62ھ میں سجستان میں صلہ بن اشیم اور ان کے بیٹے کی شہادت
علی محمد الصلابیالخامس عشر: 62ھ میں سجستان میں صلہ بن اشیم اور ان کے بیٹے کی شہادت
ابو الصھباء صلہ بن اشیم عدوی بصری بڑے زاہد و عابد، شب زندہ دار اور بہترین نمونہ حیات تھے، آپ عالمہ فاضلہ خاتون، معاذہ عدویہ کے شوہر تھے۔ آپ نے اسلامی معاشرہ میں بڑا اہم اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ثابت کہتے ہیں: ایک آدمی انہیں ان کے بھائی کی وفات کی اطلاع دینے کے لیے آیا تو آپ نے اس سے فرمایا: آگے آئیں اور کھانا کھائیں، مجھے میرے بھائی کی موت کی خبر کافی دیر پہلے سے مل چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
اِنَّكَ مَيِّتٌ وَّاِنَّهُمۡ مَّيِّتُوۡنَ ۞
(سورۃ الزمر آیت نمبر 30)
ترجمہ: (اے پیغمبر) موت تمہیں بھی آنی ہے اور موت انہیں بھی آنی ہے۔
ان کی کئی کرامات بیان کی جاتی ہیں۔ حماد بن جعفر بن زیاد سے مروی ہے کہ اس کے باپ نے اسے خبر دی کہ ہم کچھ غازیان اسلام کے ساتھ کابل کی طرف روانہ ہوئے، اس لشکر میں صلہ بھی موجود تھے۔ جب لشکر نے ایک جگہ پڑاؤ کیا تو میں نے کہا: آج میں دیکھوں گا کہ یہ کیا کرتے ہیں، انہوں نے نماز پڑھی، پھر لیٹ گئے اور لوگوں کی بے خبری کا انتظار کرنے لگے، پھر وہ جلدی سے اٹھے اور درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئے، ان کے پیچھے میں بھی اس میں داخل ہو گیا، انہوں نے وضو کیا اور نماز پڑھنے لگے۔ اس دوران شیر آیا اور چلتے چلتے ان کے قریب پہنچ گیا مگر میں درخت پر چڑھ گیا، میں نے دل ہی دل میں کہا: اب یہ انہیں چیر پھاڑ دے گا، مگر کچھ بھی نہ ہوا۔ انہوں نے سلام پھیرا تو کہنے لگے: ارے درندے! اپنا رزق کسی اور جگہ سے تلاش کر۔ اس پر شیر چنگھاڑتا ہوا واپس چلا گیا، جب صبح ہوئی تو انہوں نے بیٹھ کر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور پھر فرمانے لگے: یا اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے جہنم سے بچا لینا، کیا میرے جیسا کوئی انسان تجھ سے جنت کا سوال کرنے کی جرأت کر سکتا ہے؟
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 499)
علاء بن ہلال کہتے ہیں: ایک آدمی نے حضرت صلہ سے کہا: میں نے خواب میں دیکھا کہ مجھے ایک بار شہید کیا گیا اور تمہیں دو بار۔ آپ نے فرمایا: تجھے بھی شہید کر دیا جائے گا اور مجھے بھی اور میرے بیٹے کو بھی۔ پھر جب یزید بن زیاد کا دور آیا تو سجستان میں ترک ان کے مقابلے میں آئے اور پھر شکست سے دوچار ہوئے، صلہ نے اپنے بیٹے سے کہا: بیٹا! تم اپنی ماں کے پاس چلے جاؤ۔ اس نے کہا: ابا جان! تم اپنے لیے تو خیر چاہتے ہو جبکہ مجھے واپس جانے کا حکم دے رہے ہو۔ صلہ نے فرمایا: تو پھر آگے بڑھو۔ وہ آگے بڑھا اور جنگ کرنے لگا یہاں تک کہ زخمی ہو گیا اور آخرکار جام شہادت نوش کر لیا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 500)
حماد بن سلمہ کہتے ہیں: ہمیں ثابت نے خبر دی کہ حضرت صلہؓ ایک جنگ میں شریک تھے، ان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا، وہ کہنے لگے: بیٹا! آگے بڑھیں اور قتال کریں۔ وہ جنگ میں کود پڑے اور پھر لڑتے لڑتے شہید ہو گئے، پھر حضرت صلہؓ بھی آگے بڑھے اور آخرکار انہیں بھی شہید کر دیا گیا۔ ان کی شہادت کی خبر سن کر عورتیں ان کی زوجہ محترمہ معاذہ کے پاس اکٹھی ہو گئیں تو انہوں نے کہا: اگر تم مجھے مبارک باد دینے کے لیے آئی ہو تو میں تمہیں خوش آمدید کہتی ہوں اور اگر کسی اور مقصد سے آئی ہو تو پھر واپس لوٹ جاؤ۔
(طبقات ابن سعد: جلد 7 صفحہ 137)۔ سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 498)
وہ معرکہ جس میں حضرت صلہ خلعت شہادت سے سرفراز ہوئے 62ھ میں برپا ہوا تھا۔
(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 500)