Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسلامی فتوحات پر علمی اور اجتماعی اقتصادی اثرات

  علی محمد الصلابی

الثاني عشر: عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسلامی فتوحات پر علمی اور اجتماعی اقتصادی اثرات

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور حکومت میں قصہ گو حضرات کا کردار بڑا نمایاں رہا۔ یہ لوگ لشکریوں میں قراء کی طرح پھیل جاتے، انہیں اپنے اسلاف کے کارناموں سے آگاہ کرتے اور جو ش دلانے والے اشعار سناتے جس سے ان کے جذبات برانگیختہ ہوتے اور وہ جہاد کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے، یہ فریضہ خطباء اور واعظین بھی ادا کرتے، سپاہ اسلامی میں فداکاری اور جانثاری کے جذبات کو ابھارنے کے لیے قراء اور شعراء کا کردار بھی بڑا اہم تھا۔

(الفن الحربی: صفحہ 117)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ امراء، قائدین اور فوجیوں کو اپنی وصیتوں اور ہدایات میں خلفائے راشدین کے نقش قدم پر چلایا کرتے۔ جب انہوں نے عبیداللہ بن زیاد کو خراسان کے محاذ پر متعین کیا تو اسے وصیت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ سے ڈرتے رہنا اور اللہ کے تقویٰ پر کسی چیز کو ترجیح نہ دینا۔

(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 213)

عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں اسلامی تہذیب پر علمی اثرات کے ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ جب انہوں نے جزیرہ رودس کو فتح کیا تو اس کی فتح میں نامور مقری مجاہد بن حیر بھی شریک تھے پھر وہ وہیں مقیم رہ کر فتح کے دوران تعمیر کردہ مسجد میں لوگوں کو قرآن کی تعلیم دینے لگے اور انہیں دین اسلام کی تعلیمات سے نوازنے لگے، یہ ان ہزاروں مثالوں میں سے ایک ہے مگر یہ علمی اثرات صرف جزیرہ رودس کے ساتھ ہی مخصوص نہیں تھے، اس قسم کی متعدد مثالیں تمام شہروں اور اسلامی قبائل میں بکھری پڑی ہیں۔

(الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 719)

فتوحات اسلامیہ پر اقتصادی اور اجتماعی اثرات کے ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں والی مصر مسلمہ بن مخلد انصاری اور دیگر اموی ولاۃ جب ان کے پاس خراج کے اموال بھیجتے تو اس سے مصر کی زمینوں کو آباد کرتے، ان کی اصلاح کرتے، آبی گزر گاہوں پر پل وغیرہ تعمیر کرنے اور انہیں نقصانات سے بچانے کے لیے اٹھنے والے اخراجات کی رقوم وضع کر لیتے، انہوں نے حرمین شریفین کے رہائشیوں کے تعاون کے لیے ان پر تقسیم کرنے کی غرض سے یہاں گندم بھیجی۔

(فتوح مصر: صفحہ 102)۔ حسن المحاضرۃ: جلد 1 صفحہ 151)

جزیرہ میں روضہ کے مقام پر وہاں کشتی سازی کا کارخانہ قائم کرنے سے قبل وہاں ایسے پانچ صد لوگ ہمہ وقت موجود رہتے جن کی ذمہ داری علاقے میں بھڑک اٹھنے والی آگ بجھانا، زمینی یا آسمانی آفات میں لوگوں کی مدد کرنا اور ان سے ہر ممکن تعاون کرنا تھا۔

(حسن المحاضرۃ: جلد 2 صفحہ صفحہ 378۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 773)

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں اجتماعی کفالت کے ضمن میں یہ بات بھی آتی ہے کہ آپ شہدائے اسلام کے بچوں کی ضروریات کا خیال رکھتے اور ان سے مالی تعاون فرمایا کرتے تھے۔

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 39، 40۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 774)

آپ اپنے ہم نشینوں سے فرمایا کرتے: تم لوگوں کو اشراف کے نام سے اس لیے موسوم کیا جاتا ہے کہ تمہیں اس مجلس کی وجہ سے دوسروں پر شرف حاصل ہے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی ضروریات و مسائل پیش کیا کرو جن کی ہم تک رسائی نہیں ہے۔ اس پر ایک آدمی اٹھ کر کسی شہید کا ذکر کرتا تو آپ اس کے بچوں کے لیے وظائف کا اجراء کا حکم صادر فرماتے۔

(مروج الذہب: جلد 3 صفحہ 39، 40۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 774)

جب سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن صفوان بن امیہ کو اپنے پاس آنے کی اجازت دی تو اس نے ان سے ضرورت مندوں کے لیے دیوان العطاء سے وظائف مقرر کرنے کا مطالبہ کیا، اس نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرائی کہ قریش کے معذور اور ضرورت مند لوگوں سے غفلت نہ برتا کریں اور انہیں خوشحال زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے لیے انہیں اقتصادی اور اجتماعی خدمات مہیا کیا کریں۔

(نسب قریش: صفحہ 389)

سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لشکریوں کو سرحدی مقامات پر آباد کرنے کے لیے انہیں اراضی فراہم کرتے، ان کے لیے گھر مہیا کرتے اور زمین آباد کرنے کے لیے نہریں کھدواتے اور آب پاشی کی سہولیات فراہم کرتے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جزیرہ رودس میں مقیم لشکر کو حکم جاری کیا کہ وہ وہاں کھیتی باڑی کریں، مویشی پالیں اور ان کی اچھی طرح نگہداشت کیا کریں۔

 ( الفتوح لابن اعثم: جلد 1 صفحہ 354۔ الادارۃ العسکریۃ: جلد 2 صفحہ 775)