بیعت یزید کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات
علی محمد الصلابیثانیاً: بیعت یزید کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات
1۔ مشاورت: تاریخی مصادر اس عرصہ کی تحدید کرنے سے قاصر ہیں جس کے دوران سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد اپنے بیٹے یزید کو مسلمانوں کا خلیفہ بنانے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ و بچار کی تھی۔ مگر یہ بات طے ہے کہ انہیں یہ خیال 50ھ کے بعد آیا۔ اس وقت وجود کائنات سعد بن ابو وقاص اور سعید بن یزید بن عمرو جیسے عشرہ مبشرہ کبار صحابہ رضی اللہ عنہم سے خالی ہو چکا تھا۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی وفات ہو چکی تھی، اور قسطنطنیہ کا محاصرہ کرنے والے لشکر کی قیادت کرنے کی وجہ سے یزید کچھ متعارف بھی ہو چکا تھا۔ اس کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حالات کو یزید کی خلافت کے لیے تیار کرنے لگے، زیاد جو قبل ازیں زیاد بن ابیہ کے نام سے معروف تھا اب وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا بھائی بن چکا تھا اور زیاد بن ابوسفیان کہلانے لگا تھا، لہٰذا اس کے ساتھ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کا مشورہ کرنا ضروری ہو چکا تھا۔ یہ مشاورت کیسے ہوئی اور اس بارے زیاد کا کیا کردار رہا؟
(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الاسلامی: جلد 1 صفحہ 189)
طبری فرماتے ہیں: جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کے لیے بیعت لینے کا ارادہ کیا تو انہوں نے زیاد سے مشورہ لینے کے لیے اسے خط لکھا۔ زیاد نے عبید بن کعب نمیری کو بلا کر اس سے کہا کہ مشورہ کے لیے کوئی نہ کوئی قابل اعتماد آدمی مل ہی جاتا ہے اور ہر اک راز کے لیے کوئی نہ کوئی امین بھی میسر آ ہی جاتا ہے۔ دو باتوں نے لوگوں کو خراب کر دیا ہے: افشائے راز اور نااہل لوگوں کی خیر خواہی۔ راز کے بارے میں صرف دو آدمیوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے، ایک تو دین دار شخص جو اخروی اجر و ثواب کی امید رکھتا ہو اور دوسرا دنیا دار آدمی جو شریف النفس ہو اور جسے اپنی عزت کی فکر ہو اور میں نے یہ دونوں باتیں تجھ میں دیکھیں اور مجھے پسند آئیں۔ میں نے تجھے ایک ایسی بات کے لیے اپنے پاس بلایا ہے جس سے میرے نزدیک قلم و قرطاس کا آشنا ہونا بھی درست نہیں۔ امیر المؤمنین نے مجھے لکھا ہے کہ انہوں نے یزید کے لیے بیعت لینے کا مصمم ارادہ کر لیا ہے، انہیں لوگوں کے متنفر ہونے کا ڈر بھی ہے اور وہ ان کی موافقت و مطابقت کی امید بھی رکھتے ہیں اور وہ اس بارے میں مجھ سے مشورہ طلب کرتے ہیں، مگر اسلام کے ساتھ تعلق اور ذمہ داری بہت بڑی چیز ہے، یزید بڑا کاہل و سست آدمی ہے نیز وہ شکار کا بھی بڑا شوقین ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ تم امیر المؤمنین کے پاس جاؤ اور انہیں یزید کے بارے میں میرے تاثرات سے آگاہ کرو اور انہیں کہو کہ تأمل سے کام لیں اور جلدی نہ کریں۔ آپ جو کچھ چاہتے ہیں وہی ہو گا، عجلت سے کام نہ لیں جس تأخیر سے مقصد حاصل ہو جائے وہ اس تعجیل سے بہتر ہے جس سے مقصد چھوٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ اس پر عبید نے اس سے کہا: تیرے ذہن میں اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے؟ زیاد نے کہا: اس کے علاوہ کیا بات ہو سکتی ہے؟ اس نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی رائے پر اعتراض کرنا درست نہیں ہے اور نہ انہیں ان کے بیٹے سے متنفر کرنا ہی صحیح ہے۔ میں معاویہ رضی اللہ عنہ سے چھپ کر یزید سے ملاقات کروں گا اور اسے تیری طرف سے بتاؤں گا کہ امیر المؤمنین نے تمہاری بیعت کے لیے اس سے مشورہ طلب کیا ہے۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمہاری بعض باتوں سے لوگ بیزار ہیں، لہٰذا میری یہ رائے ہے کہ لوگ تمہاری جن باتوں کو ناپسند کرتے ہیں انہیں ترک کر دو اس طرح امیر المؤمنین کی پوزیشن مضبوط ہو جائے گی اور جو کام تم چاہتے ہو وہ بھی آسانی سے ہو جائے گا۔ اس طرح تم یزید کے بھی خیرخواہ ٹھہرو گے اور امیر المؤمنین کو بھی خوش رکھ سکو گے اور امت کی ذمہ داری کا تمہیں جو خوف لاحق ہے تم اس سے بھی بچے رہو گے۔
اس کی یہ باتیں سن کر زیاد کہنے لگا: تمہاری رائے تیر بہدف ہے، اب خیر و برکت سے روانہ ہو جاؤ، اگر تمہاری رائے درست ہوئی تو ٹھیک اور اگر کوئی غلطی ہو گئی تو اللہ نے چاہا تو اس میں بھی خیر ہو گی، عبید نے یزید سے ملاقات کی اور اس سے مذاکرات کیے۔ دوسری طرف زیاد نے سیدنا معاویہؓ کو انتظار کرنے کے لیے لکھا۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 221)
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس کی اس رائے کو تسلیم کر لیا اور یزید نے بھی اپنے اکثر افعال ترک کر دئیے۔
(ایضاً: جلد 6 صفحہ 221)
اس نص کی تحلیل سے مندرجہ ذیل حقائق سامنے آتے ہیں:
الف: اس سوچ کا آغاز سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہوا اور انہیں اس امر کا بخوبی ادراک تھا کہ وہ خطرناک قدم اٹھا رہے ہیں جو پہلے نہیں ہوا، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اس بارے مشاورت کے لیے زیاد کا انتخاب کیا، اور زیاد وہ شخص ہے جس کے بارے میں اصمعی فرماتے ہیں: عربوں میں چار لوگ بڑے اصحاب بصیرت ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ غور و فکر کے لیے، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اچانک پیش آمدہ مسئلہ کے حل کے لیے، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ مشکلات کے حل کے لیے اور زیاد ہر چھوٹے بڑے مسئلہ کے لیے۔ زیاد نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو انتظار کی پالیسی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تو انہوں نے اسے قبول کر لیا اور پھر زیاد کی وفات کے بعد ہی اس پُر اَز خطر کام کی طرف کوئی پیش قدمی کی۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الاسلامی: جلد 1 صفحہ 191)
طبری فرماتے ہیں: جب زیاد فوت ہو گیا تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک تحریر نکالی اور اسے لوگوں کے سامنے پڑھا، وہ تحریر یزید کو خلیفہ بنانے کے مضمون پر مشتمل تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد یزید خلیفہ ہو گا، یہ سن کر پانچ لوگوں کے علاوہ باقی سب لوگ یزید کی بیعت پر تیار ہو گئے۔
(تاریخ طبری: جلد 6 صفحہ 221)
ب: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ ان کی زندگی میں ہی یزید کی بیعت کر لیں۔ یہ بھی ایک نئی بات تھی جس کی قبل ازیں کوئی مثال نہیں ملتی۔ لوگوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد ہی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی۔
ج: زیاد نے صورت حال کی سنگینی کو محسوس کر لیا تھا، یہی وجہ ہے کہ اس نے شروع میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام اپنا مشورہ لکھ بھیجنا پسند نہ کیا، بلکہ اسے اپنے قاصد عبیداللہ بن کعب نمیری کے سپرد کرنا چاہا تاکہ وہ اسے معاویہ کے حوالے کریں۔ جس سے مقصود اس خبر کو مخفی رکھنا تھا تاکہ کوئی ناگوار صورت حال پیدا نہ ہو۔ اسی لیے اس نے عبید سے کہا تھا کہ میں نے تجھے ایک ایسی بات کرنے کے لیے یہاں بلایا ہے جس کا میرے نزدیک قلم سے آشنا ہونا بھی درست نہیں ہے۔
د: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے متنفر ہونے سے خائف تھے اس لیے کہ خلیفہ کی زندگی میں اس کے بیٹے کے لیے ولی عہدی کوئی معمولی بات نہیں تھی اور اس کی قبل ازیں کوئی مثال بھی نہیں ملتی تھی۔
ھ: زیاد امت کے بارے میں یزید سے ڈرتا تھا، اسی لیے تو اس نے کہا تھا، اسلام کا تعلق اور ذمہ داری بہت بڑی چیز ہے، میں دیکھتا ہوں کہ یزید کے مزاج میں کاہلی اور سہل انگاری ہے، مزید یہ کہ وہ شکار کا گرویدہ ہے۔
و: زیاد نے آخرکار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ دیا مگر انہیں عجلت پسندی سے اجتناب کرنے کے لیے کہا اور جسے انہوں نے قبول کر لیا۔
(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الاسلامی: جلد 1 صفحہ 192)
اس حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے احنف بن قیسؓ سے بھی مشاورت کی تھی۔ مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کیا تو اسے ایک سرخ رنگ کے خیمہ میں بٹھا دیا، لوگ آتے، معاویہ رضی اللہ عنہ کو سلام کہتے ہیں اور پھر یزید کی طرف متوجہ ہوتے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی آیا اور اس نے بھی ایسا ہی کیا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دوبارہ آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! مجھے علم ہے کہ اگر تم نے اسے مسلمانوں کے امور کا نگران نہ بنایا تو ان اُمور کو ضائع کر دو گے۔ اس وقت احنف بن قیسؓ بھی وہاں بیٹھے تھے، ان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ابو بحر! آپ کوئی بات نہیں کر رہے؟ وہ کہنے لگے: اگر میں جھوٹ بولوں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور اگر سچ کہوں تو پھر تم سے ڈرتا ہوں۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اطاعت گزاری کی وجہ سے جزائے خیر عطا فرمائے اور پھر انہیں کئی ہزار دینے کا حکم دیا، جب وہ باہر نکلے تو دروازے پر وہی شخص آپ سے ملا اور کہنے لگا: ابو بحر! میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ (معاویہ رضی اللہ عنہ ) اور ان کا بیٹا اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔ انہوں نے یہ اموال دروازوں اور تالوں میں بند کر رکھے ہیں اور جنہیں ہم اس طرح ہی نکال سکتے ہیں اس پر احنف کہنے لگے: خاموش ہو جا۔ اس لیے کہ دو چہروں والا اس لائق ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک باعزت اور پسندیدہ نہ ہو۔
(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ: صفحہ 458)