Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اہل مدینہ سے بیعت کا مطالبہ

  علی محمد الصلابی

سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صوبوں کی طرح اہل مدینہ کی طرف بھی خط لکھ کر اس کے امیر سے یزید کے لیے بیعت لینے کا مطالبہ کیا۔

(العقد الفرید: جلد 4 صفحہ 370، 372۔ مواقف المعارضۃ: صفحہ 98)

مدینہ منورہ کا امیر مروان بن حکم خطبہ دینے کے لیے اٹھا لوگوں کو اطاعت امیر کی ترغیب دلائی، فتنہ سے خبردار کیا اور انہیں یزید کی بیعت کی دعوت دی، امیر شہر نے کہا کہ یہ  سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی سنت ہے اور اس کے لیے اس نے یہ دلیل پیش کی کہ انہوں نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو ولی عہد مقرر کیا تھا، مگر عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کے اس مؤقف کی سختی سے تردید کی 

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 99۔ مجمع الزوائد: جلد 5 صفحہ 241۔ اس کی سند حسن ہے۔)

اور انہوں نے اس بیعت اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کے درمیان کسی مشابہت کی نفی کرتے ہوئے فرمایا: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے اہل خانہ اور خاندان کو چھوڑ کر عدی بن کعب کی اولاد میں سے ایک شخص کا انتخاب کیا تھا اور یہ انتخاب ان کی اہلیت کی بنیاد پر تھا، لہٰذا انہوں نے ان سے بیعت کر لی، انہوں نے مزید فرمایا: یہ بیعت ہرقل اور کسریٰ کی بیعت جیسی ہے۔ اس گفتگو کی وجہ سے عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ اور مروان کے درمیان نزاع کھڑا ہو گیا۔

(مجمع الفوائد: جلد 5 صفحہ 241۔ اس کی سند حسن ہے)

دوسری روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے فرمایا: بنو امیہ کے لوگو! تم تین چیزوں سے کسی ایک کا انتخاب کر لو، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنا لو، سیدنا بوبکر رضی اللہ عنہ کی سنت کو اپنا لو یا پھر سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سنت کو اختیار کر لو، تم لوگ خلافت کو قیصریت میں تبدیل کرنا چاہتے ہو کہ جب ایک قیصر مر جائے تو اس کی جگہ دوسرا قیصر لے لے۔

(بخاری: رقم الحدیث: 4827)

اس پر مروان نے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دے دیا، مگر وہ بھاگ کر سیدہ  عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہو گئے اور اس طرح مروان انہیں گرفتار کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔

(بخاری: رقم الحدیث: 4827) 

قبل ازیں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یزید کی بیعت کے لیے مروان کے نام جو خط لکھا تھا اس میں یزید کا نام نہیں تھا۔ اس خط میں صرف یہ تحریر کیا گیا تھا: میں بوڑھا ہو چکا ہوں اور مجھے ڈر ہے کہ میرے بعد امت اسلامیہ میں اختلاف پیدا ہو جائے گا، میں چاہتا ہوں کہ کسی ایسے آدمی کا انتخاب کروں جو میرے بعد منصب خلافت سنبھال سکے مگر میں تجھ سے مشورہ کیے بغیر کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا، لوگوں کے سامنے میری یہ تجویز پیش کرو اور مجھے ان کے جواب سے مطلع کرو۔ مروان نے لوگوں کو اس سے آگاہ کیا تو انہوں نے کہا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ فیصلہ درست کیا، ہم چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے ایسے آدمی کے انتخاب میں کوئی کوتاہی نہ کریں، اور اس کے لیے اپنی تمام کاوشوں کو بروئے کار لائیں۔

(المدینۃ فی العصر الاموی: صفحہ 88، نقلا عن الکامل فی التاریخ)

مگر جب دوسری دفعہ مروان نے یزید کا نام لیا تو اہل مدینہ نے آغاز کار میں ہی اس سے انکار کر دیا اور عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان کے جذبات کی ترجمانی کی۔

(مواقف المعارضۃ: صفحہ 99)

مذکورہ بالا واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ مروان بن حکم اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا جس کے لیے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اسے مکلف ٹھہرایا تھا، چنانچہ انہوں نے خود حجاز آ کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے موقف سے آگاہ ہونے کا فیصلہ کیا، چنانچہ آپ ماہ رجب 56ھ میں عمرہ کرنے کے لیے حجاز تشریف لائے۔

(البدایۃ و النہایۃ: جلد 11 صفحہ 305)

جب عبدالرحمٰن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی آمد کا علم ہوا تو وہ مدینہ منورہ سے نکل کر مکہ مکرمہ جا پہنچے۔

(التاریخ الصغیر للبخاری: جلد ۱ صفحہ 103۔ اس کی سند حسن ہے)

جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ  مدینہ منورہ آئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے انہیں یزید کی بیعت کرنے کی ترغیب دلائی اور ان پر واضح کیا کہ یزید دوسروں سے زیادہ خلافت کا حق دار ہے۔

(تاریخ خلیفۃ: صفحہ 213، 214۔ اس کی سند حسن ہے)

پھر کہنے لگے: ہم نے یزید کی بیعت کر لی ہے اس پر لوگوں نے بھی اس سے بیعت کر لی۔

(الاباطیل و المناکیر و الصحاح و المشاہیر: جلد 1 صفحہ 262۔ اس کی سند صحیح ہے)

یوں لگتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے اس خدشے کا ذکر کیا تھا کہ اگر ابن عمر رضی اللہ عنہما وغیرہ نے یزید کی بیعت سے انکار کیا تو انہیں جان سے ہاتھ دھونے پڑ سکتے ہیں۔ انہیں یہ خدشہ اہل شام کی طرف سے تھا جن کے نزدیک اس بات کا تصور کرنا بھی ناممکن تھا کہ کوئی شخص امیر المؤمنین سے کسی ایسے مسئلہ کے بارے میں اختلاف کر سکتا ہے جس پر لوگوں کی اکثریت کا اتفاق ہو چکا ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! یا تو ابنِ عمر بیعت کریں گے یا پھر میں انہیں قتل کر ڈالوں گا۔ جب یہ خبر عبداللہ بن صفوان کو ملی تو وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور اس خبر کی صحت کی صورت میں ان سے لڑنے کے لیے تیار ہو گئے۔

(التقریب: صفحہ 308۔ آپ ابن زبیر رضی اللہ عنہما کے ساتھ 73ھ میں کعبہ مشرفہ میں مقتول ہوئے)

مگر پھر جب انہوں نے اس بارے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے اسے تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے فرمایا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو میں قتل کروں گا؟ اللہ کی قسم! میں انہیں قتل نہیں کر سکتا۔

( الطبقات: جلد 4 صفحہ 83۔ صحیح سند کے ساتھ۔ مواقف المعارضۃ: صفحہ 101، 102)