Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل شام کا یزید کی بیعت کو قبول کرنا

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو اس بات کا مکمل ادراک تھا کہ اہل شام منصب خلافت کو بنو امیہ میں باقی رکھنے کے حریص ہیں۔ اہل شام کے لیے خلافت میں وراثت کوئی نئی بات نہیں تھی، وہ اپنے اوپر بیزنطیوں کی حکومت کے ایام میں اس سے بخوبی آگاہ ہو چکے تھے۔ بلکہ بعض عراقی بھی ایک خاص نکتہ نظر سے اس تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار تھے، اور وہ یوں کہ ان کے خیال میں اہل بیت منصب خلافت کے زیادہ حق دار ہیں اور یہ کہ خلافت انہیں میں ہی موجود رہنی چاہیے، اس حوالے سے وہ فتح اسلامی سے قبل اس علاقے پر ساسانی نظام حکومت سے متاثر تھے۔

(مسند احمد: جلد 2 صفحہ 235۔ حسن لغیرہ)

اہل شام نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے اس رغبت کو پورا کر دیا کہ یزید ان کا ولی عہد ہو، اور انہوں نے یزید کی بیعت پر اتفاق کر لیا اور انہیں اس کے لیے کسی قسم کی مخالفت کا سامنا نہ کرنا پڑا

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 211۔ مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 89)

اس کے بعد اہل شام نے دیگر شہروں مثلاً حجاز وغیرہ میں بھی یزید کے لیے بیعت لینے میں اہم کردار ادا کیا۔

(تاریخ فلسطین: ہانی ابو الرب: صفحہ 319، 320 البیان و التبیین: جلد 1 صفحہ 392)