بیعت وفود
علی محمد الصلابیمختلف صوبوں سے وفود کی آمد کے بعد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے شام میں ایک بڑا اجتماع منعقد کیا، یہ وفود عرب قبائل کے مختلف سرکردہ لوگوں پر مشتمل تھے، مثلاً شام سے: ضحاک بن قیس الفہری، ثور بن معن السلمی، عبداللہ بن عضاۃ الاشعری، عبداللہ بن مسعدہ الفزاری، عبدالرحمن بن عثمان الثقفی، حسان بن مالکبن بحدل الکلبی وغیرہ۔
(مختصر تاریخ دمشق: جلد 3 صفحہ 386۔ مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 89)
اہل مدینہ سے عمرو بن حزم الانصاری آپ اس مجلس کے آخر میں تشریف لائے تھے اور اہل بصرہ سے احنف بن قیس التمیمی۔ ان تمام زعماء نے گفتگو کے دوران اس تجویز کو قبول کرتے ہوئے اس کی تعریف کی، انہوں نے اس بات کی تاکید کی کہ یہ طریقہ مسلمانوں کو فتنہ و فساد اور خون ریزی سے بچانے کے لیے کارگر ثابت ہو گا اور وہ باہمی اختلاف سے بھی محفوظ رہیں گے
(مواقف المعارضۃ فی خلافۃ یزید: صفحہ 90)
اور اس طرح یزید کے ولی عہد ہونے کی بیعت مکمل ہو گئی، مگر یہاں یہ بات بتا دینا ضروری ہے کہ عمرو بن حزم انصاری اس اجتماع میں شریک نہیں ہوئے تھے اور اس کی دو وجوہات تھیں:
1۔ اہل مدینہ اس بیعت سے متفق نہیں تھے بلکہ وہ بڑی سختی کے ساتھ اس کے مخالف تھے یہی وجہ ہے کہ انہوں نے وفود کے اس اجلاس میں شریک ہونے کے لے اپنا کوئی نمائندہ نہیں بھیجا تھا۔
2۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عمرو بن حزم کے ساتھ ملاقات کرنے سے انکار کر دیا تھا، اور اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ انہیں اہل مدینہ کی مخالفت کی خبر مل چکی تھی اور یہ کہ عمرو بن حزم کا شمار بھی ان مخالفین میں ہوتا ہے، لہٰذا سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ خوف لاحق تھا کہ اگر وہ اس اجتماع میں شریک ہوئے تو وہ آراء کو منقسم کر دیں گے اور ان کی مخالفت کی وجہ سے ایک ہنگامہ برپا ہو جائے گا، لہٰذا انہوں نے ان سے اجتماع کے آخر میں اور اکیلے میں ملاقات کی، اور پھر وہی کچھ ہوا جس کا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو خدشہ تھا، مگر انہوں نے ان کی تنقید کو برداشت کیا اور انہیں بھاری عطیہ دے کر رخصت کیا۔
( مجمع الزوائد: جلد 7 صفحہ 248، 249 صحیح الاسناد