بیعت یزید کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات -…

بیعت یزید کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اقدامات

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ج: زیاد نے صورت حال کی سنگینی کو محسوس کر لیا تھا، یہی وجہ ہے کہ اس نے شروع میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام اپنا مشورہ لکھ بھیجنا پسند نہ کیا، بلکہ اسے اپنے قاصد عبیداللہ بن کعب نمیری کے سپرد کرنا چاہا تاکہ وہ اسے معاویہ کے حوالے کریں۔ جس سے مقصود اس خبر کو مخفی رکھنا تھا تاکہ کوئی ناگوار صورت حال پیدا نہ ہو۔ اسی لیے اس نے عبید سے کہا تھا کہ میں نے تجھے ایک ایسی بات کرنے کے لیے یہاں بلایا ہے جس کا میرے نزدیک قلم سے آشنا ہونا بھی درست نہیں ہے۔

د: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کے متنفر ہونے سے خائف تھے اس لیے کہ خلیفہ کی زندگی میں اس کے بیٹے کے لیے ولی عہدی کوئی معمولی بات نہیں تھی اور اس کی قبل ازیں کوئی مثال بھی نہیں ملتی تھی۔

ھ: زیاد امت کے بارے میں یزید سے ڈرتا تھا، اسی لیے تو اس نے کہا تھا، اسلام کا تعلق اور ذمہ داری بہت بڑی چیز ہے، میں دیکھتا ہوں کہ یزید کے مزاج میں کاہلی اور سہل انگاری ہے، مزید یہ کہ وہ شکار کا گرویدہ ہے۔

و: زیاد نے آخرکار سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے نام خط لکھ دیا مگر انہیں عجلت پسندی سے اجتناب کرنے کے لیے کہا اور جسے انہوں نے قبول کر لیا۔

(نظام الحکم فی الشریعۃ و التاریخ الاسلامی: جلد 1 صفحہ 192)

اس حوالے سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے احنف بن قیسؓ سے بھی مشاورت کی تھی۔ مروی ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے جب اپنے بیٹے یزید کو ولی عہد مقرر کیا تو اسے ایک سرخ رنگ کے خیمہ میں بٹھا دیا، لوگ آتے، معاویہ رضی اللہ عنہ کو سلام کہتے ہیں اور پھر یزید کی طرف متوجہ ہوتے۔ یہاں تک کہ ایک آدمی آیا اور اس نے بھی ایسا ہی کیا، پھر معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس دوبارہ آیا اور کہنے لگا: امیر المؤمنین! مجھے علم ہے کہ اگر تم نے اسے مسلمانوں کے امور کا نگران نہ بنایا تو ان اُمور کو ضائع کر دو گے۔ اس وقت احنف بن قیسؓ بھی وہاں بیٹھے تھے، ان سے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ابو بحر! آپ کوئی بات نہیں کر رہے؟ وہ کہنے لگے: اگر میں جھوٹ بولوں تو اللہ سے ڈرتا ہوں اور اگر سچ کہوں تو پھر تم سے ڈرتا ہوں۔ اس پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اطاعت گزاری کی وجہ سے جزائے خیر عطا فرمائے اور پھر انہیں کئی ہزار دینے کا حکم دیا، جب وہ باہر نکلے تو دروازے پر وہی شخص آپ سے ملا اور کہنے لگا: ابو بحر! میں بخوبی جانتا ہوں کہ یہ (معاویہ رضی اللہ عنہ ) اور ان کا بیٹا اللہ کی مخلوق میں سے بدترین لوگ ہیں۔ انہوں نے یہ اموال دروازوں اور تالوں میں بند کر رکھے ہیں اور جنہیں ہم اس طرح ہی نکال سکتے ہیں اس پر احنف کہنے لگے: خاموش ہو جا۔ اس لیے کہ دو چہروں والا اس لائق ہے کہ وہ اللہ کے نزدیک باعزت اور پسندیدہ نہ ہو۔

(الشہب اللامعۃ فی السیاسۃ النافعۃ: صفحہ 458)



صفحہ 2 از 2