عہد معاویہ رضی اللہ عنہ میں کرامات مجاہدین
علی محمد الصلابیالثالث عشر: عہد معاویہ میں کرامات مجاہدین
سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد حکومت میں مجاہدین اسلام سے متعدد کرامات کا ظہور ہوا۔ جیسا کہ ابو مسلم خولانی کا واقعہ جو کہ قبل ازیں گزر چکا ہے۔ اسی طرح حضرت عقبہؓ کا واقعہ کہ جب انہوں نے جنگلی جانوروں کو وہاں سے نکل جانے کے لیے کہا تو وہ اللہ کے حکم سے جنگل چھوڑ کر بھاگ گئے۔ اس وقت لوگوں نے عجیب و غریب صورت حال کا مشاہدہ کیا، انہوں نے دیکھا کہ مختلف درندے جانور مثلاً بھیڑیے، سانپ اور دوسرے جنگلی جانور اپنے اپنے بچوں کو منہ میں اٹھائے جنگل سے بھاگے جا رہے ہیں، پھر جب مجاہدین کو یقین ہو گیا کہ اب یہ علاقہ موذی جانورں سے پورے طور پر صاف ہو گیا ہے تو وہ اس میں داخل ہو گئے اور پھر عقبہ کے حکم سے اس کے درخت کاٹنے لگ گئے۔ اس کے بعد اہل افریقہ نے چالیس سال تک قیروان میں قیام کیا مگر کسی کو کوئی سانپ، بچھو یا کوئی درندہ نظر نہ آیا۔ حضرت عقبہؓ نے سب سے پہلے دارالامارۃ کی نشان دہی کی بعد ازاں مسجد کی جگہ پر آئے اور اس کی نشاندہی کی۔ مگر اس کی عمارت کھڑی نہ کی اور اسی طرح خالی زمین پر ہی نماز پڑھتے رہے۔ لوگوں نے قبلہ کے بارے میں اختلاف کیا تو وہ کہنے لگے: تمام اہل مغرب اس مسجد کے رخ پر ہی اپنے قبلہ کا تعین کریں گے، لہٰذا اسے سیدھا رکھنے کے لیے تمام مساعی بروئے کار لائی جائیں، چنانچہ وہ لوگ ایک عرصہ تک موسم سرما اور موسم گرما میں ستاروں اور سورج کے طلوع اور غروب ہونے کی جگہوں کا مشاہدہ کرتے رہے، مگر جب پھر بھی وہ قبلہ کی سمت پر متفق نہ ہو سکے تو انہوں نے پریشانی کی حالت میں اللہ تعالیٰ سے اس مشکل کے خاتمہ کی دعا کی۔ پھر جب وہ سو رہے تھے تو ان کے پاس کوئی آنے والا آیا اور کہنے لگا: جب صبح ہو تو پرچم اٹھا کر اسے اپنی گردن پر رکھ لینا۔ اس دوران تم اپنے آگے تکبیر کی آواز سنو گے جسے تمہارے علاوہ کوئی دوسرا مسلمان نہیں سن سکے گا، پھر اس جگہ کا خیال رکھنا جہاں تکبیر کی آواز آنا بند ہو جائے۔ بس وہی جگہ تمہارا قبلہ اور تمہاری محراب ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے اس لشکر کی ادا پسند آئی اور اس نے اس شہر اور اس مسجد کو بھی پسند فرمایا۔ عنقریب اللہ تعالیٰ اس شہر کی وجہ سے اپنے دین کو عزت و قوت دے گا اور کفار کو کمزور اور ذلیل کرے گا۔ عقبہ پریشانی کے عالم میں نیند سے بیدار ہوئے، وضو کیا اور مسجد میں نماز پڑھنے لگے، اس وقت کئی معززین بھی آپ کے ساتھ تھے۔ پھر جب صبح طلوع ہوئی تو انہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر صبح کی نماز ادا کی اور پھر اپنے آگے تکبیر کی آواز سنی۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: کیا تم وہ آواز سن رہے ہو جو میں سن رہا ہوں؟ انہوں نے کہا: نہیں۔ اس سے انہیں یقین ہو گیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے، چنانچہ انہوں نے جھنڈا پکڑا، اسے اپنی گردن پر رکھا اور پھر تکبیر کی آواز کے ساتھ ساتھ چلنے لگے۔ جب آپ محراب کی جگہ میں پہنچے تو تکبیر کی آواز آنا بند ہو گئی۔ آپ نے اس جگہ جھنڈا نصب کر دیا اور فرمانے لگے: یہ ہے تمہاری محراب۔ شہر کی تمام مساجد نے اسی محراب کی اقتداء کی، پھر اس شہر کی قدر و منزلت اس قدر بڑھ گئی کہ لوگ دور دراز کے مقامات سے وہاں آنے لگے۔ حضرت عقبہؓ مستجاب الدعوات، بڑے اچھے والی اور بڑے اچھے امیر تھے۔
(البیان المغرب فی اخبار الاندلس و المغرب: جلد 1 صفحہ 19، 21۔ الکامل فی التاریخ: جلد 2 صفحہ 484۔ فتوح مصر: صفحہ 133۔ اس واقعہ کی سند صحیح ہے)
حضرت عقبہؓ کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعہ میں بڑا سامان عبرت ہے، جب انہوں نے وحشی جانوروں اور دیگر جانوروں کو آواز دی تو وہ حضرت عقبہؓ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وہ جگہ چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے۔ یہ ان کی وہ کرامت تھی جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کی عزت فرمایا کرتا تھا کیونکہ وہ ان سے اسلام کی نصرت و معاونت اور زمین میں اس کی نشر و اشاعت چاہتا ہے۔ اللہ رب کائنات نے جانوروں کو حضرت عقبہؓ کی گفتگو سنائی اور ان کے دلوں میں ان کا خوف پیدا کر دیا۔ انہوں نے عقل و ادراک رکھنے والوں کی طرح ان کی بات سنی اور اس کی اطاعت بھی کی۔ ابن الاثیر رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ ان کی یہ کرامت دیکھ کر کئی بربر قبائل مسلمان ہو گئے۔
(فتوح مصر: صفحہ 133۔ التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 249)
بعض محققین نے حضرت عقبہؓ کے اس واقعہ کو راویوں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے اسے ایک کہانی قرار دیا ہے اور اس کی یہ علت بیان کی ہے کہ جانوروں نے اسلامی لشکر کے شوروغل کو سنا تو وہ گھبرا گئے اور پھر گھبراہٹ کے عالم میں اپنے بچوں کو اٹھایا اور جنگل سے بھاگ کھڑے ہوئے مگر یہ تاویل انتہائی حیران کن ہے۔ اس قسم کے باحثین اس چیز کو ردّ کرنے میں کوئی دیر نہیں لگاتے جسے عقل مجرد تسلیم کرنے سے انکار کرتی ہو، مگر اس جگہ وہ صحیح تفکر کو پس پشت ڈال دیا کرتے ہیں، وہ مؤرخین کی اس رائے کو بھی تسلیم نہیں کرتے جو اس اور اس جیسے دیگر واقعات کو خارق عادت امور کے طور پر روایت کرتے ہیں اور وہ انہیں اس بنا پر سادگی کے ساتھ متہم کر دیتے ہیں کہ وہ لوگوں کی زندگی میں پیش آنے والے عادی امور و واقعات کو قصے کہانیوں سے مشابہ قرار دے دیتے ہیں۔ فکر صحیح کا فیصلہ یہ ہے کہ ان کی یہ تاویل عقل سلیم کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہے، اس لیے کہ وحشی درندے اور خشکی کے جانور خوف زدہ ہونے پر اپنے پر امن ٹھکانوں اور بلوں کی طرف بھاگتے ہیں نہ کہ باہر کی طرف۔ پھر اگر لشکر اسلام سے خوفزدہ ہو کر ان کا بھاگ جانا معمول ہی تھا تو اس میں تو بربر قبائل کو حیران کرنے والی اور انہیں قبول اسلام پر آمادہ کرنے والی کوئی بات نہیں تھی۔ نیز اس میں کوئی ایسی بات بھی نہیں تھی جو مؤرخین کی ایک جماعت کو اس حیران کن واقعہ کو روایت کرنے پر آمادہ کرتی۔ زیاد بن عجلان سے مروی ہے کہ اس واقعہ کے چالیس سال بعد تک بھی اگر اہل افریقہ ایک ہزار دینار کے بدلے ایک سانپ یا بچھو تلاش کرنا چاہتے تو وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکتے۔
(فتوح مصر: صفحہ 133۔ التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 249)
حضرت عقبہؓ کا خواب اور دوران خواب قبلہ کی تحدید ان کی دوسری کرامت ہے۔ جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس مشکل کو آسان بنا دیا کہ وہ ابھی تک قبلہ کی تحدید کرنے سے قاصر رہے تھے۔ یہ بھی ایک مقصد ہے جس کے لیے اللہ تعالیٰ اپنے نیک اولیاء کے ہاتھوں ان کی کرامت کو ظاہر فرمایا کرتا ہے۔ حضرت عقبہؓ مستجاب الدعوات شخص تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے ان کی اور مسلمانوں کی پریشانی کا ازالہ فرما دیا۔
(التاریخ الاسلامی: جلد 13 صفحہ 249)
اہل السنہ و الجماعہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی کرامات کا اثبات کرتے ہیں۔ اولیاء اللہ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اطاعت گزار ہوتے ہیں اور اللہ کے اوامر و نواہی کا التزام کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے ملائکہ کے ساتھ ان کی تائید کرتا اور ان کے دلوں میں اپنے انوار رکھ دیتا ہے۔ ان سے کچھ ایسی کرامات کا صدور ہوتا ہے جن کے ساتھ اللہ عزوجل اپنے متقی اولیاء کی تکریم کرتا ہے۔ اولیائے کرام سے کرامات کا ظہور کسی دینی ضرورت یا مسلمانوں کی ضرورت کے پیش نظر ہوا کرتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں معجزات کا صدور بھی انہی مقاصد کے لیے ہوا کرتا ہے۔ اولیائے کرام کے ہاتھوں کرامات کا حصول آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی برکت کی وجہ سے ہوا کرتا ہے۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 11 صفحہ 274)
اس بات سے آگاہ رہنا ضروری ہے کہ کبھی کرامات کا ظہور لوگوں کی ضروریات کی وجہ سے بھی ہوا کرتا ہے۔ ضعیف الایمان یا کوئی ضرورت مند شخص جب اپنی آنکھوں سے کرامات کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے یا اس کی ضرورت پوری ہو جاتی ہے جبکہ اس سے زیادہ کامل الایمان شخص کو اس کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ کرامات کا صدور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے زیادہ تابعین رحمہم اللہ سے ہوا۔
(مجموع الفتاویٰ: جلد 11 صفحہ 273)
اولیائے کرام کی کرامات پر ایمان رکھنا اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
(الانحرافات العقدیۃ و العلمیۃ: جلد 1 صفحہ 507)