دیوان جند اور دیوان عطاء کا اہتمام و انصرام
علی محمد الصلابیالحادي عشر: دیوان جند اور دیوان عطاء کا اہتمام و انصرام
دیوان جند کو جو ذمہ داریاں تفویض کی گئی تھیں وہ انہیں باقاعدگی کے ساتھ ادا کر رہا تھا۔ پھر کثرت فتوحات اور دولت اسلامیہ کی حدود میں مزید وسعت آ جانے کے بعد اس میں متعدد تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں، اموی خلفاء اور ان کے مقرر کردہ والیوں کی دلچسپی کی وجہ سے دیوان جند ایک بہت بڑے ادارہ کی حیثیت اختیار کر گیا تھا اور وہ اس عرصہ حکومت کے دوران متعدد مراحل سے گزرا، جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے منصب خلافت سنبھالا تو متعدد فتنوں کے سر اٹھانے اور اندرونی خلفشار کے بعد متعدد لشکری جنگ سے کنارہ کش ہو گئے مگر انہوں نے حسن انتظام اور کمال ذہانت سے کام لیتے ہوئے ان کے عطیات بند کر دئیے اور اس طرح آپ انہیں دوبارہ فوجی ذمہ داریاں ادا کرنے پر راضی کرنے میں کامیاب ہو گئے۔
(الادارۃ العسکریۃ فی الدولۃ الاسلامیۃ: جلد 2 صفحہ 643)
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے مختلف قبائل کے بہت سارے زعماء کو اپنے قریب کیا۔ اموی دور حکومت کے آغاز میں بصرہ میں باقاعدہ تنخواہ وصول کرنے والے فوجیوں کی تعداد تقریباً اسّی ہزار تھی جبکہ کوفہ میں ان کی تعداد ستر ہزار مصر میں چالیس ہزار اور تقریباً اتنی ہی شام میں تھی، جبکہ فارس، ماوراء النہر اور دیگر اسلامی صوبوں اور شہروں میں موجود اسلامی افواج کی تعداد اس کے علاوہ تھی۔
(فتوح البلدان: صفحہ 102۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 644)
علاوہ ازیں کوفہ میں غیر عرب لوگوں کے ایسے بیس ہزار مسلمان بیٹے تھے جو باقاعدہ طور پر خزانے سے تنخواہ وصول کرتے تھے اور انہیں ’’الحمراء‘‘ کے نام سے موسوم کیا جاتا تھا۔
(الاخبار الطوال: صفحہ 228)
بصرہ میں بخاریٰ کے امیروں میں دو ہزار لوگ تیر اندازی میں بڑی مہارت رکھتے تھے جو خلیفہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے حکم سے فوجی خدمات سرانجام دیتے اور اس کی باقاعدہ تنخواہ وصول کرتے تھے، دمشق میں قائم خلیفہ کے مرکزی ادارہ میں کتابت جند کے منصب پر عمر بن سعید بن العاص فائز تھے۔ جبکہ اسلامی صوبوں میں مقامی طور پر دواوین جند بھی قائم تھے جو کہ مقامی فوجی ادارے کی ذمہ داریاں ادا کرنے کے پابند تھے۔
(التراتیب الاداریۃ: جلد 1 صفحہ 229۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 644)
حسب سابق عرفاء اور نقباء کا کردار بھی جاری و ساری تھا اور یہ اس لیے کہ فوجی اور مالی معاملات میں حکومتی ادارے کو ان پر مکمل اعتماد تھا اور خاص طور پر فوجیوں کو تنخواہیں ادا کرنے کے حوالے سے۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اپنے لوگوں کے عطیات وصول کر کے ان میں تقسیم کرایا کرتے تھے۔
(نسب قریش: صفحہ 154۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 645)
علاوہ ازیں وہ فوج کے احوال و اخبار سے آگاہ رہتے اور صورت حال کے بارے ادارہ علیا کو رپورٹ کرتے۔
(خطط الشام: جلد 5 صفحہ 7)
زیاد بن ابیہ نے عرفاء کے فوجی تنظیمی ڈھانچے میں متعدد تبدیلیاں کرتے ہوئے بصرہ میں لوگوں کو پانچ درجات میں تقسیم کیا اور ہر درجے کے لوگوں پر ایک ذمہ دار کا تقرر کیا جبکہ کوفہ کے لوگوں کو چار درجات میں تقسیم کیا۔ ان کے مسؤلین اپنے قبائل اور معسکرات کے اندر فتنوں کو ہوا دینے اور اضطراب پیدا کرنے والوں کے بارے میں جواب دہ تھے، اس طرح یہ لوگ اسلامی شہروں میں عربی قبائل کے مابین قائم فوجی ادارے اور حکومت کی انتظامی مشینری کے درمیان ان امور میں رابطے کی کڑی کا کردار ادا کرتے جو دواوین میں لشکریوں کے ناموں کے اندراج، ان میں عطیات کی تقسیم اور بوقت ضرورت انہیں سرکاری خدمات کے لیے حاضر کرنے سے متعلق تھے۔ یہ عرفاء طاقت اور اثر و نفوذ کے حوالے سے قبائل کے روساء کے قائم مقام تھے۔ ان عرفاء کا اثر و رسوخ رکھنے والے لوگوں میں شمار ہوتا تاکہ وہ عسکری ادارے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کر سکیں۔
(تنظیمات الجیش: صفحہ 223)
اس کی مثال کے طور ہم زیاد کا وہ واقعہ پیش کر سکتے ہیں کہ جب وہ اہل بصرہ میں خطبہ دینے کے لیے کھڑا ہوا تو انہیں یہ دھمکی دی کہ اگر انہوں نے اس سے خوارج کو نہ روکا تو ان کے عطیات روک لیے جائیں گے جس پر لوگوں نے انہیں قتل کر ڈالا۔
(تاریخ طبری نقلاً عن الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 646)
کمانڈرز اور سرکاری احکامات کا نفاذ کرنے والے عام فوجیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے لیے ان کے عطیات میں اضافہ کر دیا جاتا۔ جیسا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اہل شام کے اشراف کے ساتھ کیا تھا۔
(المحاسن و المساوی: صفحہ 464)