا جن میں جزیرہ رودس بھی شامل ہے (رودس: بلاد روم میں اسکندریہ کے بالمقابل ایک جزیرہ)

اور جیسا کہ ہم نے بتایا یہ سب کچھ نامور مسلم کمانڈر جنادہ بن امیہ زہرانی ازدی کی قیادت میں ہوا، (الاستیعاب: جلد 1 صفحہ 243۔ الاعلام: زرکلی: جلد 2 صفحہ 140)

انہوں نے جزیرہ رودس کو بزور طاقت فتح کیا تھا۔ یہ جزیرہ اس علاقے کا سب سے زرخیز جزیرہ تھا جہاں انہوں نے مرکزی حکومت کے حکم سے کچھ مسلمانوں کو آباد کیا۔ وہاں ایک قلعہ تعمیر کیا اور سمندری راستے سے دشمن کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے دیگر حفاظتی انتظامات کیے۔ وہاں مقیم اسلامی لشکر رومیوں کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوا۔ یہ سمندر میں ان سے تعرض کرتے اور ان سے کشتیاں چھین لیتے جس کی وجہ سے دشمن ان سے خائف رہتا۔

(النجوم الزاہرۃ: جلد 1 صفحہ 144)

موسم سرما اور موسم گرما کے بحری حملہ آور سمندر میں گشت کرتے رہتے اور ان کے ساتھ ساتھ بری افواج کے حملہ آور دستے بحری علاقوں کے ساحلوں کی حفاظت کے لیے مصر اور شام سے روانہ ہوتے۔ ان حملہ آور دستوں کی قیادت بڑے بڑے اور مشہور کمانڈر کرتے، مثلاً یزید بن شجرہ رہاوی، موسیٰ بن نصیر، بسر بن ابو ارطاۃ عامری، جنادہ بن امیہ زہرانی اور عقبہ بن عامر وغیرہ۔ خلیفہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے بعد دیگر اموی امراء نے بھی اسلامی بحری بیڑے کے حوالے سے ان کے منصوبہ پر عمل کرتے ہوئے اسے مزید ترقی دی۔ اس میں کئی کشتیوں کا اضافہ کیا، انہیں مزید بہتر بنایا اور انہیں ہر قسم کے بحری جنگی ساز و سامان اور اسلحہ سے مزین کیا اور ان کے لے فوجیوں اور کمانڈروں کو بھرتی کیا اور ان کے لیے ضروری سپلائی اور خورد و نوش کا سامان فراہم کیا اور اس طرح اسلامی بحری بیڑے کے موسم سرما و گرما کے لشکروں نے رومیوں کو پریشان کیے رکھا اور ان کے ساحلوں اور بحری حدود کے لیے چیلنج بنے رہے۔

(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 546)